خادمہ کا بار بار باتھ روم جانہ سعودی خاتون کو شک میں مبتلا کر دیا جب عورت نے ملازمہ کا پیچھا کر کے دیکھا تو اسکے ہوش اڑ گے

تازہ خبر 92! حالات اور مجبوری انسان سے کیا کیا کروا دیتی ہےجان کر آپ کے دکھ کی انتہاء نہیں رہے گی جانئیے ایک سعودی عرب کی خاتون نے نوٹ کیا کہ اس کی گھریلو خادمہ باتھ روم میں بار بار جاتی ہے اور کافی وقت گزارتی ہے اور اس دوران اندر سے ٓعجیب آوازیں بھی آتی ہے ۔

جب اس نے خود جا کر دیکھا تو اس کے ہوش اڑ گئےتفصیلات کے مطابق سعودی خاتون نے دیکھا کہ اس کی خادسمی بار بار باتھ روم جاتی ہے شروع میں تو اس نے سوچا کہ شاید اسے کوئی تکلیف ہے اس لئے بار بار جاتی ہے لیکن کچھ دنوں بعد یہ معمول برقرار رہا اور اس کے ساتھ آوازیں بھی آنے لگی اس کے ساتھ اس کو شک ہوا کہ شاید کوئی گڑ بڑ ہے۔ اب خاتون نے ایک کام شروع کر دیا کہ جیسے ہی خادمہ اندر جاتی تو یہ کان لگا کر کھڑی ہوجاتی ۔اور جب وہ باہر آتی تویہ فورا اندر جا کر دیکھتی کہ کیا معاملہ ہے لیکن وہاں کوئی ایسی بات نہیں ہوتی تھی جس کی وجہ سے کوئی شک ہو جائے یا معلوم ہو کہ کچھ گڑ بڑ ہے ۔ صرف اس کو درد کی وجہ سے ہونے والی آواز سنائی دیتی تھیایک دن اس نے اپنی خادمہ کو بلایا اور اس سے ان آوازوں کے بارے میں پوچھا پہلے تو خادمہ خاموش رہی لیکن اصرار پر اس نے ایک درد بھری کہانی سنا ڈالی ۔ اس خادمہ نے بتایا کہ اس کا ایک دودھ پیتا بچہ ہے

جس کے بارے میں آپ کو نہیں بتایا دن کو میں اسے گھر میں چھوڑ آتی ہو جہاں اس کا والد اس کا خیال رکھتا ہے کیونکہ وہ کام کاج نہیں کر سکتا معذور ہے ۔اب جب دن کو دودھ پینت کا ٹائم ہوتا ہے تو میری چھاتیاں دودھ سے بھر جاتی ہے اور مجھے شدید تکلیف شروع ہو جاتی ہے اس لئے میں بار بار جاتی ہو اور دودھ نکالتی ہوں اس دوران مجھے شدید تکلیف ہوتی ہے جس کو برداشت کرتےہوئے کبھی منہ سے آوازیں بھی نکل جاتی ہے۔ سعودی خاتون نے جب یہ بات سنی تو اسے بہت افسوس ہوا اور اس نے خادمہ کو بچہ ساتھ لانے کی اجازت دی اور ا س کے ساتھ اس کی تنخواہ بھی بڑھا دی تا کہ بہتر طریقہ سے اپنے بچے کی صحت کا خیال رکھ سکے، کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہا ر کیجئیے

About soban

Check Also

سلطان علاؤ الدین کی تلوار اندھی اورجلاد کی طرح ہاتھ ۔۔۔۔؟؟؟

دلچسپ و عجیب سلطان علاؤ الدین کی تلوار اندھی تھی اور ہر وقت جلاد کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *