دلاسہ ہم کودینے کا تماشہ خوب کرتے ہو

میں تو سمجھا دو چارہی ہوں گے تیرے شہر کا ہرشخص منافق ہے۔ ایک بھی کام کی نہیں نکلی ہاتھ بھرا پڑا ہے لکیروں سے ۔ جہاں دل بھر جاتا ہے وہاں بہانے مل ہی جاتے ہیں۔ سوچتا ہوں بناہی ڈالوں ایک فرقہ اداس لوگوں کا۔ اپنے لمحے سنوارنے کی خاطر میری صدیاں بگاڑ دی تونے۔ وہ ڈھونڈے مجھے نگر نگر اور میری خاک بھی نہ ملے اسے ۔ ایسے بھولیں گے تمہیں جیسے تم تھے ہی نہیں ۔ فرق پہلے پڑتاتھا اب اثر بھی نہیں ہوتا ۔میں اگر خود کو مارڈالوں تو کیابچے گا تیر ی کہانی میں ۔

ٹھوکر ضروری تھی حد سے نکل گیا تھا میں۔ یہ اصول ہم نے بنا لیا ۔ نہ ملا کر و، نہ گلہ کرو۔ تنہائی بہتر ہے جھوٹے لوگوں سے ۔ دل ان سے جا ملا جن سے مقدر نہیں ملتا۔ اس نے پوچھا کیا پسند ہے تمہیں ، میں بہت دیر تک اسے دیکھتا رہا۔ مجھ کو تو لاگیا خطاؤں سے ، میری اچھائیاں رائیگا ں نکلیں۔ تعلق اگر روح سے ہو، تو دل نہیں بھرا کرتے ۔ ہاتھ جو ڑ کر کہتا ہوں مارد و مجھے ، زندہ رہا تو تجھ سے کرتا رہوں گا محبت ۔ دشمن بھی ملا تو جان سے پیار املا۔ کسی طور بھی پیچھا نہیں چھوڑتا ،

خیال یا ر بھی بگڑے بخار جیسا ہے۔ قاتل کی یہ دلیل منصف نے مان لی ، م قتو ل خود گراتھا ، خنجر کی نوک پر۔ انا میں لیے گئے فیصلوں کے بعد سرخ جوڑوں میں دیکھے ہیں جنازے اکثر ۔ وہ فخر لیلیٰ میں رشک مجنوں ، کہ یار مجھ میں ، کہ میں یا ر میں۔ تھو ڑی فرصت نکال ہی لینا ، ہم نے کب روز روز مرنا ہے ۔ صفائیاں ختم گوائیاں ختم دل ٹوٹا جان چھوٹی۔ بے قدری تو ہونی تھی ، ہم اس کو میسر جو تھے ۔ تم سے شکو ہ نہیں روئیے کا ، تم سے امید بے تحا شہ تھی۔

جانتے ہو پھر بھی انجان بنتے ہو، اس طرح ہمیں پریشان کرتے ہو، پوچھتے ہو تمہیں کیا پسند ہے؟ جواب خود ہو پھر بھی سوال کرتے ہو۔ پھر یو ں ہوا کہ رفتہ رفتہ ہوگئی بے معنی میری بات بھی میر ی ذات بھی۔ وہ افسانہ جل گیا جس کا عنوان ہم تھے ۔ آج ٹھوکر لگی تو خیال آیا کہاں گئے میرا صدقہ اتارنے والا۔ یادیں کیوں نہیں بچھڑتی، لوگ تو پل میں بچھڑ جاتے ہیں۔

اس بار روٹھیں نہیں اس بار بھلا دیں گے تجھے۔ کتنا میٹھا تھا آپ کا لیجہ ، زہر لگتا ہےاب خدا کی قسم ۔ عشق ہوتا نہیں ، اترتا ہے۔ غار دل میں کسی وحی کی طرح۔ موت آئے تو دن پھرے غالب زندگی نے تو مار ڈالا۔ لاکھ چہر ہ سہی چاند جیسا، دل کے کالوں سے اللہ بچائیے۔ دیکھ محبت کا دستور ، تومجھ سے میں تجھ سے دور۔ ہم اہل وفا چاہتوں کے ، گمان میں مرجاتے ہیں۔ تم نے لہجہ بدل لیا ورنہ میں اب اظہار کرنے والا تھا۔ بچھڑنا جن سے ناممکن تھا مجھے ان سے ملے زمانہ بیت گیا۔ تم نے چکھی نہیں ہجر ت کی سوغات کبھی ، تم پر گزرے ہی نہیں موسم سزاوں والے۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *