”اگر دکھی ہو سب امیدیں بھی ٹوٹ چکی ہیں“

جو ہماری قسمت میں ہے وہ ہمارے لاکھ ناچاہنے کےباوجود ہمیں ہی ملے گا اللہ تعالیٰ کو ہمار ے مشوروں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ہم بشر ہیں مخلوق ہیں۔ ہمیں اپنی حدود میں ہی رہنا چاہیے۔ مشکلات زندگی کا حسن ہیں جو ان پر قابو پا لیتا ہے۔ وہ زندگی کو بامعنی اور بامقصد بنا لیتا ہے۔ یقین رکھیے ہر رات کےبعدصبح بخشنے والا آزمائشیں ضرور دیتا ہے لیکن آزمائش میں کبھی تنہاء نہیں چھوڑتا، آزمائش تو اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو تربیت کےلیے دیتا ہے۔

پرسکون زندگی گزارنے کےلیے کمپرومائز بہت ضروری ہے جس چیز کو تم بدل نہ سکو اس کے ساتھ کمپرومائز کر لیا کرو اور اپنی خواہشات کو کبھی بھی اپنا جنون مت بنانا، کیونکہ زندگی میں کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں۔ جو ہمیں کبھی نہیں مل سکتیں۔ جو تکلیف برداشت کرتا ہے۔ وہی خزانہ حاصل کرتا ہے۔ جو مسلسل کو شش کیے جاتا ہے۔ وہ اپنے اصل مقصدکے حصول میں کامیاب ہوجاتا ہے۔ جو مجھےملا اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر او ر جو مجھے نہیں ملا، اس پر بھی اپنے اللہ سے خوش ہوں کہ مجھے آخرت میں اللہ تعالیٰ سے بہت کچھ ملنے کی امید ہے۔

یہ سو چ آپ کے دل کو سکون بخشے گی بے شک سکون اللہ تعالیٰ کے ذکر میں ہی ہے۔ ۔ موجودہ دور میں ہم مسلمانوں کا یہی حال ہے ایمان بس زبان پر ہے اور اندر سے خالی ہیں۔ بیٹی پیدا کرنا کوئی نہیں چاہتا لیکن بستر پر سارے مرد عورت چاہتے ہیں۔ پریڈ میں “پیچھے مڑ” بولتے ہی پہلاآدمی آخری اور آخری آدمی پہلے نمبر پر آجاتا ہے ۔ زندگی میں کبھی آگے ہونے کا گھمنڈ اور آخری ہونے کا غم نہ کریں۔ پتہ نہیں کب زندگی بول دے “پیچھے مڑ” اور آپ کا کام ہوجائے۔

کچھ لوگوں کو لگتا ہے کہ مجھے ان کی چالاکیاں سمجھ نہیں آتیں پر میں خاموشی سے ان کو اپنی نظروں سے گرتا ہوا دیکھتا رہتا ہوں۔ پرانے زمانے میں جب کوئی یہودی راستے میں پتھر پڑے دیکھے تووہ کہتے تھے کہ شاید یہاں سے کوئی مسلمان نہیں گزرا۔ ہرجنگل کو خالی نہیں سمجھنا چاہیے ہوسکتا ہے اس میں کوئی چیتا سورہا ہو۔ کالی رات میں دو کالے پہاڑوں کے درمیان کالے پتھر کے اوپر ایک چیونٹی چل رہی ہوتی ہے۔ اس چیونٹی کے چلنے سے جونشان پڑرہے ہوں

اللہ کو وہ بھی دکھائی دے رہے ہوتے ہیں۔ تو کیاوہ مجھے اور تمہیں نہیں دیکھ رہا؟ محبت کو کچھ عرصے بعد ٹوٹی ہوئی جوتی کی طرح گھسیٹنا پڑتا ہے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی کےپاس ایک بوڑھا شخص بڑی دور سے پیدل چل کر کھانا لایا، وہ بہت خوش تھا کہ آپ یہ کھانا ضرور کھائیں گے اسے معلوم نہ تھا کہ آپ روزے سے ہیں۔ آپ نے اس کا دل رکھنے کے لیے روزہ توڑ دیا۔ وہا ں موجود ایک شخص نے آپ کو یاد دلایا کہ آپ کا روزہ تھا۔ آپ نے فرمایا: روزہ توڑنے کا کفارہ ہے

لیکن دل توڑنے کاکوئی کفارہ نہیں ۔ خیال رکھو کبھی بھی تمہاری وجہ سے کسی کا دل نہ ٹوٹے ۔ محبت میں سب طاقتیں ہوتی ہیں۔ بس ایک بولنے کی قوت نہیں ہوتی۔ قب رستا ن پر کب لکھا ہے کہ یہاں صرف بڑی عمر کے لوگ آسکتے ہیں۔ تیار ی کیجیے۔ باباجی کی بات جب بھی یاد آتی ہے تو فخر سے سینہ چوڑا ہوجاتا ہے وہ کہا کرتے تھے “پتر اللہ پاک نے کائنات بنائی، اوراس کو بسانے کے لیے انسان بنائے اور پھراپنے بنائے ہوئے انسان سے محبت کی۔ اور جس جس انسان سے سب سے زیادہ محبت کی اسے اپنے حبیب ﷺ کی امت میں پیدا کردیا۔ مومن وہ نہیں جسےبھائی مدد کے لیے پکارے اور وہ اسے قرآن سنانا شروع کر دے ۔

About soban

Check Also

منہ کے چھالے ۔ منٹوں میں غائب۔آسان ترین نسخہ اور مسئلہ حل

اس وقت ہمیشہ دردناک سرپرائز ملتا ہے جب آپ کسی مصالحے دار چیز کو منہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *