”جب دشمنوں کی تعداد زیادہ ہونے لگے تو ہمیشہ یہ دو کام کرو؟؟“

ہر شخص اپنی زبان کے پیچھے چھپا ہوا ہے اگر کسی کو سمجھنا ہوتو اسے بولنے دو۔ دھوکا لوگ نہیں دیتے دھوکہ ہم کھاتے ہیں ہمارا یقین ہمارا اعتبار ، ہمارا اعتماد اور سب سے بڑھ کر ہماری توقعات ہمیں دھوکہ دے جاتی ہیں۔ انسان کو کام اور محنت سے اتنی تھکاوٹ نہیں ہوتی جتنا لوگوں کے رویے تھکا دیتے ہیں۔ کتنا دلچسپ ہوتا ہے وہ لمحہ جب آپ کےسامنے لوگ جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں۔ اور آپ حقیقت سے آشنا ہوتے ہیں۔ دنیا کو کڑوے سچ سے نہیں چٹخارے دار جھوٹ سے مطلب ہوتا ہے۔

زندگی میں ہمیشہ کوشش کرتے رہو کیونکہ کوشش کرنے والے کبھی ہارتے نہیں اور بیچ میں چھوڑنے والے کبھی جیتتے نہیں۔زندگی میں بہت سے لوگ تب ہار مان جاتے ہیں۔ جب وہ اپنی منزل کےبہت قریب ہوتے ہیں۔ ایسے مکار اور فسادی شخص سے ہمیشہ محتاط رہو جو کسی کے پاس بھی بیٹھے اس سے غیر موجود شخص کی چغلی کرے اور اپنے آپ کو نیک ظاہر کرے۔ اگر تم حق پر ہوتو کچھ بھی ثابت کرنے کی ضرورت نہیں وقت خود گواہی دے گا

تمہارے حق پر ہونے کی۔ دھو کادیے کر کوئی بھی نہیں بچتا ایک آہ نسلوں کو اجاڑدیتی ہے۔ لوگ نفسیاتی نہیں ہوتے انہیں توڑا ہی اتنا جاتا ہے۔ کہ وہ جذبات کھو دیتے ہیں۔ مان نہیں رکھتے منہ پھیر لیتے ہیں۔ دلچسپی نہیں لیتے۔ لوگوں کے ساتھ ان کے کردار ک مطابق نہیں بلکہ اپنی تربیت کے مطابق رویہ اختیار کیجئے۔ اپنے خلاف باتیں خاموشی سے سن لو اور جواب دینے کاحق وقت کو دےدو۔ سارے فیصلے ٹھیک کرنے کی خواہش رکھنے والوں کےلیے سب سے مشکل کام فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔

جو لوگ آپ سے بالکل بھی لالچ نہیں رکھتے وہ لوگ قیمت سے نہیں بلکہ قسمت سے ملتے ہیں۔ جوان لڑکی کی ایڑی میں بھی آنکھیں ہوتی ہیں۔ وہ چلتی ہے۔ تو اسے پتہ ہوتاہے۔ کہ پیچھے کون کیسی نظروں سے دیکھ رہا ہے۔ غلطیاں نہیں کریں گے تو پتہ کیسے چلے گا کہ کون کون ہمارے گرنے کا انتظار کر رہا ہے۔ کردا ر اچھا ہوتو لوگ قب ر کاراستہ بھی پوچھ کر پہنچ جاتے ہیں۔ خوشیاں تقدیر میں ہونی چاہیے تصویر میں تو ہرکوئی خوش نظر آتا ہے۔

آئینہ وہ واحد ساتھی ہے۔ جو آپ کے ہنسنے پر ہنستا ہے۔ اور آپ کے رونے پر روتا ہے۔ جو عورت یا مرد دولت یا شہر ت کو دیکھ کر شادی کرے اس میں کبھی وفا نہیں ہوگی۔ جس انسان میں سچ سننے کی طاقت نہ ہو اس انسان سے گفتگو کرنے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ وہ آپ کی ہر بات کو غلط قرار دے کر اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں پر بھی آپ ہی کو قصوروار ٹھہرائے گا اورحیلے بہانے تراشے گا۔ جوانی میں مرد کو ہرعورت اچھی لگتی ہے۔

اور عورت کو ہر مرد کی محبت سچی لگتی ہے۔ عورت کا بس دیکھ لینا ہی مرد کو ادا لگتا ہے۔ اور مرد کا بس ذرا سا فکر کرنا ہی عورت کو محبت کی انتہا لگتا ہے۔ یہ عمر ایسی ہی جذباتی ہوتی ہے۔ اور ہم اس جذباتی پن کو محبت کا نام دے کر اعتراف محبت کرلیتے ہیں۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ فطر ت سامنے آتی ہے۔

About soban

Check Also

منہ کے چھالے ۔ منٹوں میں غائب۔آسان ترین نسخہ اور مسئلہ حل

اس وقت ہمیشہ دردناک سرپرائز ملتا ہے جب آپ کسی مصالحے دار چیز کو منہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *