”اشفاق احمد کی زندگی کا نچوڑ ایسے انسان سے کبھی بھی ۔۔۔؟“

انسان پر کئی طرح کا بوجھ ہوتاہے۔ ہمارے اوپر سب سے بڑا بوجھ تکبرکا ہوتاہے۔ اورہم یہ جانے بغیر کہ خدا کے نزدیک کون بڑا ہے۔ اور کون گھٹیا، فیصلے خود ہی کرتے رہتے ہیں۔ لذتیں وقتی اور ہنگامی ہوتی ہیں۔ لیکن مسرتیں ، شادمانیاں مستقل ہوتی ہیں۔ لذتوں کاجسم سے تعلق ہوتاہے۔ا ور خوشیوں کاروح سے ۔ ہمارے ساتھی یہ بڑی بدقسمتی ہے۔ کہ ہمیں بازاروں میں جانے کاوقت مل جاتا ہے۔ تفریح کےلیے مل جاتا ہے۔ دوستوں سے بات کرنے کا وقت مل جاتا ہے۔

لیکن اپنے ساتھ بیٹھنے کا ، اپنے اندر جھانکنے کا کوئی وقت میسر نہیں آتا۔ شدید دکھ ہوتا ہےکہ جب ہم کسی پر اندھوں کی طرح اعتما د کریں ۔ اور وہ ثابت کر دے کہ ہم واقعی اندھے ہیں۔ مرد ساری عمر جھڑکیاں کھا کر دھکے برداشت کرتا ہو ا کفالت کی راہ نہیں چھوڑتا، مکان بنواتا ہے۔ پردیسوں کی مٹی پھانکتا ہے۔ آخر میں جوان بچے کہتے ہی کہ اباجی! آپ کو ئی ڈھنگ کا کام کرلیتے تو زندگی نہ سنور جاتی۔ تھوڑی سی دیر صرف پندرہ منٹ کی تنہائی میں بیٹھ کر اللہ اللہ کرلیا کیجیے۔

دیکھیے توسہی کیسی کیفیت پیدا ہوتی ہے۔ کھٹائی کا نام لینےسے منہ میں پانی بھر آئے اور اللہ کا نام لینے سے قلب پر اثر نہ ہویہ ممکن ہی نہیں ۔ فکر نہ کریں لوگ بھو ل جائیں گے ۔ مگر اللہ تعالیٰ نہیں بھولتا۔ آپ کی نیکی ، نہ لوگوں کی زیادتی۔ بہت جستجو تھی کہ عشق مجازی اور عشق حقیقی میں فرق جان سکوں، ایک دن اباجی نے بتایا اشفاق، اپنی انا کو کسی ایک شخص کے سامنے ختم کرنا عشق مجازی ہے۔ اور اپنی انا کو سب کے سامنے ختم کرنا عشق حقیقی ہے۔

کئی بار اللہ تعالیٰ بہترین سے نوازنے کےلیے بدترین سے گزارتے ہیں۔ ایک دن ہم سب ایک دوسرے کو یہ سو چ کر ” کھو ” دیں گے کہ جب وہ مجھے یا د نہیں کرتا تومیں اسے کیوں کروں۔ جسمانی امراض پرہیز سے جاتے ہیں۔ اور روحانی امراض پرہیز گاری سے جاتے ہیں۔ وہی بچے ہمارے بڑھا پے کا سہارا ہوتے ہیں۔ جنہوں نے ہمیں بوڑھا بنایا ہوتاہے۔ ہم میں سے زندہ وہی رہے گا۔ جو دلوں میں زندہ رہے گا۔ اور دلوں میں وہی زندہ رہتے ہیں۔ جو خیربانٹتے ہیں

او ر آسانیاں بانٹتے ہیں۔ محبت دلوں پر و ہ کام کرتی ہے۔ جو صابن جسم پر او رآنسو روح پر کرتے ہیں۔ بانو کہتی تھیں کسی کو محبت میں چھوڑنا اس کا ق تل کرنے کے برابر ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ خدا ہمیں پھولوں سے بھر اٹوکرا عطاکرنے کے موڈ میں ہوتا ہے۔ اور ہم صرف ایک پھول کی ضد لگا کر بیٹھے ہوتے ہیں۔

برداشت کے ساتھ حالات ضرور بدل جائیں گے ۔ بس ذرا اندر ہی اندر مسکرانے کی ضرورت ہے۔ یہ ایک راز ہے جو سکول اوریونیورسٹیوں میں نہیں سکھایا جاتا۔ لباس قیمتی ہو یا سستا گھٹیا کردار کو چھپا نہیں سکتا۔ ہم اچھا ہونے یا اچھا بننے کے باوجود کسی نہ کسی کی کہانی میں ضرور برے ہوتے ہیں۔ سبھی اچھے ہیں۔ بس اللہ برا وقت نہ لائے کہ یہی سب برے لگنے لگیں گے ۔

About soban

Check Also

ہیرا کو پہننے کے بے شمار فائدے۔

ستاروں کے نیک اثرات میں اضافے اور بد اثرات کو دور کرنے کیلئے ستاروں کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *