جس گھر میں یہ 2کام ہونے لگیں وہاں رزق کی تنگی اور بے برکتی کوئی نہیں روک سکتا

رزق ایک ایسی نعمت ہے جس کی تقسیم کا اختیار ذمہ مالک کائنات نے اپنے پاس رکھا ہے کوئی شق نہیں کہ وہ ہر انسان کو طیب طاہر اور پاک رزق عطاء فرماتا ہے اس رزق میں اضافہ اور فراغی کے مواقع بھی بخشتا ہے لیکن اکثرانسانوں کی فطرت ہے کہ وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کے حبیبﷺ نے ہمیں رزق حلال کی طلب کمانے کا طریقہ تجارت اور کاروبار کے مکمل اصول سکھائے اور بتائے ہیں یہ اٹل حقیقت ہے کہ جب تک ہم اسلامی تعلیمات کے مطابق ملازمت کاروبار اور تجارت کرتے ہیں تب تک سب کچھ ٹھیک رہتا ہے

جب ہم اسلامی حدود سے تجاوز اور احکام الٰہی کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوتے ہیں ۔رزق میں سے برکت اٹھنا شروع ہوجاتی ہے ۔ بڑی بڑی فیکٹریاں اور کارخانوں کے مالک بھی بھکاری بن جاتے ہیں ۔ رزق حلال کمانے والوں کیلئے اللہ تعالیٰ اپنی رحمت کے خزانے کھول دیتا ہے ۔ دنیا میں باعزت رکھتا ہے آخرت میں بلند درجات سے نوازتا ہے مگر اللہ کو چھوڑ مال ودولت کے حصول کا غلام بن جانا سب سے بڑی بدقسمتی ہے ۔ یہی سب سے بڑی ذلت ہے ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ ہم رازق کو بھول جاتے ہیں روزی کے پیچھے لگ جاتے ہیں ۔ اگر ہم روزی کو چھوڑ کر رازق کے پیچھے لگ جائیں تو روزی خود بخود آپ کے پیچھے ہوگی ۔ آپ کو پیارے حبیبﷺ کے بارے میں دو ایسی چیزیں بتا رہے ہیں جن کہ بارے میں ہمارے پیارے نبیﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس گھر کے دروازے رشہ داروں کیلئے بند ہوجائیں

جس گھر میں رات دیر تک جاگنے صبح دیر سے اٹھنے کا رواج ہو تو وہاں بے برکتی کو کوئی نہیں روک سکتا ۔ یہ دو کام کرکے ہم نے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے ۔ ہمارے پیسے میں برکت ہے نہ وقت نہ خوشیوں میں ہم اپنے ہی سے ہر وقت ناراض اور اکھڑے ہوئے ہیں۔ رات دیر تک جاگتے رہنے اور صبح کو دیر سے بیدار ہونے کی خراب عادت ہماری طرز زندگی کا ایک اہم حصہ بن چکی ہے سیدہ فاطمہ ؓ بیان کرتی ہیں میں صبح وقت سوئی تھی کہ رسول اللہﷺ میرے پاس سے گزرے اور آپ نے مجھے پاؤں سے ہلایا اور فرمایا بیٹی اٹھو اپنی رب کی طرف سے رزق کی تقسیم میں شامل ہوجاؤ اور غفلت شعار لوگوں کی عادت اختیار نہ کرو اللہ تعالیٰ طلوع فجر سے طلوع آفتاب تک لوگوں کا رزق تقسیم کرتے ہیں ۔اگر اپنے ضمیر سے پوچھا جائے واقعے احساس ہوگا کہ ہم کب اٹھتے ہیں

کب گھر والوں کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔ پیار ومحبت سے دعاؤں کیساتھ ایک دوسرے کو جگانے سے لیکر مسجد لیجانے یا گھر میں ہی نماز پڑھنے کے بعد دیگر معاملات میں اہل خانہ کیساتھ تعاون کرکے مثال قائم کرتے ہیں یا اس کا الٹ کرتے ہیں ہر آنیوالا دن زندگی کا خالی نیاز صفحہ ہوتا ہے ۔ ہمارے لیے ایک رحمت سے کم نہیں اسے ہم کیسے شروع کرتے ہیں کیسے تمام دن میں بھرتے ہیں اس کا ہمیں پہلے سے ہی ادراک ہونا چاہیے ۔ ہماری نیک نیتی ہی ہمارے ہر کام کو آسان اور خوشگوار بنا دیتی ہے ۔ صبح کے وقت سونا رزق میں بے برکتی کا سبب ہے ہم کبھی جاننے کی زحمت ہی نہیں کرتے کہ یہ بری عادت ہمیں کیا نقصانات پہنچا رہی ہے اس عادت سے کیسے چھٹکارہ حاصل کیا جاسکتا ہے ۔آپ اپنی زندگی کا معمول بنا لیں کہ رات کو جلدی سونا ہے اور صبح جلدی اٹھنا ہے تاکہ ہم صبح کی نماز پڑھ سکیں اور ہمارے گھر میں روزی کی برکت ہوسکے۔

About soban

Check Also

سلطان علاؤ الدین کی تلوار اندھی اورجلاد کی طرح ہاتھ ۔۔۔۔؟؟؟

دلچسپ و عجیب سلطان علاؤ الدین کی تلوار اندھی تھی اور ہر وقت جلاد کے …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *