ہڈیوں ، پٹھوں ، کمر ، گھٹنوں اور ٹانگوں کا درد مکمل ختم

مر کے نچلے حصے میں درد ہڈیوں کی کمزوری کی وجہ سے ہوتا ہے جس کی شکایت عموماً بیس سے پچاس سال کی عمر کے افراد کو رہتی ہے۔ عام طور پر گردن اور کمر کے پٹھوں کی کمزوری کی وجہ سے بھی کمر کے نچلے حصے میں درد کی شکایت رہتی ہے۔موٹاپا، ریڑھ کی ہڈی کی چوٹ یا بڑھاپے کی وجہ سے کمر کے نچلے حصے میں درد شروع ہو جاتا ہے۔ کمر کے نچلے حصے میں پٹھوں کو مضبوط اور لمبا کرنا کارٹلیج کو اس کی عام حالت میں واپس آنے کے قابل بناتا ہے اور اسے آپریشن کی ضرورت نہیں ہوتی۔ریڑھ کی ہڈی میں موجود کارٹلیج اسے حرکت اور مڑنے میں مدد دیتے ہیں لیکن اگر یہ اپنی جگہ سے حل جائیں تو انسان شدید تکلیف اور درد کا شکار ہو جاتا ہے۔ کارٹلیج کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کے عمل کو ہرنیاٹڈ ڈسک کہا جاتا ہے۔ہرنیاٹڈ ڈسک کی علامات صرف کمر کے درد سے ظاہر نہیں ہوتیں

بلکہ اعضاء میں عدم توازن، یا اعضاء کے سن ہو جانے سے بھی ظاہر ہوتی ہیں۔یہ درد یا گردن کی طرف سے شروع ہوتا اور یا پھر جسم کے نچلے حصے سے۔دبئی میں آرتھوپیڈک سرجن ڈاکٹر مثنی سرتاوی کے مطابق ہرنیاٹڈ ڈسک کی علامات پچانوے فیصد لوگوں میں بغیر کسی شدید درد کےظاہر ہوتی ہیں۔ ریڑھ کی ہڈی کا ریڈیو گراف نہ ہونے تک اس کا تعین کرنا مشکل ہوتا ہے۔ تاہم پانچ فیصد افراد میں پیروں کے سن ہونے کے ساتھ ہی کمر میں شدید درد ہو سکتا ہے۔ڈاکٹر مثنی سرتاوی کا کہنا تھا کہ ہرنیاٹڈ ڈسک کے علاج کے لیے آپریشن واحد طریقہ نہیں ہے بلکہ موجودگی کا مطلب یہ نہیں ہے بلکہ فزیو تھراپی کے ذریعے اس مسئلے پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ فزیوتھراپی سے پٹھوں کو مضبوط بنایا جاتا ہے اور کارٹلیج کو اپنی معمول کی پوزیشن میں واپس لانے کی کوشش کی جاتی ہے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ فزیو تھراپی میں ناکامی کی صورت میں سوئیوں کے ذریعے سوزش کو کم کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہیں اور اس کی کامیابی پچاس فیصد۔ تمام ابتدائی طریقے ناکام ہونے کی صورت میں سرجری بہترین اور آخری حل ہے۔ڈاکٹر مثنی کا کہنا ہے کہ آپریشن کے چھ ہفتوں بعد مریض اپنی معمول کی زندگی میں واپس آسکتا ہے۔عموماً ہرنیاٹڈ ڈسک کا مسئلہ پانچ مختلف کیسز کی صورت میں سامنے آتا ہے۔جس کے مطابق اس کے علاج کا تعین کیا جاتا ہے۔پہلے کیس میں کارٹلیج ہلکا سا اپنی جگہ سے باہر نکل جاتا ہے اور اس کا اثر عصبی نظام پر کم ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں کھڑے ہونے یا طویل مدت تک بیٹھنے میں مشکل ہوتی ہے اور اسے مضبوط کرنے کے لیے ورزش درکار ہوتی ہے۔ دوسرے کیس میں کارٹلیج آس پاس موجود ریشوں کی انگوٹھی میں پایا جاتا ہے۔

تیسرے کیس میں کارٹلیج کے گرد موجود ریشوں کی انگوٹھی کا ایک کٹ جگہ سے باہر نہیں آتا، اور اس کا علاج یا تو قدامت پسند علاج پر مبنی ہے یا ڈاکٹر کی صوابدید پر منحصر ہے۔ جبکہ ریشوں کی انگوٹھی اور کارٹلیج سے باہر نکلنا اور اعصاب پر دباؤ پھسلنے کی چوتھی حالت میں پایا جاتا ہے اس کا علاج سرجری یا لیپروسکوپک کارٹلیج کو ہٹانے اور دیگر مصنوعی امپلانٹ پر ہوتا ہے۔پانچویں حالت اس بیماری کا سب سے مشکل مرحلہ ہے۔ اس کیس میں کارٹلیج مکمل طور پر ریشے دار رِنگ سے نکل آتا ہے اور اس چینل سے باہر چلا جاتا ہے جس میں اعصاب ہوتے ہیں اور اس کی نقل و حرکت سے وابستہ نہیں ہوتا۔ ایسی صورت حال میں کمر اور پیروں میں ناقابل برداشت درد ہوتا ہے اورمریض حرکت تک نہیں کرسکتا۔ اس کا علاج صرف سرجری ہی سمجھا جاتا ہے۔بحر حال اگر کوئی سرجری نہ کروانا چاہے اور ایلوپیتھی علاج بھی نہیں کروانا چاہتا تو پھر ہومیو پیتھی میں یہ تین چیزیں روزانہ ایک ایک چمچ کھا لیا کرے ۔معجون ازراقی،معجونِ سرنجان،معجون فلاسفہ ۔ان تینوں کی چند ڈبیاں استعمال کیجئے انشاء اللہ تعالیٰ جوڑوں کے ہر قسم کے درد سے نجات ملے گی۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *