ملازمین کی موجیں لگ گئیں، سپریم کورٹ نے بقایا جات ادا کرنے کا حکم دیدیا، بڑی خوشخبری سنا دی گئی

سٹیل ملز سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے ورکرز کے بقایاجات ادا کرنے کاحکم دیدیا اور فریقین کوسٹیل مل معاملات مل بیٹھ کر حل کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے سینئروکیل رشید اے رضوی کو ثالث مقرر کردیا۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ جو سٹیل مل لے گا اس کی زمین بھی بیچ ڈالے گا،سٹیل مل کے سکول اور ہاوَسنگ سوسائٹی چل رہی مگر انکم زیرو ہے،سٹیل مل افسران صبح آتے اور شام 5 بجے گھر جاکر سو جاتے ہیں،3ہزار700ورکرزاور405افسران کیاکررہے ہیں؟سب کو فارغ کریں،سٹیل مل کا

چیئرمین ملک سے باہر گھوم رہا ہے،یہاں حکومتی رٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق سپریم کورٹ میں سٹیل ملز سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی،وفاقی وزیراسد عمر اور وفاقی وزیر نجکاری میاں محمد سومرو عدالت میں
پیش ہوئے،سپریم کورٹ نے سٹیل ملز کی نجکاری کے معاملے پر وفاقی وزراکو طلب کیا تھا،وفاقی اسد عمر نے کہاکہ سٹیل ملز کی بہتری کےلئے نجکاری اور انڈسٹری کی وزارت ہی بہتربتا سکتی ہے۔چیف جسٹس پاکستان نے سٹیل ملز کی حالت زار پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہاکہ سٹیل ملز کے افسران سے پیسے ریکور کئے جائیں،ایک ہی لیٹر پر سب افسران کو فارغ کیا جائے،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ سٹیل مل پر روزانہ 2 کروڑ خرچ ہورہا ہے،مزدور سے لیکر افسران کو 15 سال سے بغیر کام مفت تنخواہ مل رہی ہے۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ جو سٹیل مل لے گا اس کی زمین بھی بیچ ڈالے گا،سٹیل مل کے سکول اور ہاوَسنگ سوسائٹی چل رہی مگر انکم زیرو ہے،سٹیل مل افسران صبح آتے اور شام 5 بجے گھر جاکر سو جاتے ہیں،3ہزار700ورکرزاور405افسران کیاکررہے ہیں؟سب کو فارغ کریں،سٹیل مل کا چیئرمین ملک سے باہر گھوم رہا ہے،یہاں حکومتی رٹ نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ وزیر نجکاری محمد میاں سومرونے کہاکہ فروری میں نئی کمپنی بنا رہے ہیں،اس عمل کی منظوری کیلئے مارچ میں ای سی سی میں پیش کرینگے،چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ کو علم ہے کہ عدالت کا فیصلہ ہے کہ سٹیل مل کی نجکاری نہیں کی جاسکتی،وزیر نجکاری نے کہاکہ معلوم ہے ،اس کی خلاف ورزی نہیں کی جائیگی۔چیف جسٹس نے سیکریٹری نجکاری اور سیکریٹری منصوبہ بندی کی سرزنش کردی،چیف جسٹس نے سیکرٹری سے مکالمہ کرتے ہوئے کہاکہ آپ کو معلوم ہے روزانہ سٹیل ملز پر کتنا خرچ ہو رہا ہے؟،آپ کو کوئی درد نہیں کہ ملک کا

پیسہ کہاں جا رہا ہے؟،اگر آپ سٹیل مل چلانے کے اہل نہیں تو کسی اور کو

آنے دیں،آپ لوگوں نے تماشہ بنایا ہوا ہے، سٹیل مل کے ساتھ کراچی شپ یارڈ، ہیوی مکینکل اور پی آئی اے سب بند پڑا ہے۔چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ قوم کا پیسہ بے دریغ خرچ ہونے پر کیا وجوہات دیں گے؟ ،آپ کے جہاز چین اور ترکی میں بن رہے ہیں، آپ کے پاس اتنا بڑا شپ یارڈ ہے یہاں جہاز کیوں نہیں بناتے؟۔پوری دنیا میں سٹیل انڈسٹری کو عروج حاصل ہے، آپ سے مل نہیں چل رہی،جسٹس اعجا زالاحسن نے کہاکہ سٹیل ملز کا 400 ارب کا قرض کون اتارے گا؟ ،سٹیل مل پر روزانہ 20 ملین کا خرچ ہو رہا ہے، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ آپ لوگ سٹیل مل کا سارا سامان بیچ دیں گے اور فارغ ہو کر بیٹھ جائیں گے۔جسٹس مظاہر علی اکبر نے کہاکہ ملک کا پیسہ ضائع ہو رہا ہے کسی کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی، چیف جسٹس گلزاراحمد نے کہاکہ افسران کو بس پروموشن کی پڑی ہوئی ہے، جسٹس اعجاز الاحسن نے کہاکہ سٹیل مل پر روزانہ دو کروڑ خرچ ہورہا

ہے،وزیر نجکاری نے کہاکہ واجبات ختم ہونے کے بعد ہی نجکاری کا عمل مکمل ہوگا، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ سٹیل مل کی نجکاری ماضی میں بھی کالعدم ہو چکی ہے۔میاں محمد سومرو نے کہاکہ کیا ہم سٹیل مل کی نجکاری نہ کریں، چیف جسٹس نے کہاکہ ہم نہیں کہہ رہے کی نجکاری نہ کریں لیکن عدالتی فیصلے کو مدنظر رکھیں، وفاقی وزیر اسد عمر نے کہاکہ بنیادی طور پرسٹیل مل کو لیز پر دیا جائے گا،سٹیل مل کی ملکیت حکومت کے پاس ہی رہے گی۔میاں محمد سومرو نے کہاکہ سٹیل مل کے اثاثوں کی مالیت 100 ملین ڈالر ہے، چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ایسا نہ ہو پھر کوئی غیر ملکی ثالثی ٹربیونل جائے اور جرمانہ ہو جائے، وزیر نجکاری نے کہاکہ واجبات ادا کرکے سٹیل مل کو پرکشش بنائیں گے، عدالت نے کہاکہ سٹیل مل کے حوالے سے جو منصوبہ ہے وہ تحریری طور پر پیش کریں، میاں محمد سومرنے کہاکہ ستمبر یا اکتوبر میں سٹیل مل کی بولی لگنے کا امکان ہے،شپ یارڈ کیلئے پیسہ چاہیے جو نہیں ہے،اسد عمر نے کہاکہ گوادر

میں نیا شپ یارڈ بن رہا ہے،کراچی شپ یارڈ میں توسیع ہورہی ہے بند نہیں کیا گیا،2008میں سٹیل مل منافع میں تھی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہاکہ ملک میں صنعتی انقلاب لائیں کس نے روکا ہے؟،سٹیل مل میں 40 تو کیا 5 افسر بھی نہیں رہنے دیں گے،ملازمین کی اصل تنظیم سی بی اے ہوتی ہے،سی بی اے کے علاوہ باقی تنظیموں کی حیثیت نہیں،سٹیل مل انتظامیہ صرف سی بی اے سے مذکرات کی پابند ہے،مل بند پڑی ہے ملازمین کو پیسے کس بات کے دیں۔وکیل سٹیل مل ملازمین نے کہاکہ مل بند پڑی ہے تو ذمہ دار انتظامیہ ہے۔سپریم کورٹ نے فریقین کوسٹیل مل معاملات مل بیٹھ کر حل کرنے کی ہدایت کردی اورسینئروکیل رشید اے رضوی کو ثالث مقرر کردیا،سپریم کورٹ نے ورکرز کے بقایا جات ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہاکہ سیکریٹری نجکاری کمیشن اور سیکریٹری صنعت و پیداوار 2 ہفتوں میں رپورٹ جمع کرائیں۔اسد عمر نے کہاکہ کابینہ اجلاس جارہی ہے، عدالت مجھے اجازت دے،عدالت کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد اسدعمر اور میاں محمد سومرو عدالتی اجازت سے کابینہ اجلاس کیلئے روانہ ہو گئے ،سپریم کورٹ نے سٹیل مل کیس کی سماعت 2 ہفتوں کیلئے ملتوی کردی۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *