پھٹا ہوا دودھ ہاتھوں اور پیروں کی رنگت کو منٹوں میں صاف کرسکتا ہے ۔۔۔ جانیئے بہترین ٹپ

آج کل چونکہ بازاری کھلے دودھ میں پاؤڈر مکس کیا جاتا ہے تا کہ اس کی مقدار کو بڑھا یا جاسکے، ایسی صورت میں دودھ کو گرم کرنے پر دودھ پھٹ جاتا ہے اور خواتین اس دودھ کو فوری بہا دیتی ہیں یا ضائع کردیتی ہیں۔ جبکہ اس پھٹے ہوئے دودھ میں آپ کی خوبصورتی کو بڑھانے کا زبردست راز چھپا پے جو کہ ہم آج آپ کو کے-فوڈز میں بتانے جا رہے ہیں۔ ایک کپ پھٹے ہوئے دودھ میں دو چمچ لیموں کا رس مکس کریں۔ پھر اس میں دو چمچ گلیسرین اور آدھا چمچ املی کا پانی مکس کریں۔ اس کو کچھ دیر کے رکھ دیں۔ اس کے بعد اس دودھ کو چہرے اور ہاتھ پیر پر لگائیں اور مساج کریں۔

بیس منٹ تک مساج کریں۔ اس کے بعد ٹھنڈے پانی سے جلد کو صاف کرلیں۔ اگر آپ جلدی اور اچھا رزلٹ چاہتے ہیں تو اس ٹپ کو روزانہ استعمال کریں اور پائیں بہترین فائدہ۔اس ٹپ میں پھٹا ہوا دودھ ہے جس میں انزائمل لیکٹک اور فرکٹوز مرکبات پائے جاتے ہیں جو لیموں کے ایسٹک ایسڈ کے ساتھ مل کر رنگت کو صاف کرنے اور جلد کو نرم و ملائم بنانے کا کام کرتے ہیں۔ ساتھ ہی اگر آپ اس کو ایک مرتبہ بنا کر ایک بوتل میں محفوظ کرلیں اور جب بھی منہ دھونا ہو اس سے دھوئیں تو ایکنی کے داغ دھبے بھی ختم ہو جائیں گے۔

۔اگر آپ کی رنگت خراب ہوگئی ہے اور جلد دھوپ کی وجہ سے جل گئی ہے تو ایک چمچ چاول کے آٹے میں دو چمچ جامن کا جس مکس کرکے چہرے پر لگانے سے جلدی ہی آپ کو زیادہ فائدہ ہوگا اور جلد چمکدار ہوجائے گی۔چاول کے آٹے کا فیس واش بنانے کے لئے آپ کو چاہیئے ایک کپ پانی، دو چمچ سفید سرکہ اور تین چمچ چاول کا آٹا ان تمام اجزاء کو اچھی طرح مکس کیں اور چہرے پر لگا کر مساج کرکے دھولیں اس سے جلد صاف بھی ہو جائے گی یہ بہت سستا اور کارآمد فیس واش ہے۔

خواتین اکثر و بیشتر اپر لپس اور چہرے کے اضافی بالوں کی وجہ سے کافی پریشان نظر آتی ہیں۔ انہیں تقریباً ہر ہفتہ ہی پارلر کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ پیسے الگ خرچ ہوتے ہیں اور تکلیف الگ ہوتی ہے۔آج ہم آپ کو ایک ایسا گھریلو نسخہ بتانے جا رہے ہیں جو آپ کی زندگی آسان کر دے گا۔ اس نسخہ میں ہر وہ چیز استعمال ہو گی جو آپ کے گھر میں موجود ہوتی ہے۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *