سورائسز کو ختم کرنے کا پاورفل طریقہ پرانی سے پرانی چمبل کا جڑ سے خاتمہ

آج کل ہمارے ہاں ددری اور چمبل وغیرہ کی بیماری بہت ہی عام ہو چکی ہے کسی کو ددری یا چنبل ہے واللہ بہت ساری باتیں ایسی ہیں جن کو آج پوری دنیا میں الحمد للہ ثم الحمدللہ لوگوں نے عملی طور پر آزما کر دیکھا ہے خارش کے لئے کیلے کو پیسٹ بنا لیجئے اور تین دن اس خارش کے اوپر یہ لگاتے رہیں انشاء اللہ خارش دور ہو جائے گی ۔سورائز چنبل کے لئے بھی یہ اکثیر ہے اگر اس میں تھوڑا سا ناریل کا تیل ملا لیا جائے تو جلد ہی فائدہ دے گا اور جلد کے لئے بھی بہت ہی متاثر کن ہو گا آپ اس کے نتائج کو دیکھ کر حیران رہ جائیں گے ۔ایٹوپک ڈرموٹائیسس جِلد کی دیرپا رہنے والی بیماری ہے جو مختلف حالتوں میں واقع ہوتی ہے۔ اِسے ایکزیمہ بھی کہتے ہیں۔ایکزیمہ سے جلِد خشک اور خارش دار ہو جاتی ہے۔ کئی بار حالت بہت ناساز ہو جاتی ہے اور کئی بار بہتر۔ جب حالت بہت ناساز ہوجاتی ہے تو ہم اُسے فلیئر اپ کہتے ہیں۔ فلیئر اپ اکثر سردیوں میں واقع ہوتا ہے جب ہوا خشک ہو جاتی ہے۔

کچھ بچے ایکزیمہ کو ساتھ لیے بڑے ہوتے ہیں تو اِس کی علامتیں کم یا غائب ہو جاتی ہیں۔ باقی بچوں کو ایکزیمہ زندگی بھر کے لیے ہوتا ہے۔ہم ایکزیمہ کے واقع ہونے کی بالکل صحیح وجوہات سے واقف نہیں۔ جینیاتی اور ماحولیاتی وجوہات دونوں ہی اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ ایکزیمہ میں مبتلا بچوں کو سانس کی بیماری، بخار، یا دوسری الرجی ہو سکتی ہے۔ایکزیمہ کا کوئی علاج نہیں، لیکن آپ کی ہیلتھ کیئر ٹیم علامتوں کی روک تھام اور ڈاکٹر کے پاس جانے کے صحیح اوقات پلان کرنے میں آپ کے ساتھ کام کرے گی۔جلِد کی اچھی دیکھ بھال میں نہانا اور جلد کو نم رکھنا شامل ہیں، جو آپ کے بچے کے ایکزیمہ سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آپ کو ماحولیاتی وجوہات پر بھی نظرثانی کرنا ہوگی جو آپ کے بچے کے ایکزیمہ کا باعث بنتی ہیں جو آپ کے بچے کو اُن سے دور رکھنے میں مدد کرتی ہے ۔ تاہم بہت سے فلیئر اپ کسی ماحولیاتی دباو کے بغیر بھی واقع ہو جاتے ہیں۔ڈاکٹر آپ کو ایک یا ایک سے زائد ادویات بھی تجویز کر سکتا ہے۔ یہ ادویات جسم پر ملنے والی یا منہ سے کھانے والی ہو سکتی ہیں۔غسل اکثر اوقات فلیئر اپس اور جراثیمی بیماریوں سے بچنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ آپ کے بچے کو دن میں کم سے کم ایک بار غسل کرنا چاہیئے، اور اگر موقع ملے تو 3 دفعہ غسل کریں۔

اپنے بچے کو نیم گرم پانی سے 5 سے 10 منٹ کے لیے نہلائیں۔ یہ ضروری ہے کہ آپ جس پانی کا استعمال کر رہے ہیں وہ نیم گرم ہو اور ذیادہ گرم نہ ہو۔ گرم پانی جلِد کو خراب کر سکتا ہے اور خارش کی وجہ بن سکتا ہے۔ 5 سے 10 منٹ نہانا جلِد کی آبیدگی کے لیے موزوں ہے۔ پانی میں زیادہ دیر رہنا کسی قسم کا فائدہ نہیں پہنچاتا اور جلِد کی خشکی کا بائث بن سکتا ہے۔ اگر آپ کو یاد کرانے کی ضرورت پڑے تو ٹائمر کے استعمال کی کوشش کریں۔جب وہ ٹب میں بیٹھا ہو تو پانی کا ٹب بچے کی پیٹھ تک پانی سے بھر دیں۔ہلکے صابن والی اشیاء کا استعمال کریں۔ اگر صابن کی ضرورت ہو تو صرف اُن ہی جگہوں پر لگائیں جہاں ضرورت ہو۔ کپڑے سے جھاگ یا رگڑائی مت کریں، کیونکہ یہ جلِد کی بے چینی کا بائث بن سکتا ہے۔ جسم پر سے تمام صابن اچھی طرح اُتار دیں تاکہ کسی قسم کی خشکی واقع نہ ہو۔جب غسل ہو جائے تو رگڑنے کی بجائے جلِد کو آرام سے خشک کریں۔ڈاکٹر کی تجاویز کے مطابق دوائی جسم کے متاثرہ حصوں پر ملیں۔ڈاکٹر کی تجویز شدہ دوائی کو لگانے کے بعد ویسلین یا جلِد کو نم کرنے والی اشیاء کو جسم کے غیر متاثرہ حصوں پر لگائیں۔کسی قسم کا گیلا کپڑا، سپنچ، یا لوہاف کا استعمال جلِد کو خرابی کا باعث بن سکتا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی ونا صر ہو۔آمین

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *