معدہ کا منہ تنگ ہوجانا معدہ کے مقام پر بوجھ اور خوراک اٹکی محسوس ہونا

اکثر افراد کو حساسیت (الرجی) کی وجہ سے دم گھٹنے کی شکایت ہو جاتی ہے، مگر کچھ اشخاص کو بعض غذاؤں سے دم گھٹنے کی کیفیت عارض ہوجاتی ہے، مثلاً انڈہ، گھی، آلو، چاول، بھنڈی، اروی، سرد مزاج والے پھل وغیرہ ۔ ایک قلیل تعداد کے پھیپھڑوں کی نالیوں عروقِ خشنہ (برانکیولز) میں خراش یا رکاوٹ (سسٹ ) دم گھٹنے کا سبب ہیں۔ کبھی دیکھا گیا ہے کہ فشار الدم قوی ( ہائی بلڈ پریشر ) کے مریض بھی اس عارضے سے تنگ رہتے ہیں، انھیں کارڈک کف میں مبتلا کہتے ہیں۔ معدے میں موجود ریح جب حجابِ حاجز(ڈایا فرام) کو اوپر کی جانب دھکیلتی ہے تب بھی گھبراہٹ کے ساتھ دم گھٹنے کی کیفیت پیدا ہوجاتی ہے۔ہوائے نسیم (آکسیجن) کی کمی مثلاً زیادہ بلندی پر چڑھتے وقت آکسیجن ٹینشن ۔ اس موقع پر آدمی لمبی اور کھینچ کر سانس لیتا ہے، یہ بیماری نہیں، نیچے اترنے پر تکلیف جاتی رہتی ہے۔سینے پر چوٹ لگنے سے: اگر عروقِ خشنہ پر ضرب آجائے یا خون نکل آئے ، اس موقع پر بھی سانس کی تکلیف اور کھانسی کی شکایت ہو جاتی ہے۔

اس حالت میں کھانسی کے ساتھ خون کے قطرے بھی خارج ہوتے ہیں۔ ساتھ ہی سینے میں شدید جلن محسوس ہوتی ہے۔بعض ادویہ جو غیر مشارکی (پیرا سمپاتھٹک) اعصابی نظام کو متحرک کرتی ہیں ان کے مضر اثرات میں تنگی تنفس شامل ہوتا ہے، یہ ادویہ آنتوں کو تحریک دیتی ہیں مگر عروقِ خشنہ کو تنگ کرتی ہیں۔زیادہ ٹھنڈی اشیاء خور ونوش اور سردی زیادہ لگنے سے بھی تنگی تنفس عارض ہوجاتا ہے ، کیونکہ جسم اپنی موجودہ گرمی کو محفوظ رکھنے کے لیے شریانوں ، وریدوں سمیت تمام عروق کو سکیڑتا ہے۔ ایسے موقع پر سفیدہ کے پتے کا بھپارہ (انہے لیشن) مفید ثابت ہوتی ہے۔کچھ لوگوں کا خلقتاً (پیدائشی) پھیپھڑے کمزور ہوتے ہیں، ایسے لوگوں کو اسٹریس مثلاً امتحان کے ایام میں سانس کی خرابی کی شکایت ہوجاتی ہے۔جانور پالنے والے حضرات کو بھی سانس کی تنگی میں متازی دیکھا گیا ہے۔نزلہ کے دوران جب نزلاوی رطوبات پھیپھڑوں پر گرتی ہیں، اس سے سانس میں تنگی ہوجاتی ہے کیونکہ گاڑھا بلغم عروقِ خشنہ کی چوڑائی کم کردیتا ہے۔ ایسی حالت میں بلغم کو رقیق کرنے والی ادویہ دی جاتی ہیں۔نمونیہ میں مبتلا اشخاص تنگی تنفس سے دوچار ہوتے ہیں، کیونکہ نمونیہ کی وجہ بننے والے بیکٹیریا اپنی سمیت ( زہریلے مواد) سے پھیپھڑوں کو اذیت پہنچاتا ہے۔

جس کے نتیجے میں پھیپھڑوں کی نالیاں سکڑ جاتی ہیں، لہذا کھانسی اور سانس میں رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔تنگی تنفس سے بچنا کیسے ممکن ہے؟روزانہ معمولی ورزش کریںتاکہ دوران ِخون بحال رہے اور ہوائے نسیم پھیپھڑوں کو بلا رکاوٹ پہنچ سکے۔خوراک میں ادرک کا استعمال کریںکہ یہ بلغم کو خارج بھی کرتی ہے اور معدے کے مریضوں کو نقصان نہیں دیتی، علاوہ ازیں ریح خارج بھی کرتی ہے، مصفی خون ہے۔نیند پوری لیں جدید تحقیق کے مطابق کم سونے سے جسم کے عروق میں تناؤ اور خشکی پیدا ہوتی ہے، اس تناؤ سے کھانسی ہوتی ہے جو عروق ِ خشنہ میں خراش پیدا کر کے بلغم کی پیداوار بڑھاتی ہے۔ایسے علاقوں میں جانے سے پرہیز کریں جہاں مویشیوں کی بُو ہو ، کیونکہ اس بُو میںمختلف اقسام کے جراثیم ہوتے ہیں۔روزانہ یا ہفتے میں ایک بار ضرور سبز میدان میں جا کر گہرے سانس لینے چاہیے، تاکہ پھیپھڑے تازہ ہوا حاصل کر سکیں۔سرد مزاج کے پھل یا سبزیاں کھائیں تو ہلدی کا استعمال کریں تاکہ اصلاح ہو سکے۔سرد ہوا میں ورزش سے پرہیز کریں۔امتحان یا اسٹریس کے ایام میں مقوی دماغ غداء ضرور لیں۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *