”صرف ایک ہی مرتبہ یہ کام کریں نظر بد کا خاتمہ ایک انڈے سے کریں“

نظر لگنا اس نظر یا دیکھنے کے عمل کو کہا جاتا ہے جس سے دیکھے جانے والے کو نقصان ہو یا پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے۔ صرف ہمارے معاشرے میں ہی نہیں دنیا کی بہت سی ثقافتوں میں یہ خیال ہے کہ اگر کسی شخص کو کوئی حسد یا نفرت کی نظر سے دیکھے تو پہلے شخص پر اس کے منفی اثرات پڑ سکتے ہیں، اس عمل کو نظر لگنا کہتے ہیں۔روائتی مشرقی معاشروں کے ساتھ ساتھ نظرِ بد کا تصور ترقی یافتہ اقوام اور مغربی معاشروں میں بھی موجود ہے اور اس کے علاج کے لیے الگ الگ ثقافتوں میں کئی طریقے اپنائے جاتے ہیں ۔ محققین کے مطابق نظرِ بد کا تصور سب سے پہلے مشرقِ وسطٰی میں اُبھرا ، جہاں قدیم عرب اور یہود قبائل میں اس کے نظریات رائج تھے۔

بعد میں یہ تصور بحرِ روم کے ممالک اور پھر ایشیائی قبائل میں بھی رائج ہوگیا۔ آج اکیسویں صدی میں نظر بد کا تصور مشرق وسطی، وسطی اور مغربی افریقہ، وسطی امریکہ، جنوبی ایشیا، وسطی ایشیا، بحیرہ روم کے خطے، شمالی یورپ کے کلٹی علاقوں سمیت امریکہ میں موجود ہے ۔آج سے چار ہزار برس قبل میسوپوٹیمیا (قدیم عراق) کی آشوری تہذیب میں نظر بد کے تصوارت راسخ تھے اور وہ لوگ نظر سے محفوظ رہنے کے لیے فیروزی یا نیلے رنگ کے موتیوں پتھروں کی مالا پہنتے تھے۔ اس کے علاوہ روبی سے بنی آنکھ کا لاکٹ بھی پہنتے تھے۔یہودیوں میں بھی نظر بد کا تصور رائج ہے، توریت (کتاب استشناء) ، سلیمان کی امثال اور ربیوں کی کتاب پرکی ایوٹ (باپ دادا کی اخلاقیات)میں نظر بد کا تذکرہ تفصیل سے ملتا ہے۔توریت کے دس مقدس احکام میں سے آخری حکم تُو اپنے پڑوسی کے گھر کا لالچ نہ کرنا ۔ تُو اپنے پڑوسی کی بیوی کا لالچ نہ کرنا اور نہ اُس کے غُلام اور اُس کی لَونڈی اور اُس کے بَیل اور اُس کے گدھے کا اور نہ اپنے پڑوسی کی کِسی اَور چِیز کا لالچ کرنا سے یہودی نظرِ بد ہی اشارہ لیتے ہیں۔

یہودیوں کے نزدیک نظر دو طرح کی ہوتی ہے ایک اچھی نظر جس میں دوسروں کو خوش دیکھ کر ان کے لیے خیرسگالی اور احسان کا رویہ رکھنا اور یہ خواہش کرنا کہ سب اچھی زندگی گزاریں اور اس کے برعکس رویہ ظاہر کرنا بُری نظر کہلاتا ہے جس میں کسی آدمی کی خوشی دیکھ کر اُس سے حسد، رشک یا نفرت کا اظہار کرنا ہے۔نظر بد سے بچنے کے لیے یہودی اپنے گھراور سواریوں پر خمسہ نامی ایک پنچے کا نشان لگاتے ہیں جس میں نیلے رنگ سے آنکھ بنی ہوتی ہے، یہودی اس ہاتھ کے نشان کو حضرت موسیٰ کی بہن حضرت مریم سے منسوب کرتے ہیں۔ اگر کوئی بچہ نظر بد کا شکار ہو تو ایک انڈے پر ایک مرتبہ آیت الکرسی اور چارو قل پڑھ کر دم کرکے بچے کے اوپر سے اکیس دفعہ وار کر کسی ویرانے میں انڈہ توڑ دیں اسی طرح لال سرخ مرچ پر بھی یہی عمل کر کے بچے کے اوپر سے اکیس مرتبہ وار کر اس کو جلا دیں انشاءاللہ نظر بد کا خاتمہ ہو جائے گا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *