”مسوڑوں کی سوزش کی وجوہات اور علاج“

اگر آپ کے مسوڑوں سے خون بہتا ہے، منہ سے بدبو آنے کی شکایت ہے، آپ کے دانت وقت سے پہلے گر رہے ہیں یا دانتوں میں ٹھنڈا گرم لگنے کی شکایت ہے تو یہ سب ، دانت کے گرد جھلی کی سوزش یا طبی اصطلاح میں پیرا ڈانٹائٹس کی علامات ہیں۔یہ مسوڑوں کا ایک خاص قسم کا دائمی انفیکشن ہے جو دانتوں پر بیکٹیریا کے حملے کے باعث لاحق ہو جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس بیکٹیریا کے حملے کی وجہ کو ذیابیطس، دل اور خون کی وریدوں سے متعلق مسائل یا جوڑوں کے درد جیسے امراض سے جوڑا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی بھی اس مرض کی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ تاہم اس سے چھٹکارا پانا کیسے ممکن ہے؟ ماہرین نے اس کا ایک آسان سا حل پیش کیا ہے اور وہ ہے اس مرض کا سبب بنے والے بیکٹیریا سے جان چھڑانا۔دانتوں کو دو بار برش کرنے کے علاوہ متعدد بار کلیاں کرنا بھی فائدہ مند ہےجرمن ڈینٹل ایسوسی ایشن کے نائب صدر ڈاکٹر کے مطابق بہت سے لوگ مسوڑوں سے تھوڑا سا خون آنے کو اتنا اہم نہیں سمجھتے،

لیکن اگر تمام دانت متاثر ہو جائیں تو سمجھیں کہ یہ ہتھیلی کے برابر ایک ایسا مستقل زخم بن گیا ہے، جس سے بیکٹیریا جسم میں داخل ہو سکتے ہیں ۔ اس لیے دانت کے گرد جھلی کی سوزش کا فوری طور پر علاج کرایا جانا چاہیے۔ماہرین کے مطابق دہن سے متعلق صحت اور صفائی کا ٹھیک طور سے خیال نہ رکھنے کے باعث اکثر پیرا ڈانٹائٹس کا مرض لاحق ہوتا ہے۔ تاہم اس سلسلے میں سگریٹ نوشی، عمومی امراض، ذہنی تناؤ یا موروثی طور پر اس مرض کا منتقل ہونا بھی مسوڑوں کی اس بیماری کے لاحق ہونے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس طرح ایسی انفیکشن کا باعث بننے والے بیکٹیریا ایسی حالت میں آ جاتے ہیں کہ وہ انسانی جسم میں داخل ہوکر متعلقہ فرد کی قوت مدافعت کو کمزور کر دیتے ہیں۔ڈاکٹروں کے مطابق مسوڑوں میں بیکٹیریا لگنے سےمسوڑے کمزور ہوجاتے ہیں، جس کے باعث سوزش کی شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ ایسے میں مسوڑوں کے سوجنے کے بعد ان سے خون رسنا شروع ہو جاتا ہے۔ اگر یہ صورتحال علاج کے بغیر برقرار رہے

تواس کا نتیجہ دانت کے گرد مسوڑے کے حفاظتی حصے کے بتدریج خاتمے اور پھر دانت کے گرنے کی صورت میں نکلتا ہے۔الٹرا سونک اسکیلر کی مدد سے دانتوں کی صفائی کی جا رہی ہےڈاکٹرز کے مطابق اس صورتحال سے بچنے کے لیے ڈاکٹر کئی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے میں ڈینٹل میڈیسن کے ماہرین کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ دانتوں پر بیکٹیریا کے باعث جمنے والی موٹی تہہ اور دانت کے گرد حفاظتی جھلی کی صفائی کریں تاکہ مسوڑوں کی سوزش کو کم کیا جا سکے۔ اس کے لیے لو کل انستھیزیا استعمال کرتے ہوئے مریض کو پورا بے ہوش کیے بغیر ہی ہُک کی شکل کے ایک اوزار یا سکیلر کی مدد سے دانتوں کی صفائی کی جاتی ہے۔ تاہم اگر پیرا ڈانٹائٹس زیادہ شدید نوعیت کا ہو تو ایسے میں سرجری کے ذریعے جنجیول پاکٹس کو نکالنا بھی پڑ جاتا ہے۔گو کہ بعض لوگوں کو اپنے دہن سے متعلق صفائی اور صحت کا خیال رکھنے کے باوجود پیرا ڈانٹائٹس کی بیماری لاحق ہو سکتی ہے تاہم ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ دن میں دو بار دانتوں کو برش کرنے اور متعدد بار کلی کرنے سے اس انفیکشن کے شروع ہونے کا امکان بہت حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *