”گردے میں پتھری کا علاج“

روسی ڈاکٹر الیگزینڈرمیاسنیخوف نے انکشاف کیا ہے کہ کھانے کی تین اقسام ایسی ہیں جو گردوں کی پتھری کا سبب بن سکتی ہیں۔روسیا الیوم ویب سائٹ کے مطابق ڈاکٹر الیگزینڈرمیاسنیخوف نے کھانے کی ان اقسام کو زیادہ استعمال کرنے سے گریز کا مشورہ دیا ہے۔چربی اور پروٹین:گردے کی پتھری کا سبب بننے والے اجزا یا مادوں میں سے سب سے پہلے نمبر پر جانوروں کی چربی اور وہ پروٹین ہے جو سرخ گوشت میں پائی جاتی ہے۔ یہ مادے گردے کی پتھریوں کے خطرے کو بڑھاتے ہیں، ایسی کچھ دوسری چیزیں بھی ہیں جو اس پریشانی کا سبب بنتی ہیں۔ڈاکٹر الیگزینڈرمیاسنیخوف کا کہنا ہے کہ پالک اور سبزیوں جیسی کھانے کی چیزیں سب کے لیے فائدہ مند ہیں، لیکن وہ خون میں آکسیلیٹ (نمک اور آکسالک ایسڈ کے ایسٹر) میں اضافہ کرتی ہیں ، جس سے پتھری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔سرخ گوشت میں پائی جانے والی چربی اور پروٹین کی وجہ سے بھی گردے میں پتھری بن سکتی ہے

سوفٹ ڈرنکس:سوفٹ ڈرنکس بھی پتھری بننے کا سبب بن سکتے ہیں۔پتھری بننے سے بچنے کا طریقہ یہ زیادہ مشکل نہیں ہے۔ زیادہ سے زیادہ پانی پیجیے۔ نمک ، گوشت ، تیل اور جانوروں کی پروٹینز میں کمی کردیں۔ آبی غذا پتھریوں کے خطرات کو کم کرنے میں بھی مددگار ثابت ہوسکتی ہے ، کیونکہ یہ سبزیوں ، پھلوں اور مچھلی سے مالا مال ہے۔ اسی طرح دودھ کی مصنوعات کی معتدل مقدار بھی اس سے بچاتی ہے۔گردے کی پتھری کیسے بنتی ہے؟گردے کی پتھری بننے سے متعلق امریکہ میں قائم یونیورسٹی آف الینس اربن کے ماہرین نے انکشاف کیا ہے کہ گردے کی پتھری بنتی ہے، پھر ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے، اس کے بعد دوبارہ اس کی نشوونما ہونا شروع ہو جاتی ہے۔دنیا کی 10 فیصد آبادی گردوں کی پتھری میں مبتلا ہے سائینٹفک رپورٹس رسالے میں چھپنے والی تحقیق کے مطابق سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ گردے

کی پتھریوں کا ڈھانچہ قدرتی معدنیات سے ملتا جلتا ہے۔ لہٰذا وہ جزوی طور پر منتشر ہو جاتے ہیں اور پھر بڑھ بھی جاتے ہیں۔محققین میں سے ایک کا کہنا ہے کہ پتھروں کا نیوکلیئس کرسٹل کے آسنجن سے پیدا ہوتا ہے جو نامیاتی مواد اور آکسلیٹ کی پرت کے بعد بڑھنے لگتا ہے۔ جیسے جیسے یہ بڑھتے ہیں ایک یا زیادہ تہیں ٹوٹ جاتی ہیں جو اس کے بعد دوبارہ بڑھنے لگتی ہیں۔واضح رہے کہ دنیا کی 10 فیصد آبادی گردوں کی پتھری میں مبتلا ہے۔ کیلشیم آکسالٹ وہ مادہ ہے جو ان میں سے تقریباً 70 فیصد کی بناوٹ کا ذریعہ ہوتا ہے۔گردے کی پتھری آ ج کے دور میں عام پایا جانے والا مسئلہ بن چکا ہے۔یہ پتھری عام طور پر کیلشیم کی کنکروں جیسی ہوتی ہے جو گردوں کے فعل میں خرابی کی وجہ سے ان میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ پتھری طویل عرصے تک گردے کے کسی ایک حصے میں جمع رہ سکتی ہے لیکن جب یہ اپنی جگہ چھوڑتی ہے تو بے حد تکلیف کا سبب بنتی ہے۔ گردے سے خارج ہو کر یہ مثانے تک آتی ہے اور پیشاب کی نالی کے ذریعے خارج ہوتی ہے۔ یہ ایک سست اور طویل عمل ہے

جس کے دوران مریض کو بے پناہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ عموماً اس کا علاج آپریشن ہی بتایا جاتا ہے لیکن ماہرین کے مطابق کچھ قدرتی غذائیں بھی اس مسئلے کے حل کے لئے تیر بہدف نسخہ ہیں۔ گردوں کی پتھری کے خاتمے کے لئے ایک ایسا ہی مفید نسخہ لیموں کے رس، زیتون کے تیل اور آب جو سے تیار کیا جاسکتاہے۔ لیموں پتھری کو تحلیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو کی وجہ سے پیشاب کی نالی کا تناﺅ کم ہو جاتا ہے، اور زیتون کا تیل اسے ضروری چکناہٹ فراہم کرتا ہے۔یہ نسخہ تیار کرنے کے لئے زیتون کا تیل 100 ملی لیٹر، آب جو 100 ملی لیٹر، اور لیموں کا رس درکار ہو گا۔ ان تینوں چیزوں کو بہت اچھی طرح مکس کرلیں اور روزانہ صبح نہار منہ تقریباً 50 ملی لیٹر مقدار استعمال کریں۔ باقاعدگی سے استعمال کریں تو تقریباً 4 سے پانچ دن بعد پیشاب کی رنگت قدرے زیادہ پیلی محسوس ہونے لگے گی ، جس کا مطلب ہے کہ نسخہ کام کررہا ہے۔ عموماً تقریباً 8دن میں مسئلہ مکمل طور پر حل ہو جاتا ہے۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *