گردوں کو فیل ہونے سے بچانا ہے تویہ پھل کھائیں

اللہ تعالیٰ نے ہمیں جن بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے ان میں گردے انسان کے لیے بے حد قیمتی نعمت ہیں۔ خالق کائنات نے انسان کو دوگردوں سے نوازا ہے۔ ایک جوان مرد کا وزن تقریباً ایک سو پچیس گرام سے ایک سو سترگرام اور عورت کے گردے کا وزن ایک سو پندرہ سے ایک سو پچپن گرام تک ہوتا ہے۔

گردے کے کام کرنے کی کائیکونیفرون کہتے ہیں ایک گردے میں تقریباً پانچ اعشاریہ دو ملین نیفرون ہوتے ہیں۔ گردےانسانی جسم کےلیے وہی کام کرتے ہیں جو ایک ماہر حساب دان یا اکاؤٹینٹ ایک کمپنی کےلیے کرتا ہے۔ ایک دن یا چوبیس گھنٹے کے دوران گردے ایک سو پچاس لیٹر خ ون فلٹر کرتے ہیں۔ جس میں سے تقریباً ڈیڑھ لیٹر پیشاب کشید ہوتا ہے ۔ گردہ انسانی جسم کا ایک انتہائی چھوٹا حصہ ہے ۔ مگر اسے انسانی صحت بہتر نشوونما اور زیادہ زندگی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔

گردے نہ صرف انسانی زندگی کے لیے لازمی حیثیت رکھتے ہیں بلکہ یہ کھائی جانے والی غذا کو ہارمون میں تبدیل کرکے بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے ، پیشاب کی روانی کو بہتر کرنے اور انسانی جسم کو بڑھانے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ جس طرح زیادہ پانی پینا گردوں کے لیے فائدہ مند ہوتےہیں۔ اسی طرح کئی ایسے پھل بھی ہیں۔ جو کڈنی کے امراض کو کم کرنے یا پھر ان کو پیدا ہونے سے روکنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔ ہم آپ کو ایسے پھل بتائیں گے جن کو کھانے سے ہم گردوں کے مسائل سے محفوظ رکھ سکتے ہیں۔ یہ پھل کڈنی کوغذا فلٹر کرنے اور غذا کو ہارمون میں تبدیل کرنے میں مدد بھی فراہم کرتے ہیں۔

اور آخر میں یہ بھی بتایا جائے گا کہ خدانخواستہ گردے کا درد ہوجائے تو کیا کیا جائے ؟ اور کونسی احتیاطی تدابیر پر عمل کریں اور کن غذاؤں پر پرہیز کرنا چاہیے۔ مولی: مولی کا شمار ایسی غذا میں ہوتا ہے جس میں پوٹاشیم اور فاسفورس کی مقدار کم اور وٹامنز زیادہ ہوتا ہے جس کی وجہ سے یہ نظام ہاضمہ سمیت گردوں کےلیے بہت فائدہ مند ہوتی ہے۔ پائن ایپل : فائبرز اوروٹامنز سے بھرپور پائن ایپل نہ صرف کڈنی بلکہ بلڈ پریشر کےلیے بھی مفید ہے۔ مشروم : وٹامن بی اور قدرتی پروٹین بھرپور مشروم بھی گردوں کے امراض کو پید ا ہونےسے روکنے میں مدد گار ہوتے ہیں۔

بلیوبیریز اور اسٹابریز: نیوٹریشنز اور اینٹی آکیسڈینٹ سے بھر پور بلیو بیریز اور اسٹا بریزنہ صرف گردوں بلکہ ذیا بیطس ، بلڈ پریشر اور دل کے امرض کےلیے بھی مفید ہے۔ سرخ انگور: وٹامن سی اور دیگر نیو ٹریشنز سے بھرپور سرخ انگو ر کڈنی سمیت ذیا بیطس اور دل کے امراض کے لیے بھی فائد ہ مند ہے۔ انار: طبی ماہرین کے مطابق اگر کسی شخص کو گردے میں تکلیف ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ باقاعدگی سے انگو ر کا استعمال کرے۔ اس سے نہ صرف گردوں کی ڈایائیلسز سے بچ پائے گا۔

بلکہ اگر روزانہ نصف گلاس انار کا رس پیا جائے اور ساتھ تین کھجوریں کھائی جائیں تو اس سے اینٹی آکسیڈ ینٹس کی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے۔ جو فالج اور دل کے امراض سے بھی بڑی حد تک بچاتی ہے۔ اس کے علاوہ سیب ، پپیتا، شملہ مرچ ، گاجر کا جوس، پیاز، لہسن ، بند گوبھی اورپھول گوبھی گردوں کےلیے بہت مفید ہے۔ اگر گردے کا درد ہوتو کیا کرے ؟ جب گردے کا درد ہوتا ہے تو آدمی ایسے تڑپتاہے۔ جیسے مچھلی پانی کے بغیر تڑپتی ہے جب خدانخواستہ کسی کو ایسا درد ہو تو گردے کے مقام پر فوراً گرم پانی سے ٹکور کریں۔ مولی کا نمک چٹائیں ۔ تمباکو کو ابال کر نیم گرم تمباکو درد کے مقام پر باندھ دیں۔ اور مریض کو ڈاکٹر کےپاس لے جائیں اور الٹراساؤنڈ کروائیں پھرڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق عمل کریں۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *