اٹھرا اسباب اور علاج۔

حمل تو خاتون کا دائرہ اقتدار ہے مرد کے علاج کا کیا معنی۔ دراصل حمل ٹھہرتا صرف عورت کو ہے لیکن اثرانداز پورے خاندان پر ہے خصوصاً اگر اس سے پہلے چند بار حمل ضائع ہو چکا ہو۔ ایسی صورتحال میں ہر نیا حمل زوجین کو بے طرح پریشان کرتا ہے، خوشی سے زیادہ خوف کا عنصر نظر آتا ہے، امید سے زیادہ بے یقینی۔تیقن کے ساتھ دوا کھلانے کی بجائے پیسے اور کوشش ضائع جانے کے خیال کے ساتھ مارے باندھے دوا کھلائی جاتی ہے۔ ڈاکٹر سے ملنا اور اس پر اٹھنے والے اخراجات انتہائی بُرے لگتے ہیں اور دنیا کی لپلپاتی زبانوں کا ناگ ہر لمحے پھنکارتا رہتا ہے۔ ایسی صورت میں خاتون کے جسمانی علاج کے ساتھ ساتھ زوجین کے نفسیاتی علاج کی بھی ضرورت پڑتی ہے۔اٹھرا‘کا الزام عورت کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے۔

ایک طرف ایسی عورت بے بس ماں ہوتی ہے جس کا حمل پیش رفت نہیں کرتا یا اس کا بچہ پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ کو پیارا ہو جاتا ہے۔ حکیمی تشریح کے مطابق ایسی عورت جس کا بچہ دورانِ حمل سے لے کر عمر کے پہلے آٹھ سال کے دوران میں وفات پا جائے اسے ’اٹھرا‘ کی مریضہ کہا جاتا ہے۔ ایسی خاتون کو بد نصیب ،منحوس اور جنات کے سایہ سے متاثر مانا جاتا ہے۔ گھر میں اس سے نچلے درجے کا سلوک کیا جاتا ہے اور دیگر حاملہ خواتین کو اس کے سائے سے بھی بچایا جاتا ہے۔ ایسی خاتون معاشی مقاطعہ کا شکار بنا دی جاتی ہے اور ذہنی اذیت کے اندھے گڑھے میں گرا دی جاتی ہے۔

نئی نویلی دلہنیں ہوں یا رشتے کی منتظر بچیاں یا حاملہ خواتین ان سب کو ایسی خاتون کے سائے سے بھی بچایا جاتا ہے تاکہ ان خواتین کے ساتھ بھی وہی کچھ پیش نہ آئے جس کا شکار ’اٹھرا‘ میں مبتلا خاتون ہے۔ یہ خواتین شادی یا گود بھرائی کی تقریبات پر اوّل تو مدعو نہیں کی جاتیں، اگر مارے باندھے بلا بھی لی جائیں تو انہیں رسوم میں شامل نہیں کیا جاتا۔ یہ ذہنی اذیتیں خاتون کی روح کو ناسور ایسے گھاؤ بخشتی ہیں۔اگر خاتون کے پاس کوئی ذہنی مصروفیت مثلاً نوکری وغیرہ ہے

تب تو معاملات کچھ بہتر رہتے ہیں لیکن ایک گھر کی چاردیواری میں بیمار ماحول کی قیدی ان خواتین کا انجام عموماً ذہنی امراض کے کسی اسپتال میں یا کسی بند کوٹھری میں زنجیروں سے بندھی مخبوط الحواس عورت کی صورت میں ہوتاہے کیونکہ یہ معاشرہ مرد کی دوسری شادی قبول کر لیتا ہے لیکن یتیم خانے سے آنے والے لے پالک بچے کو قبول نہیں کرتا۔ اگر خاتون کے ایک جنس کے بچے بچ جائیں مثلاً بیٹیاں ، چند ضائع ہو جائیں تو بغیر کسی سائنسی ثبوت کے اس خاتون کو ’بیٹوں کا اٹھرا‘ تشخیص کردیا جاتا ہے۔ اس مرض کی تشخیص طب سے زیادہ معاشرتی طور پر کی جاتی ہے، خواتین گزٹ میں اس کی خبر سینہ در سینہ پھیلائی جاتی ہے۔ دم شدہ پانی پینے یا چھڑکنے کے لیے، خوراک میں چند اشیا کی مناہی اور کچھ کا اضافہ، کسی مشکوک فیملی ممبر سے ملنے پر پابندی لگا دی جاتی ہے۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *