کان کا درد اور اس کا علاج۔

برطانوی ماہرین صحت کا ماننا ہے کہ لہسن ایک قدرتی اینٹی بائیوٹک ہے اوراس کی وجہ سے جسم میں کئی طرح کی بیماریاں ختم ہوتی ہے جبکہ سوزش سے بھی نجات ملتی ہے۔ماہرین کے مطابق اگر آپ کا کان تکلیف میں ہو تو رات کو سونے سے قبل لہسن کے ایک ٹکڑے کو کاٹ کر کان میں رکھ لیں اور جب صبح آپ جاگیں گے تو کان کے درد سے مکمل نجات پاچکے ہوں گے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ جوجراثیم کان میں انفیکشن کا باعث بنتے ہیں لہسن انہیں ختم کردیتا ہے، اس سے قبل یہ نسخہ جنرل آف میڈیکل سائنس میں ایک چینی ماہر نے اپنے مقالے میں شائع کیا تھا۔

اس تحقیق کے ساتھ ہی ماہرین کا مشورہ ہے کہ اگر کسی قسم کی الرجی ہو تو اس نسخے کو آزمانے سے پہلے ڈاکٹرز سے ضرور رجوع کریں جب کہ اس طرح کے نسخے بچوں پر آزمانے سے گریز کریں۔ ہسن کی دو پوتھیاں پیس لیں اور دو چائے کے چمچ مسٹرڈ آئل میں مکس کرلیں۔ پھر اس مکسچر کو اس وقت تک گرم کریں جب تک لہسن کی رنگت ہلکی سی سیاہ نہ ہوجائے، اسے ٹھنڈا ہونے دیں اور پھر چند قطرے متاثرہ کان میں ٹپکائیں، لہسن کی سن کردینے والی خاصیت درد میں افاقہ دے گی۔ایک اور قدرتی نسخہ تلسی کے پتوں کا عرق ہے، کچھ پتوں کو پیس لیں اور نکلنے والے عرق سے متاثرہ کان کا علاج کریں، تاہم استعمال سے پہلے عرق کو اچھی طرح ہلا ضرور لیں۔

مک کی کچھ مقدار کو ہلکی آنچ پر گرم کریں اور پھر روئی کو اس پر پھیریں، پھر اس روئی کو کان میں دس منٹ کے لیے لگا رہنے دیں، نمک کان کے اندر موجود سیال کو کھینچ لے گا اور سوجن کم ہوجائے گی۔ جوں جوں انسانی زندگی میں شور شرابا بڑھتا جارہا ہے اس کے ساتھ ہی اس بیماری میں اضافہ ہوتا جارہا ہے کانوں میں مسلسل شور پڑتے رہنا اس بیماری کہا اہم سبب ہے سخت شور میں کام کرنے والا شخص کے کانوں میں بجنے والی گھنٹیاں بہرے پن کی ابتدائی علامت ہوتی ہےاکثر اوقات یہ بیماری نفسیاتی یا اعصابی نوعیت کی ہوتی ہے کان کا میل درد پھوڑا کان بہنا اور کان کی جھلی کا زخمی ہونا اس کے دیگر اہم اسباب ہیں بعض اوقات کونین یا سٹریپٹو مائسین قسم کی دوائیں اس بیماری کا سبب بن سکتی ہے مریض کو کان میں گھنٹیاں یا سیٹیاں بجتی سنائی دیتی ہے۔

یا بعض اوقات تیز ہوا چلنے یا پتوں کے سرسراہٹ کی سی آواز سنائی دیتی ہے دن کے وقت مریض جب اپنے کام میں لگ جاتا ہے تو ان آوازوں کا احساس کم ہوجاتا ہے لیکن رات کے وقت جب ہر طرف خاموشی چھاجاتی ہے تو ان آوازوں کی شدت میں اضافہ ہوجاتا ہے یہ آوازین مریض کو نفسیاتی مریض بنادیتی ہے بعض لوگ ان سے تنگ آکر خودکشی تک کر بیٹھتے ہیں۔ تنہائی مریض کے لیے خطرناک ہے شور شرابے سے دور رہیں ایسا پیشہ ترک کردیں جس میں ہر وقت شور سننا پڑتا ہے اگر ایسا ممکن نہ ہو تو خود کو ماحول کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *