اب موتیا کی دوا سے جراحی کی ضرورت نہیں پڑے گی


جدید تحقیق سے موتیا کا جراحی کے بغیر علاج کرنے کی امید روشن ہوئی ہے۔ فوٹو: فائل

لندن: انسانی بصارت اور موتیا کے ممتاز ماہرین نے کہا ہے کہ بہت جلد موتیا (کیٹریکٹ) کے لیے جراحی کی ضرورت نہیں رہے گی اور عام ادویہ سے ان کا علاج ممکن ہوسکتا ہے۔

موتیا کے عارضے میں آنکھ میں دھیرے دھیرے مائع جمع ہونا شروع ہوجاتا ہے اور آنکھ تک پہنچنے والی روشنی کو روک لیتا ہے۔ اس طرح شدید دھندلاہٹ بہت حد تک معمولات پر متاثر ہوتی ہے۔ اگر اس کا علاج نہ کرایا جائے تو یہ نابینا پن کی وجہ بھی بن سکتے ہیں ۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق دنیا بھر میں اندھے پن کے نصف واقعات کی وجہ موتیا کی مختلف اقسام ہوتی ہیں۔

اس کا واحد علاج جراحی ہے جس میں آنکھ کے اوپر قدرتی لینس نکال کر اس کی جگہ مصنوعی لینس لگایا جاتا ہے۔ اب برطانیہ اینجلیا رسکن یونیورسٹی (اے آریو)، کے ماہرین نے دیگر سائنسدانوں کے تعاون سے ایک تحقیق شائع کرائی ہے۔ انہوں نے طویل تحقیق کے بعد کہا ہے کہ ایک طرح کا پروٹین ’ایکوپورِن‘ آنکھ کے لینس میں پانی کی راہ ہموار کرتا ہے اور لینس متاثر ہونا شروع ہوجاتا ہے اور آخرکار موتیا بننا شروع ہوجاتا ہے۔
سائنسدانوں نے انسانی آنکھ کے لینس کا دس سال تک مشاہدہ کیا ہے۔ یہ تحقیق دنیا کے طاقتور ترین ذراتی تجربہ گاہ ایس اسپرنگ ایٹ نامی سنکروٹرون میں کی گئی ہے۔ واضح رہے کہ سنکروٹرون طاقتور ذراتی اسراع گر (ایسیلیریٹر) ہوتا ہے جو طاقتورایکس رے شعاعیں خارج کرتا ہے۔ اس طرح الیکٹران کو روشنی کی رفتار کے قریب حرکت دی جاسکتی ہے۔ ایکسرے کی بدولت آنکھ کے بصری خواص کو بہت تفصیل سے سمجھا جاسکتا ہے۔

اس طرح انسانی آنکھ کے لینس کی نشوونما اور بڑھوتری کا بغور جائزہ لیا گیا ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے ایکواپورن نامی پروٹین کے کردار کو واضح کیا ہے۔ پھرتحقیق بتاتی ہے کہ نینو ذرات سے کسی جراحی کے بغیر ہی موتیا کا علاج ممکن ہوسکتا ہے اور اس ضمن میں بعض اجزا کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ اس وقت موتیا بننے کے عمل اور لینس کی بناوٹ کو سمجھا گیا ہے اور امید ہے کہ اس طرح ہم عام دواؤں سے موتیا کا علاج کرسکیں گے۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *