”ڈپریشن ، غم اور ناامیدی سے نکلنے کا وظیفہ“

غم انسان سے جدا نہیں ہوتا ہے ،یہ غم انسان کو اندر تک بھی چاٹ جاتا ہے ۔ ایسی علامت پید اہوجائیں تو اسے ہم ڈپریشن کہتے ہیں۔وقتی غم آتا ہے اور ختم بھی ہوجاتا ہے لیکن جب افسردگی مزاج بن جائے اور سوچیں الجھی ،تھکی ہوئی ،مایوسی میں ڈوبی رہیں تو ڈپریشن کا مرض جنم لیتا ہے جسے اب معروف بیماری کا نام دیا جاچکا ہے۔اسکی مسکن ادویات کھانے والے ان کے عادی ہوجاتے ہیں۔جو لوگ روحانیت اور عبادات کے قریب رہتے ہیں ان کے اندر ڈپریشن پنجے نہیں گاڑتا ۔دنیاوی مسائل پر مبنی پریشانی انہیں بھی غم دیتی ہے اور وہ مایوس بھی ہوتے ہیں لیکن ان کے باطن میں روحانی قوت انہیں ڈوبنے نہیں دیتی اور پھر سے ان کے عزم کو تازہ کردیتی ہے۔ڈپریشن کے مرض میں جہاں ادویات لی جاتی ہیں وہاں سب سے بہتر کام عبادت و اذکار کا ہے۔جو لوگ ڈپریشن میں مبتلا رہنے لگ جائیں انہیں یہ دعا بطور وظیفہ پڑھتے رہنا چاہئے ۔کم از کم دن میں تین سو تیرہ بار لازمی پڑھا کریں درود خضری کے ساتھ ۔سوال کیا گیا ہے کہ میں شاذیہ خانم ،میری عمر تیس سال ہے

، میرے دو بیٹے ہیں ، ایک پانچ سال اور دوسرا دو سال کا، میں اپنے بچوں اور شوہر کے ساتھ رہتی ہوں، بچوں اور شوہر کی دیکھ بھال خود کرتی ہوں الحمد للہ، بنا کسی کوتاہی کے، ویسے تو میں ایک ڈاکٹر ہوں پر میرا دل اپنے پروفیش(پیشے) میں نہیں لگتا، میرا دل اور دماغ ہمیشہ آخرت کے باے میں سوچتا رہتاہے، اس درنیا سے زیادہ مجھے اس دنیا کی فکر رہتی ہے، ہر وقت موت مجھے یادرہتی ہے، میں نماز و قرآن کی پابند ہوں، مجھے مرنے سے تو ڈر نہیں لگتا پر مرنے کے بعد انجام سے بہت ڈر لگتاہے اتنا ڈر کہ میرا دنیا میں بالکل دل نہیں لگتا ، اگر مجھے پتا لگ جائے کہ ابھی مرنے پر میری بخشش ہوجائے گی تو میں ابھی مرنا سپند کروں گی ، میں کہیں آتی جاتی نہیں، کوئی کسی قسم کا میک فیشن نہیں کرتی ،

مجھے دکھ ہی نہیں سکھ میں بھی موت یاد رہتی ہے، اتنا زیادہ کہ میں ہنستے ہنستے رونے لگ جاتی ہوں،اس لیے میں نے اپنے شوہر سے ضدکی کہ ہم اس بار حج پر جائیں گے اور فارم بھی جمع کردیا ہے، میں اکثر بیمار رہتی ہوں ، کیا بیماری سے انسان کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں؟ اپنی آخرت بہتر کرنے کے لیے میں اپنے دونوں بچوں کو حافظ بنانا چاہتی ہوں، میرے شوہر اور والد کہتے ہیں کہ میں ڈپریشن کا شکار ہوں ، کیا وہ صحیح ہیں؟ کیا میں صحیح ہوں؟ میرے ذہنی سکون کے لیے کوئی دعا یا وظیفہ بتائیں۔ مہربانی کرکے میرے لیے اور میرے بچوں کے لیے دعا فرمائیں اور ہمار اصلاح کریں۔اور پھر مفتی صاحب کی طرف سے اس کا یہ جواب دیا گیا جو حالات آپ نے اپنے لکھے ہیں وہ تو الحمد للہ سب ٹھیک ہیں

فکر آخرت تلاوت و عبادت کی پابندی وغیرہ امور میں تو ڈپریشن کی کوئی بات نہیں غالباً ڈاکٹری پیشہ میں دل نہ لگنے کی حالت کو شوہر اور والد صاحب ڈپریشن سمجھ رہے ہوں گے اس کا علاج یہ ہے کہ آپ حدود شرعیہ میں رہ کر خدمت خلق کی نیت سے دلجمعی کے ساتھ علاج معالجہ میں بالخصوص عورتوں کے مشغول رہیں تو امید ہے کہ پھر والد صاحب کو یا شوہر کو یہ اشکال نہ رہے گا۔ہر نما کے بعد سورہٴ قریش تین مرتبہ اول و آخر درود شریف تین دفعہ پڑھ کر دعاء کر لیا کریں اور یہی عمل رات کو سونے سے قبل کر لیا کریں۔(الف) بہشتی زیور ۔ (ب) فضائل اعمال ۔ (ج) فضائل صدقات۔ (د) فضائل حج ۔ (ھ) معلم الحجاج کتابیں منگاکر اپنے پاس رکھ لیں اور ان کا مطالعہ کیا کریں اللہ پاک آپ کو اور شوہر کو حج مقبول مبرور عطاء فرمائے بچوں کو حافظ قاری عالم باعمل بنائے سب کو دنیا و آخرت کی سعادت سے مالا مال فرمائے شرور و فتن سے محفوظ رکھے آمین۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *