ایک بیٹا اپنے بوڑھے والد کو یتیم خانے چھوڑ کر واپس لوٹ رہا تھا۔۔

ایک بیٹا اپنے بوڑھے والد کو یتیم خانے چھوڑ کر واپس لوٹ رہا تھا اس کی بیوی نے اسے یہ یقینی بنانے کے لیے فون کیا کہ ولاد تہوار وغیرہ کی چھٹی میں بھی وہیں رہیں گھر نہ چلے آ یا کر یں۔ بیٹا پلٹ کر گیا تو پتہ چلا اس کے والد یتیم خانے کے سربراہ کے ساتھ ایسے گھل مل کر بات کر رہے ہیں کہ بہت پرانے اور قریبی تعلق ہوں۔ تبھی اس کے والد اپنے کمرے کا بند و بست دیکھنے کے لیے وہاں سے چلے گئے اپنے تجسس کو ٹھنڈا کرنے کے لیے بیٹے نے یتیم خانے کے سربراہ سے پوچھ ہی لیا، آپ میرے والد کو کب سے جانتے ہیں؟ انھوں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا گزشتہ تیس سال سے جب وہ ہمارے پاس ایک یتیم بچے کو گود لینے آ ئے تھے

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *