کوروناوائرس سے بچنے کے لئے بازار میں 500روپے میں ملنے والا ہینڈ سینی ٹائیزر صرف 20 روپے میں گھر میں کیسے بنائیں

طبی ماہرین نے کورونا وائرس سے بچنے کیلئے ہاتھوں کو صاف رکھنے کی واضح ہدایات دی ہیں، جس کیلئے سینی ٹائزر کا استعمال بہت ضروری ہے۔مارکیٹ میں سینیٹائزر کی عدم دستیابی یا مہنگا ہونے کی وجہ سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اپنا ہینڈ سینی ٹائزر خود بنانا بہت آسان ہے جس کا طریقہ اس تحریر میں بتایا گیا ہے ۔کرونا وائرس کی تباہ کاریوں نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے، اس کی وجہ سے جہاں ملکی معیشت کو مجموعی طور پر نقصان پہنچا تو دوسری جانب ناجائز منافع خوروں نے بھی اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیا اور کرونا وائرس سے بچاؤ کیلئے استعمال ہونے والی اشیاء ماسک، دستانے اور سینی ٹائزر کی قیمتوں میں از خود اضافہ کرکے پریشان حال شہریوں کو مزید بے حال کردیا ہے۔ناجائز منافع خوروں کو پیسے کی اس قدر ہوس ہے کہ موت کے دہانے پر کھڑے ہونے کے باوجود باز نہیں آرہے، محض ہاتھوں کو صاف کرنے کیلئے ملنے والی سینٹائزر کی چھوٹی چھوٹی اور مہنگی بوتلیں بھی ہماری جیبوں پر بوجھ ڈالے ہوئے ہیں۔لیکن اس جان لیوا وائرس اور دیگر بیماریوں سے بچنے کیلئے اس کا استعمال بھی حد ضروری ہے۔

آئیے آج ہم آپ کو گھر میں سینی ٹائزر بنانے کا آسان مستند اور سستا طریقہ ایک تحریر کے ذریعے بتائیں۔اس تحریر میں انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی اسلام آباد کے پروفیسر ڈاکٹر بشیر احمد نے ہینڈ سینیٹائزر بنانے کا آسان طریقہ بتا رہے ہیں۔کرونا وائرس کی وبا کے دوران سینی ٹائزر کا استعمال لازمی بن چکا ہے تاہم ماہرین نے سینی ٹائزر کو بچوں کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔حال ہی میں ہونے والی ایک تحقیق میں پتہ چلا کہ سینی ٹائزر کا غلط استعمال بچوں کی آنکھوں کے لیے خطرناک ہوتا ہے اور بعض سینی ٹائزرز بے حد خطرناک ہوتے ہیں۔طبی جریدے جاما نیٹ ورک میں شائع ایک تحقیق کے مطابق سینی ٹائزر کے ڈراپس براہ راست آنکھوں میں جانے یا سینی ٹائزر کے استعمال کے بعد ہاتھوں کو آنکھوں سے لگانے سے بچوں کے لیے مشکلات پیش آسکتی ہیں

۔فرانسیسی ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں بتایا گیا کہ اپریل سے لے کر اگست 2020 تک سینی ٹائزر استعمال کرنے والے زیادہ تر بچوں کی آنکھوں کے پردے (کورنیا) پھٹ گئے اور ہنگامی بنیادوں پر ان کی سرجری کرنی پڑی۔تحقیق میں بتایا گیا کہ جن بچوں کی آنکھوں کے کورنیا پھٹے ان میں سے زیادہ تر بچوں کی آنکھوں میں سینی ٹائزرز کے ڈراپس چلے گئے تھے، تاہم بعض بچوں نے سینی ٹائزر کے استعمال کے بعد آنکھوں پر ہاتھ بھی لگائے تھے۔مذکورہ تحقیق میں بھارتی ماہرین نے بھی فرانسیسی ماہرین کی معاونت کی اور انہوں نے بھی ایسے واقعات بتائے، جن سے ثابت ہوا کہ سینی ٹائزر بچوں کی آنکھوں کے لیے خطرناک ہوتے ہیں۔ماہرین کے مطابق زیادہ تر سینی ٹائزرز میں الکوحل کی ہلکی قسم ایتھنول یا ایتھنائل ہوتی ہے، جسے عام طور پر مشروبات میں بھی آمیزش کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور اس مادے میں شامل بعض ذرات اتنے شدید ہوتے ہیں کہ وہ آنکھوں کے پردوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ماہرین نے تجویز دی کہ بچوں کو سینی ٹائزر کے بجائے صابن استعمال کرنے کی ترغیب دی جائے یا پھر سینی ٹائزر کے بعد سادہ پانی سے بچوں کے ہاتھ دھو دیے جائیں۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *