چنے : کب ، کیسے اور کتنا وزن کم کیسے کیاجائے

گھریلو کھانے میں چنوں کو ایک بہت اچھا کھانا مانا جاتا ہے یہ ایسا اس لیے ہے کہ اس میں پروٹین کی مقدار بہت زیادہ ہونے کے ساتھ ساتھ کئی دوسرے ضروری غذائیت بھی کافی مقدار میں موجود ہوتے ہیں۔ لیکن یہاں یہ بھی سمجھنا ضروری ہے کہ کسی کھانے کا پورا فائدے لینے کے لیے اس کھانے کے فائدے اور نقصان پتہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کے کھانے کا صیحح وقت اور طریقے سے کھانے کا پتہ ہونا ضروری ہے۔ آپ کو بتائیں گے کہ چنا کھانے کے کیا کیا فائدے اور نقصان ہیں؟ چنے ایک دن میں زیادہ سے زیادہ کتنا کھانا چاہیے؟ چنے کھانے کا صیحح وقت کیا ہے؟

اور وزن بڑھانے یا کم کرنے والوں کو چنوں کوکیسے استعمال کرنا چاہیے؟ پہلے آپ کو بتاتے ہیں کہ چنے کے کھانے کے کیافائدے اور نقصان ہیں ۔ چنے میں کاربوہائیڈریٹ اور پروٹین کی وافر مقدار موجود ہوتی ہے۔ اور ساتھ ہی اس میں وٹامن بی نائن یعنی فولک ایسڈ ، میگینز، پوٹاشیم ، آئرن، پوٹاشیم ، کاپر ، زنک اور دوسرے کئی طرح کے وٹامنز اور منر لنز کافی مقدار میں موجو د ہوتے ہیں۔ سب سے اچھی بات یہ ہے کہ چنے میں فائبرز کی اچھی خاصی مقدار موجود ہوتی ہے جو کہ کاربویائیڈریٹ کو دورکرنے اور قبض کو دور کرنے اور معدے کو بہتر بنانے میں بہت مدد کرتا ہے۔

کیونکہ کسی انسان میں قبض ہونا فائبر ز کی کمی کے باعث ہوتا ہے اور چنے میں فائبرز بہت زیادہ تعد اد میں موجود ہوتا ہے اور جسم میں برے کولیسٹرول کم کرنے کے ساتھ ساتھ بلڈ پریشر اور بلڈ شوگر کو کنٹرول کرنے میں بھی مدد کرتا ہے ساتھ ہی اس میں جو ہائی کوالٹی پروٹین ہوتا ہے وہ وزن بڑھانے اور کم کرنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے لیکن اس کے لیے ضروری یہ ہے کہ اس کو صیحح طریقے سے استعمال کیا جائے ۔ اب ہم یہ جان لیتے ہیں کہ چنے کو کچا یا پکا کر کس طرح کھانا درست ہوتا ہے؟ یہاں اس بات کا سمجھنا ضروری ہے کہ چنے کو الگ الگ طریقے سے پکا کر کھانے کے الگ الگ فائدے ہوتے ہیں۔

بعض اوقات صیحح معلومات نہ ہونے کی وجہ سے چنا کھانے سے نقصان بھی ہوسکتا ہے پانی میں بھیگے ہوئے چنوں میں پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے لیکن جب معد ے اس کو ہضم نہ کرپائے تو نقصان بھی ہوتا ہے ۔ کیونکہ کچے چنے کو فائبرز کو توڑنے میں ہمارے ڈائجیسٹو سسٹم کو بہت محنت کرنی پڑتی ہے۔

اس سے اگر آپ کچے چنے کھانے کے شوقین ہیں۔ تو چنوں کو اچھی طرح چبا کر کھائیں اور کم مقدار میں کھائیں ۔ اسی طرح اگر ابال کر چنا کھایا جائے تو اس کے فائدے اور بھی بڑھ جاتے ہیں۔ کیونکہ اس میں اینزائمز، پروٹین، وٹامنز، منرلنز او ر فائبرز کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ چنا مکمل سورس فوڈ نہیں مانا جاتا ہے۔ کیونکہ اس میں مائی تھی نین نامی مائنوایسڈ موجود نہیں ہوتا۔ لیکن چنا ابالنے کے بعد تمام امائنو ایسڈ ز کے اجزاء آجاتے ہیں اور یہ ایک پورا پروٹین فوڈز بن جاتا ہے۔

اب بات آتی ہے کہ چنوں کو کتنی مقدار میں کھانا چاہیے کسی بھی انسان کو ایک دن میں کتنی مقدار میں چنے کھانے چاہیے یہ اس کی معدے اور صحت پر منحصر ہوتا ہے لیکن اگرآپ کچے چنے یعنی بھیگے ہوئے چنے استعمال کرتے ہیں۔ توآپ کو ایک یا دو مٹھی سے زیادہ استعمال نہیں کرنا چاہیے اور کھاتے وقت اچھے سے چبا کر کھانا چاہیے کیونکہ پانی میں بھیگے ہوئے چنے تھوڑا بھاری ہوتا ہے۔ تو زیادہ استعمال کرنےسے گیس اور پیٹ درد جیسے بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جب اس کو ابال کر یا پکا کر کھانے سے پچاس سے ساٹھ گرام تک کوئی بھی استعمال کرسکتا ہے ۔ جو لوگ جم یا ایکسر سائز کرتے ہیں وہ اپنی ضرورت کے حساب سے سو یا ڈیڑ ھ سوگرام تک بھی چنے کا استعمال کرسکتے ہیں ۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *