”یورک ایسڈ (جوڑوں کا درد) چند دن میں مکمل کنٹرول“

پیورین کے ٹوٹنے کی وجہ سے جسم میں یورک ایسڈ بنتا ہے جو خون سے گردوں تک پہنچتا ہے اور گردوں سے پیشاب کے ذریعے جسم سے باہر نکلتا ہے۔جب یورک ایسڈ جسم سے باہر نہ نکلے تو یہ جسم کے اندر چھوٹے چھوٹے کرسٹل کی شکل میں جوڑوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔ اس کی وجہ سے جوڑ بے کار ہو جاتے ہیں اور مریض کا چلنا پھرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔یورک ایسڈ بڑھنے کا تعلق صرف غیر صحت بخش غذا کھانے سے نہیں ہے بلکہ یورک ایسڈ ذہنی امراض اور دل کے جملہ امراض ہونے کے باعث بڑھ سکتا ہے۔یورک ایسڈ کو کنٹرول کرنے کے لئے چند عادات کو ترک کرنا پڑتا ہے اور چند غذائی عادات کو اپنی روز مرہ زند گی میں شامل کرنا پڑتا ہے۔جوڑوں میں درد ہوناگانٹھے پڑناپیر کے انگوٹھوں میں سوجن جوڑوں میں سوجن۔احتیاط یورک ایسڈ بڑھنے پر بڑے کا گوشت کم کر دیں۔کھانے کو زیتون کے تیل کے علاوہ گھی یا دیگر تیلوں میں مت پکائیں کم چکنائی والا دودھ استعمال کریںش راب اور تمباکو نوشی ہر گز نہ کریں اومیگا 3 فیٹی ایسڈ زیادہ استعمال نہ کریں سرکہ :سرکہ ایک قدرتی کلینسر اور ڈٹوکسفائر ہے۔سرکہ ہمارے جسم سے فاضل مادہ جس میں یورک ایسڈ شامل ہے باہر نکالنے میں مدد کرتا ہے

بلکہ اس میں موجو د میلک ایسڈ یورک ایسڈ کو ٹوڑ کر پیشاب کے ذریعے باہر نکالنے میں مدد کرتا ہے۔ایک گلاس پانی میں ایک چمچ خالص ا?رگینک سرکہ حل کر کے پینے سے یورک ایسڈ کنٹرول ہوتا ہے۔یہ محلول ۴ ہفتہ تک دن میں دو دفعہ استعمال کرنے سے یورک ایسڈ کنٹرول ہوتا ہے۔لیموں:لیموں وٹامن سی اور الکلائن سے بھر پور ہوتا ہے۔لیموں کا عرق بظاہر تیزابی خصوصیات رکھتا ہے لیکن اس میں موجود وٹامن سی یورک ایسڈ کو فوری کنٹرول کرتا ہے۔ایک گلاس نیم گرم پانی میں آدھا لیموں نچوڑ کر پینے سے یورک ایسڈ کنٹرول ہوتا ہے۔اس محلول میں حسب ذائقہ شہد یا چینی بھی ملائی جا سکتی ہے۔اس محلول کو صبح نہار منہ چار ہفتہ تک پینے سے جلد فائدہ ہوتا ہے ا سکے علاوہ وٹامن سی لینے کے لئے ڈکٹر کے مشورے کے مطابق وٹامن سی سپلیمنٹ بھی لئے جا سکتے ہیں۔سبز چائے:روزانہ رات کھانے کے بعد سبز چائے پینے سے یورک ایسڈ کنٹرول ہوتا ہے اور گنٹھیا کا درد نہیں بڑھتا۔فائبر:یونیورسٹی آف میری لینڈ میڈیکل سینٹر کے مطابق ایسے کھانے جن میں فائبر کی مقدار زیادہ ہو استعمال کرنے سے یورک ایسڈ کنٹرول ہوتا ہے ،جیسے اسپغول ،دلیہ ،جو باجرہ ،بروکلی ،سیب ،کینو ،ناشپاتی ،اسٹرابیریز ،بلو بیریز ،کھیرا ،گاجر اور کیلا۔یہ وہ غذا ہیں

جو قبض دور کرتی ہیں جن کے کھانے سے پیشان کھل کر ا?تا ہے جس سے یورک ایسڈ کا اخراج ممکن ہوتا ہے۔سبزیوں کا جو س:عام طور پر ذیابطیس کے مریضوں کا یورک ایسڈ جلد بڑھ جاتا ہے اور وہ ایسی غذا نہیں کھا پاتے جس سے یورک ایسڈ کنٹرول میں آتا ہے۔لہذا ایسے مریض جو ہر پھل اور ہر سبزی نہیں کھا پاتے انھیں روزانہ ایک گاجر اور تین کھیروں کا رس نکال کر پینا چاہئے۔اس جوس سے شوگر بھی کنٹرول ہو گی اور یورک ایسڈ بھی کنٹرول ہو گا۔چیری اور اسٹرابیری:چیری میں اینتھو سائنس نامی ایک جز پایا جاتا ہے جو یورک ایسڈ کو کنٹرول کرتا ہے۔چیری اور بریز ( اسٹرابیریز اور بلو بیریز ) یورک ایسڈ کو کرسٹل کی شکل بننے سے روکتی ہے کیوں کہ یہ ہی کرسٹلز جوڑوں میں جمع ہو کر گنٹھیا کا درد پیدا کرتے ہیں۔بیکنگ سوڈا:بیکنگ سوڈا جسے بائی کاربونیٹ آف سوڈا بھی کہا جاتا ہے یورک ایسڈ کو کم کرنے اور جوڑوں کا درد کم کرنے میں انتہائی مفید ہوتا ہے۔ بیکنگ سوڈا یورک ایسڈ کو پگھلانے اور گردوں کے ذریعے نکالنے میں مدد کرتا ہے۔آدھا چائے کا چمچ بیکنگ سوڈا ایک گلاس پانی میں حل کر کے دن میں ایک دفعہ پئیں۔ہائی بلڈ پریشر اور60 سال کی عمر سے زائد افراد ڈاکٹر کے مشورے سے اس ٹوٹکے پر عمل کریں۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *