”عید الفطر مستحب و مسنون اعمال“

نقشۂ دنیا پر بسنے والی تمام ہی اقوام وملل کا یہ دستوراور طریقۂ کار رہا ہے کہ وہ سال کے کچھ دن بطور جشنِ مسرت کے مناتے ہیں جسے عرف عام میں عیدیاتہوار کہا جاتاہے، ہر قوم وملت کے خوشی اورعید منانے کے طریقے جداگانہ ہوسکتے ہیں ؛لیکن مقصود سب کا خوشی منانا ہوتا ہے،اسلام چونکہ دین فطرت ہے ،یہ انسان کی نفسیات کی رعایت کرتا ہے ؛ اس لئے اس نے اپنے ماننے والوں کے لئے بھی دو دن بطور عید اور جشن مسرت کے عطا کئے ہیں؛ چونکہ یہ انسانی طبیعت اور فطرت کا تقاضا بھی ہے کہ انسان زندگی کی یکسانیت سے اکتاتا ہے ، وہ کچھ وقت اور لمحات اور شب ورز ، روزانہ کے معمول سے ہٹ کر ہنس بول کر خوشی اور مسرت کے کے اظہار کے ساتھ گذارنا چاہتا ہے ۔حضرت انس صسے روایت ہے کہ (ہجرت کے بعد)رسول صلی اللہامدینہ تشریف لائے (اہل مدینہ نے)دو دن کھیل کود کے لیے مقرر کر رکھے تھے آپ صلی اللہا نے پوچھا :یہ دو دن کیسے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ زمانہ جاہلیت میں ہم ان دنوں میں کھیلا کرتے تھے ،

آپ ا نے فرمایا :اللہ تعالی نے ان دنوں کے بدلہ میں تمہیں ان دنوں سے بہتر دو دن عطا فرمائے ہیں ایک یوم الاضحی اور دوسرا یوم الفطر۔لیکن اسلامی اعیاد کا امتیاز یہ ہے کہ یہاں ہر موقع سے خواہ وہ مسرت وشادمانی اور فرط وانبساط کے مشروع مواقع ہی کیوں نہ ہوں ؛لیکن اسلامی حدود وقیود کی پابندی کرنی ہوتی ہے ، ہر عمل کاطریقہ ٔکار ہوتا ہے ، نہ یہ کہ دوسری اقوام کے مانند شتر بے مہار کے مثل خوشی اور مسرت اور عید وتہوار کے نام پر اخلاقی اورانسانی اقداروروایات کا قتل وخون کیا جائے ،ہر طرح کی موج مستی اور عیش کوشی اور حیوانیت کی اجازت دی جائے کہ خوشی کے موقع سے انسان انسانیت کے لبادہ سے نکل کر حیوانیت اور بربریت پر اتر آئے ؛ بلکہ ہر کام کا طریقۂ کار اوراس کے اصول ہوتے ہیں ، جن کوپیش نظر رکھ کر وہ عمل انجام دیا جاتا ہے ،خصوصا عید الفطر کی مسرت وشامادنی کی گھڑی جو منائی جاتی ہے وہ رمضان کے طویل ، صبر آزما ، عبادتوں وریاضتوں سے معمور جدوجہد کے بعد ، جب بندہ ایک مہینہ کے روزے ، راتوں کی طویل تراویح ، شب گذاری ، تلاوتِ قرآن ان اعمال سے جب اللہ کا قرب حاصل کرتا ہے تو اس کے بعد اس کو ان صبر آزما اور مشقت آمیز اعمال کو بخیر وخوبی انجام دینے پر یہ عید کی مسرتیں اور شادمانیاں عطا کی جاتی ہیں ، پھر ان عید کے اعمال کو بھی سنت کے مطابق انجام دینا ہے

،یہاں بھی قدم قدم پر اللہ اور اس رسول ا کے احکام کو بروئے کار لاتے ہوئے عید منانی ہے ، نہ یہ اپنی من مانی اور نفسانی طریق کو اپنانا ہے ، شریعت کی روشنی میں حضور اکرم ا کے معمولات کے مطابق عید کے اعمال کو انجام دینا ہے ۔ عید الفطر کی نماز پڑھنے میں کسی قدر تاخیر مسنون ہے ، اور عیدالأضحی کی نماز پڑھنے میں جلدی کرنا مستحب ہے ؛ کیونکہ عید الفطر میں نماز سے پہلے صدقۂ فطر نکالنا ہوتا ہے ، اور عیدالأضحی میں نماز کے بعد جانوروں کی قربانی کا مسئلہ ہوتا ہے ، اور قربانی میں عجلت مطلوب ہے ۔ عید الفطر کی نماز سے پہلے مطلق نفل پڑھنا درست نہیں ہے ،خواہ وہ اشراق ہو یا چاشت بلکہ مختار قول پر مکروہ ہے ، نہ ہی مسجد و عیدگاہ میں صحیح ہے ، اور نہ ہی گھر میں ؛ البتہ نماز عید کے بعد عیدگاہ و مسجد میں نفل پڑھنا درست نہیں ہے ، گھر میں درست ہے اور حضور کا عمل بھی یہی تھا (درمختار و ردالمحتار : ۱/۵۵۷)۳۔عیدخوشی اور حق تعالی شانہ کی ضیافت کا دن ہے؛ اس لئے اس مناسبت سے غسل کرنا اور عمدہ سے عمدہ لباس پہننا اور عطر لگانا سنت ہے (ردالمحتار : ۱/۵۵۶) ،حضرت عبد اللہ بن عباس ص سے روایت ہے : اللہ کے رسول اعید الفطر اور عید الاضحی کے دن غسل فرماتے تھے۔

امام بیہقی ؒ نے اس دن عمدہ لباس پہننے کے بارے میں نبی کریم ااور حضرت عبد اللہ بن عمر ص کا اثر نقل کیا ہے : نبی کریم ا ہر عید میں نئی نرم منقش چادر پہنتے تھے ۔حضرت نافع نقل کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر ا عیدین میں عمدہ سے عمدہ کپڑا زیب تن فرماتے تھے مسجد اور عیدگاہ دونوں میں عیدین کی نماز درست ہے ، البتہ عیدگاہ میں افضل ہے ؛ کیونکہ آنحضرت اکا عمل مبارک عیدگاہ میں پڑھنے کا رہا ہے ، بلا عذر مسجد میں ادا نہیں فرمائی ؛ التبہ بارش کی وجہ سے مسجد میںنماز ادا فرمائی چنانچہ حضرت ابوسعیدخدری ص سے منقول ہے: نبی کریم ا عید الفطر اور عید الاضحی کے دن عیدگاہ تشریف لے جاتے تھے ، سب سے پہلے آپ انماز پڑھاتے ، نماز سے فارغ ہونے کے بعد لوگوں کی طرف رخ کرکے خطبہ کے لئے کھڑے ہوجاتے ، اور لوگ بدستور صفوں میں بیٹھے رہتے ۔ عیدالفطر کے دن تمام روزے دار اللہ جل شانہ کے مہمان ہیں ، اسلئے اللہ تعالی کی ضیافت کی طرف سبقت کرتے ہوئے عید الفطر کی نماز سے پہلے ایک یا اس سے زائد طاق کھجور کھانا مسنون ہے ،اور کھجور میسر نہ ہونے کی صورت میں کوئی میٹھی چیز کھانا مستحب ہے ۔ حدیث میں ہے کہ نبی کریم ا عید الفطر کے روز عیدگاہ جانے سے پہلے کچھ تناول فرماتے تھے اور ایک روایت میں ہے اللہ کے رسول ا عید الفطر کے دن عیدگاہ جانے سے پہلے چندکھجور کھا لیتے تھے ،

اور وہ بھی طاق عدد ہی کھاتے تھے علامہ شامی کہتے ہیں کہ : حدیث کی عبارت سے ظاہر ہے کہ کھجور افضل ہے ، اگر کھجور میسر نہ ہو تو کوئی بھی میٹھی چیز کھا لے البتہ سویاں یاکسی اور میٹھی چیز کا پکانا ضروری ہی سمجھے تو یہ عمل شریعت کے خلاف ہوگا۔جیساکہ ہمارے یہاں یہ رواج ہے کہ عید کے دن کھجور اور دودھ سے افطار کیا جاتا ہے ، یہ عمل غیر مشروع اور بدعت ہے ۔ نماز عید کے لئے مسجد جانا ہو یا عیدگاہ کی طرف ، بہر صورت پیدل جانا مستحب ہے ؛ کیونکہ اس میں تواضع ہے ، اگر کوئی گاڑی یا کسی دوسری سواری سے عید کی نماز پڑھنے جائے ، تو نہ کوئی گناہ ہے ، اورنہ کراہت ، صرف خلاف اولی ہے ؛ البتہ واپسی میں سوار ہوکر بھی آیا جاسکتا ہے ، اس میں کوئی کراہت نہیں ہے ؛ چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عمر ص سے روایت ہے :اللہ کے رسول ا عید کے لئے پیدل چل کر آتے اور پیدل واپس جاتے تھے اسی طرح کا اثر حضرت علی ص سے بھی منقول ہے اگر کوئی شخص پاپیادہ چلنے پر قادر ہو ، تو عیدگاہ پیدل جانا مستحب ہے ؛ اس لئے کہ یہ تواضع سے قریب تر ہے، ویسے سواری سے بھی جانا مکروہ نہیں ہے ۔عیدین میں بکثرت تکبیر کہنا بھی مسنون ہے، حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے

کہ رسول اللہ انے فرمایا : اپنی عیدوں کو تکبیر سے مزین کرو عید الفطر کے موقع سے جہرا (زور سے) تکبیر نہ کہے بہرحال ہر دم اللہ کی بڑائی اور عظمت کا خیال ذہن ودماغ میںہو ، اس کی یاد زبان تر رہے ، ایسا نہیںکہ خوشی کے موقع سے اللہ کی یاد اور اس کے استحضار سے غفلت برتی جائے ۔۷۔ اور یہ بھی مسنون ہے کہ جس راستے سے عید گاہ جائے ، اس کے علاوہ دوسرے راستہ سے واپس آئے ،آپ اکا بھی معمول بھی یہی تھا کہ جس راستہ سے عیدگاہ تشریف لے جاتے ، اسی راستہ سے واپس نہ ہوتے ؛ بلکہ دوسرا راستہ اختیار فرماتے عیدگاہ جانے سے قبل صدقہ فطر بھی ادا کردے ، صدقہ فطر ہر مسلمان عاقل وبالغ پرجونصاب یا اس کے مساوی مال کا مالک ہو واجب ہے ، خواہ یہ نصاب نقدی کی شکل میں ہو یا مال تجارت کی شکل میں یا رہائشی مکان کی شکل میں ، اس کو نماز عید سے پہلے ادا کرنا اس لئے ہے کہ غرباء اور فقراء بھی عید کی خوشیوں میں سب کے برابر شریک رہیں ،نصف صاع یعنی دو پونے دو سیر گیہوں یا اس کی قیمت ادا کرے ۔حضرت عبد اللہ بن عبا س رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ انے رمضان کے آخری دنوں میں لوگوں سے کہا کہ : تم اپنے روزوں کی زکوۃ نکالو( یعنی صدقہ فطر نکالو)رسول اکرم انے یہ صدقہ ہر مسلمان آزاد وغلام مرد وعورت اور چھوٹے بڑے پر کجھوراور جو میں سے ایک صاع اور گیہوں میں سے نصف صاع قرار دیا ہے مصافحہ اور معانقہ یہ اظہار محبت کے ذرائع میں سے ہیں ؛ اس لئے مصافحہ اور معانقہ کے بڑے فضائل احادیث میں بیان فرمائے گئے ہیں ، البتہ یہ بات قابل توجہ ہے کہ معانقہ کس جانت سے ہو تو مفتی رشید احمد صاحب (صاحب احسن الفتاوی نے )بائیں جانت معانقہ کو معمول اور راجح بتایا ہے ، چونکہ معانقہ کا مقصود ہیجان المحبۃ ہے ،اس کے لئے بائیں جانب ہی راجح ہے جو محل قلب ہے

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *