”عید الفطر کی رات کی عظمت اور ہمارا رویہ“

دین اسلام دین کامل و اکمل ہے۔ ہمارا دین ہمیں ماں کی گود سے لے کر گور تک زندگی کے ہر مرحلہ کے لئے کافی و شافی ہدایات سے نوازتا ہے۔ اسی طرح دین اسلام نے اسلامی، روحانی اور معاشرتی تہوار کے منانے کے انداز اور طور طریقے کے علاوہ اس کے حدود و قیود بیان فرمادی ہیں۔ ذیل میں ملت اسلامیہ کے عظیم الشان روحانی و معاشرتی تہوار عیدالفطر کی بابت عظمت و فضیلت اور فلسفہ کے علاوہ دیگر احکام پر تفصیل سے بات کی جائے گی۔لفظ عید کا معنی و مفہوم عید کا لفظ عود سے مشتق ہے، جس کا معنی لوٹنا اور خوشی کے ہیں کیونکہ یہ دن مسلمانوں پر بار بار لوٹ کر آتا ہے اور ہر مرتبہ خوشیاں ہی خوشیاں دے جاتا ہے، اس لئے اس دن کو عید کہتے ہیں۔عید کا معنی و مفہوم بیان کرتے ہوئے حضرت امام راغب اصفہانی رحمۃ اللہ علیہ رقمطراز ہیں: عید لغت کے اعتبار سے اس دن کو کہتے ہیں جو بار بار لوٹ کر آئے اور اصطلاح شریعت میں عیدالفطر اور عیدالاضحی کو عید کہتے ہیں اور یہ دن شریعت میں خوشی منانے کے لئے مقرر کیا گیا ہے۔

عید اور خوشی کا یہ دن مسلمانوں کا عظیم اور مقدس مذہبی اورمعاشرتی تہوار ہے جو ہر سال یکم شوال المکرم کو انتہائی عقیدت و احترام، جوش و جذبے اور ذوق و شوق سے منایا جاتا ہے۔عیدالفطر کی وجہ تسمیہ:یکم شوال المکرم کو عیدالفطر کہنے کی وجہ یہ ہے کہ افطار اور فطر ہم معنی ہیں۔ جس طرح ہر روزہ کا افطار غروب آفتاب کے بعد کیا جاتا ہے اسی طرح رمضان المبارک کے پورے مہینے کا افطار اسی عید سعید کے روز ہوتا ہے۔ اس لئے اس یوم مبارک کو عید الفطر کہتے ہیں۔عید انبیاء ماسبق (علیہم السلام) کی مستقل روایت اگر تاریخ امم سابقہ کا مطالعہ کیا جائے تو یہ بات اظہر من الشمس ہوتی ہے کہ اسلام سے قبل ہر قوم اور ہر مذہب میں عید منانے کا تصور موجود تھا۔ ان میں سے بعض کا ذکریوں ملتا ہے ابوالبشر حضرت سیدنا آدم علیہ السلام کی توبہ کو جس دن اللہ رب العزت نے قبول فرمایا۔ بعد میں آنے والے اس دن عید منایا کرتے تھے۔جدالانبیاء حضرت سیدنا ابراہیم علیہ السلام کی امت اس دن عید مناتی تھی جس دن حضرت حضرت ابراہیم علیہ السلام کو نمرود کی آگ سے نجات ملی تھی۔اسی طرح حضرت سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی امت اس دن عید مناتی تھی جس دن انہیں فرعون کے ظلم و ستم سے نجات ملی تھی۔

حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کی امت اس روز عید مناتی تھی جس روز آسمان سے اُن کے لئے مائدہ نازل ہوا تھا۔الغرض عید کا تصور ہر قوم، ملت اور مذہب میں ہر دور میں موجود رہا ہے لیکن عید سعید کا جتنا عمدہ اور پاکیزہ تصور ہمارے دین اسلام میں موجود ہے ایسا کسی اور دین میں نہیں۔شبِ عید کی فضیلت:ہمارے ہاں تو شب عید یعنی چاند رات گھر سے باہر گلیوں اور بازاروں سے گزاری جاتی ہے تاہم احادیث نبوی صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں یکم شوال کی شب (شبِ عید) جسے عرفِ عام میں چاند رات کہا جاتا ہے، اس کی بہت زیادہ فضیلت اور عظمت بیان ہوئی ہے۔عیدالفطر درحقیقت یوم الجائزہ اور یوم الانعام ہے کیونکہ اس دن اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے بندوں کو انعام و اکرام، اجرو ثواب اور مغفرت و بخشش کا مژدہ سناتا ہے۔

جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جب عیدالفطر کی رات آتی ہے تو اس کا نام آسمانوں پر لیلۃ الجائزہ (یعنی انعام و اکرام کی رات) لیا جاتا ہے اور جب عید کی صبح ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتا ہے، وہ زمین پر آکر تمام گلیوں اور راستوں پر کھڑے ہوجاتے ہیں اور ایسی آواز سے (جسے جنات اور انسانوں کے علاوہ ہر مخلوق سنتی ہے) پکارتے ہیں: اے امت محمد( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم)! اُس ر ب کریم کی بارگاہ کی طرف چلو جو بہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے سے بڑے قصور کو معارف فرمانے والا ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *