”مقصود لذاتہ اور غیر مقصود لذاتہ روزوں میں ایک روزہ کئی نیتوں سے رکھنے کا مطلب“

متعدد عبادات کی مشترکہ نیت کرنے کا اصول یہ ہے کہ: دو میں سے ایک عبادت غیر مقصود لذاتہ ہو تو وہ دوسری عبادت کے ساتھ مشترکہ نیت کے ذریعے شامل ہو سکتی ہے۔ یہ اصول روزوں اور دیگر عبادات میں بھی روا ہے۔ چنانچہ روزوں میں سے مقصود لذاتہ روزے : ماہ رمضان، قضائے رمضان، نذر کے روزے، اور مخصوص ایام کے روزے مثلاً: یوم عرفہ، عاشورا، سوموار اور جمعرات کے روزے شامل ہیں۔ -اگر چہ ان ایام کے متعلق اہل علم کا اختلاف موجود ہے کہ کیا یہ سب دن مقصود لذاتہ ہیں یا نہیں؟- جبکہ غیر مقصود لذاتہ روزوں سے مراد یہ ہے کہ کسی بھی دن میں مستحب روزہ رکھنا ہو، اس روزے کے لیے کوئی دن مخصوص نہ ہو، جیسے کہ ہر ماہ میں تین روزے رکھنے کا عمل ہے۔

لہذا یوم عرفہ یا سوموار کے دن کا روزہ اور مہینے میں رکھے جانے والے تین روزوں میں سے کسی بھی ایک دن کی نیت مشترکہ ہو سکتی ہے۔ جیسے کہ “الموسوعة الفقهية “(12/ 24) میں ہے کہ: ” کوئی شخص دو عبادتوں کی مشترکہ نیت کرنا چاہے کہ دونوں کی بنیاد تداخل [یعنی یکساں کیفیت اور مقصد ] پر مبنی ہو جیسے کہ جمعہ اور غسل جنابت، یا غسل جنابت اور حیض کا غسل، یا جمعہ اور عید کا غسل وغیرہ۔ یا پھر دونوں میں سے ایک عبادت غیر مقصود ہو جیسے کہ تحیۃ المسجد کی رکعات فرض یا کسی بھی سنت کے ساتھ مشترک نیت کے ساتھ پڑھی جائیں تو اس سے کسی بھی عبادت میں کوئی قدغن پیدا نہیں ہو گی؛ کیونکہ غسل کی بنیاد تداخل پر مبنی ہے،

جبکہ تحیۃ المسجد وغیرہ جیسی نمازیں غیر مقصود لذاتہ ہیں ؛ کیونکہ اس نماز میں مسجد جیسی جگہ پر نماز ادا کرنا مقصود ہوتا ہے اس لیے تحیۃ المسجد وغیرہ کی رکعات کسی دوسری نماز کے ساتھ مشترکہ نیت کے ساتھ اکٹھی ہو سکتی ہے۔ جبکہ دو ایسی عبادات کی مشترکہ نیت کرنا جو کہ مقصود لذاتہ ہیں جیسے کہ ظہر کی فرض رکعات اور سنت مؤکدہ کی رکعات تو یہ نمازیں مشترکہ نیت کے ساتھ ادا کرنا درست نہیں ہیں؛ کیونکہ یہ دونوں نمازیں الگ الگ مطلوب ہیں لہذا ظہر کی چار رکعات یا ظہر کی چار سنت مؤکدہ میں سے کوئی بھی نماز ایک دوسرے کے ساتھ مشترکہ نیت سے ادا نہیں ہو سکتی۔” ختم شد ڈاکٹر سلیمان اشقر رحمہ اللہ کہتے ہیں: “ایسی صورتوں میں ایک عمل سے دو عبادات ہو جانے کے قائل حضرات اس لیے یہ موقف رکھتے ہیں کہ: شارع کا مقصود ایک ہی فعل سے حاصل ہو جاتا ہے چنانچہ تحیۃ المسجد فرض رکعات کے ادا کرنے سے بھی ادا ہو جائے گا چاہے وہ تحیۃ المسجد کی نیت کرے یا نہ کرے؛ کیونکہ تحیۃ المسجد کا اصل ہدف یہ ہے کہ مسجد میں نماز ادا کی جائے، اور وہ فرض کی ادائیگی سے ہو رہی ہے۔” ختم شد

About soban

Check Also

ہیرا کو پہننے کے بے شمار فائدے۔

ستاروں کے نیک اثرات میں اضافے اور بد اثرات کو دور کرنے کیلئے ستاروں کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *