”گردے کی پتھری کا کامیاب علاج“

گردے کی پتھری آ ج کے دور میں عام پایا جانے والا مسئلہ بن چکا ہے۔یہ پتھری عام طور پر کیلشیم کی کنکروںجیسی ہوتی ہے جو گردوں کے فعل میں خرابی کی وجہ سے ان میں جمع ہوتی رہتی ہے۔ پتھری طویل عرصے تک گردے کے کسی ایک حصے میں جمع رہ سکتی ہے لیکن جب یہ اپنی جگہ چھوڑتی ہے تو بے حد تکلیف کا سبب بنتی ہے۔گردے سے خارج ہو کر یہ مثانے تک آتی ہےاور پیشاب کی نالی کے ذریعے خارج ہوتی ہے۔ یہ ایک سست اور طویل عمل ہے جس کے دوران مریض کو بے پناہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔عموماً اس کا علاج آپریشن ہی بتایا جاتا ہے لیکن ماہرین کے مطابق کچھ قدرتی غذائیں بھی اس مسئلے کے حل کے لئے تیر بہدف نسخہ ہیں۔ویب سائٹ نیچرل کار بکس کے مطابق گردوں کی پتھری کے خاتمے کے لئے ایک ایسا ہی مفید نسخہ لیموں کے رس، زیتون کے تیل اور آب جو سے تیار کیا جاسکتاہے۔لیموں پتھری کو تحلیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، جو کی وجہ سے پیشاب کی نالی کا تناؤ کم ہو جاتا ہے، اور زیتون کا تیل اسے ضروری چکناہٹ فراہم کرتا ہے۔

یہ نسخہ تیار کرنے کے لئے زیتون کا تیل 100 ملی لیٹر، آب جو 100 ملی لیٹر، اور لیموں کا رس درکار ہو گا۔ ان تینوں چیزوں کو بہت اچھی طرح مکس کرلیں اور روزانہ صبح نہار منہ تقریباً 50 ملی لیٹر مقدار استعمال کریں۔باقاعدگی سے استعمال کریں تو تقریباً 4 سے پانچ دن بعد پیشاب کی رنگت قدرے زیادہ پیلی محسوس ہونے لگے گی ، جس کا مطلب ہے کہ نسخہ کام کررہا ہے۔ عموماً تقریباً 8دن میں مسئلہ مکمل طور پر حل ہو جاتا ہے۔ دنیا بھر میں ہر11میں سے ایک شخص کو اپنی زندگی میں گردوں کی پتھری کا سامنا ہوتا ہے۔ یہ ایک دفعہ کے بعد دوبارہ بھی ہوسکتی ہے۔گردوں میں پتھری ایک تکلیف دہ مرض ہوتا ہے جس کا علاج ہومیوپتھ میں آسانی سے ہوجاتا ہے لیکن اس کے دوبارہ ہونے کے امکانات رہتے ہیں۔

گردوں میں پتھری کی بہت ساری وجوہات ہیں ۔ پانی کم پینا ، خاندان میں اس کے مریضوں کی موجودگی، نمک اور کیلشیم والے کھانے زیادہ کھانا ، موٹاپا ، ذیابیطس، پیٹ کے امراض اور سرجری وغیرہ کا ہونا۔گردوں کی پتھری پیشاب کی نالی کے کسی بھی حصے کو متاثر کرسکتی ہے اور اگر وہاں پر پھنس جائے تو نکلنا ذرا مشکل ہوجاتا ہے۔ عام طور پر اس سے کوئی زیادہ نقصان نہیں ہوتا۔ درد کش ادویات اور بہت زیادہ پانی پینا معمولی پتھری کو نکالنے کے لیے کافی ثابت ہوتا ہے تاہم اگر وہ پیشاب کی نالی میں پھنس جائے یا پیچیدگیوں کا باعث بنے تو پھر سرجری کروانا پڑتی ہے۔پتھری نکل جانے کے بعد وہ دوبارہ نہ بنے تو اس کی بھی ادویات لینی چاہئیں۔ نکلنے کے بعد یہ سوچ لینا کہ اب سب ٹھیک ہے مناسب نہیں ہے تاہم اس سے بچاؤ کے لیے اگر لوگ غذائی عادات کا خیال رکھیں تو کافی حد تک مدد مل سکتی ہے۔علامات:آغاز میں اس کی علامات کا پتا نہیں چلتا تاہم اگر چلنے پھرنے سے گردوں میں حرکت ہو یا پتھری پیشاب کی نالی میں چلی جائے تو یہ علامات سامنے آتی ہیں پسلیوں کے نیچے سائیڈ اور پیچھے کی جانب شدید درد۔ ایسا درد جو پیٹ سے نیچے جاتا ہوا محسوس ہو۔ ایسا درد جس کی لہریں اور ارتعاش شدت سے محسوس ہو۔ پیشاب کرتے وقت تکلیف کا ہونا۔ پیشاب کا رنگ گلابی سرخ یا براؤن ہونا۔

بدبودار پیشاب بار بار پیشاب آنا۔ عام معمول سے ہٹ کر پیشاب آنا۔ بخار اور سردی لگنا۔ پیشاب کی مقدار کم ہوجانا ( پیشاب آتا تو بار بار ہے لیکن تکلیف سے اور تھوڑا تھوڑا آتا ہے جس سے مریض پریشان ہوجاتا ہے) اتنا شدید درد ہونا جس کے باعث ساکت بیٹھنا یا کسی پوزیشن پر لیٹنا ناممکن ہوجاتا ہے۔ ایسا درد جس کے ساتھ سر چکرائے اور الٹی ہو۔ بخار اور سردی کے ساتھ گردوں کے مقام پر درد ہونا۔ پیشاب میں خون آنا۔ پیشاب کرنے میں مشکل کا سامنا۔پتھری کیوں اور کیسے بنتی ہے؟ گردوں کا اہم کام خون سے یوریا یورک ایسڈ جیسے بیکار مادوں کا خارج کرنا ہے۔ اس کے علاوہ گردے خون کی ترکیب کو مستقل رکھنے کے لیے اسی میں سے سوڈیم کلورائیڈ، پوٹاشیم، کیلشیم، سلفیٹ اور فاسفیٹ جیسے نمکیات کی زیادتی کو کم کرتے ہیں۔ نامیاتی اور غیر نامیاتی مرکبات پانی میں حل ہوکر بادامی رنگ کا پیشاب بنادیتے ہیں۔ اب بعض اوقات خوراک میں کیلشیم وغیرہ والی چیزوں کی زیادتی گردے کی بیماری اور پانی کی کمی کی وجہ سے آہستہ آہستہ یہ چیزیں گردے مثانے میں جمع ہوتی رہتی ہیں اور جمع ہوکر چھوٹی چھوٹی پتھری کی شکل اختیار کرلیتی ہیں۔گردے کی پتھری کی عموماً تین اقسام ہوتی ہیں۔

سادہ، مرکب اور پیچیدہ پائی جاتی ہیں ،کیمیائی اجزائے ترکیبی کے اعتبار سے عموماً یہ مندرجہ ذیل چیزوں پر مشتمل ہوتی ہیں:کیلشیم آگزایسٹ اور فاسفیٹ ، یوریا، یورک ایسڈ ، میگنشیم۔گردے کی پتھری کا سبب بننے والے تین کھانےچربی اور پروٹین : گردے کی پتھری کا سبب بننے والے اجزاء یا مادوں میں سب سے پہلے نمبر پر جانوروں کی چربی اور وہ پروٹین ہے جو سرخ گوشت میں پائی جاتی ہے۔ یہ مادے گردے کی پتھریوں کے خطرے کو بڑھاتے ہیں۔ ایسی کچھ دوسری چیزیں بھی ہیں جو اس پریشانی کا سبب بنتی ہیں۔ پالک اور سبزیوں جیسی کھانے کی چیزیں سب کے لیے فائدہ مند ہیں لیکن وہ خون میں آکسیلیٹ (نمک اور آکسالک ایسڈ کے ایسٹر) میں اضافہ کرتی ہیں جس سے پتھری کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ سرخ گوشت میں پائی جانے والی چربی اور پروٹین کی وجہ سے بھی گردے میں پتھری بن سکتی ہے۔ سوفٹ ڈرنکس بھی پتھری بننے کا سبب بن سکتی ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو ۔آمین

About soban

Check Also

ہیرا کو پہننے کے بے شمار فائدے۔

ستاروں کے نیک اثرات میں اضافے اور بد اثرات کو دور کرنے کیلئے ستاروں کی …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *