کیا روزے کے لیے سحری کر نا ضروری ہے؟

ایک دوست نے سوال کیا ہے کہ کیا روزے کے لیے سحری کر نا فرض ہے یا سنت اور اگر جان بوجھ کر سحری نہ کی جا ئے تو روزہ ہو گا یا نہیں جواب دینے سے پہلے میں یہاں پر گزارش کر تی ہوں کہ میری ان باتوں کو بہت ہی زیادہ غور سے سنیے گا روزے کے لیے سحری فرض نہیں ہے سحری سنتِ رسول ہے ۔ سحری نہ کر نا کوئی گ ن ا ہ نہیں ہے۔ اور نہ ہی سحری روزے کے لیے شرط ہے۔ سحری کے بغیر بھی روزہ ہو سکتا ہے مگر جان بو جھ سحری نہ کر نا اپنے آپ کو عظیم سنت سے محروم کر نا ہے ۔ یعنی انسان سنت کے ثواب سے محروم ہو جا تا ہے۔

لہٰذا اگر جان بو جھ کر سحری نہ کی ہو یا صبح آنکھ نہ کھلی ہو اور رات کو ہی روزے کی نیت کر لی تھی یا پھر زوال سے پہلے پہلے نیت کر لی تو روزہ ہو جا ئے گا۔ لیکن سحری کا وقت ختم ہو نے کے بعد اور زوال سے پہلے نیت اس وقت کر سکتے ہیں جب دو چیزیں پائی جا ئیں۔ پہلے نمبر پر سحری کا وقت ختم ہونے کے بعد سے کچھ کھا یا پیا نہ ہو۔ اور نہ ہی کوئی ایسا کام کیا ہو جسے روزہ ٹوٹتا ہو۔ نمبر دو ۔ دوسری چیز یہ کہ نیت اس طرح کرنی ہے کہ میں روزہ بند ہونے کے وقت سے روزے سے ہوں۔ اور سحری میں خوب ڈٹ کر کھانا پینا کوئی ضروری نہیں ہے۔

اگر چند کھجوریں اور پانی ہی سحری کی نیت سے پی لیا جا ئے تو سحری کی سنت ادا ہو جا ئے گی۔ سحری کس نیت سے کھائیں گے ظاہر ہے کہ روزہ رکھنے کی نیت سے کھائیں گے تو اس قدر نیت ہوجانا کافی ہے، البتہ زبان سے کہہ لیں تو بہتر ہے (۱، ۲):رمضان کا روزہ، نذر معین کا روزہ اور نفل روزہ، ان تین کی نیت سحری کے بعد بھی کرسکتے ہیں اور نیت کا آخری وقت نصف النہار شرعی سے پہلے پہلے ہے، نصف النہار شرعی پر یا اس کے بعد نہیں کرسکتے ۔

اور نصف النہار شرعی یہ ہے کہ صبح صادق سے غروب آفتاب تک جتنے گھنٹے اور منٹ ہوتے ہیں، انھیں دو حصوں میں تقسیم کردیا جائے، پہلا حصہ نصف النہار شرعی ہوگا اور اس سے پہلے پہلے نیت کی اجازت ہوگی،مثلاً : دیوبند میں آج کی تاریخ میں صبح صادق ۴۲: ۳ پر اور غروب آفتاب ۲۵: ۷ پر ہے، دونوں کے درمیان کل ۱۵/ گھنٹے اور ۴۳/ منٹ ہوتے ہیں، پس آج کی تاریخ میں دیوبند میں اگر ۳۳: ۱۱ سے پہلے پہلے روزہ کی نیت کرلی گئی تو وہ معتبر ہوگی اور روزہ ہوجائے گا۔ میں تقسیم کردیا جائے، پہلے نصف پر جو وقت ہوتا ہے وہی زوال آفتاب کا وقت ہوتا ہے؛ اس لیے آپ نے کسی کتاب یا رسالہ میں جو زوال آفتاب تک نیت کی گنجائش پڑھی، یہ صحیح نہیں، نیت کا وقت زوال سے کافی پہلے (یعنی:نصف النہار شرعی سے کچھ پہلے )ختم ہوجاتا ہے

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *