فردوس عاشق اور سونیا صدف تنازع کا دوسرا رخ


فردوس عاشق نے رمضان بازار کے دورے میں اسسٹنٹ کمشنر کو بری طرح جھڑک دیا تھا۔ (فوٹو: فائل)

تقریباً 10 سال پہلے کی بات ہے جب حکومت نے تعلیم یافتہ نوجوانوں کےلیے نیشنل انٹرن شپ پروگرام شروع کیا تھا، جس کے تحت ماسٹرز کرنے والے طلبا کو ان کے شعبے سے متعلق سرکاری محکمے میں ایک سال کی انٹرن شپ کا موقع فراہم کیا گیا اور ہر ماہ انہیں 10 ہزار روپے کا وظیفہ ملتا تھا۔

مجھے اس پروگرام کے تحت صوبائی محکمہ اطلاعات سندھ میں انٹرن شپ کا موقع ملا جہاں پہلی بار بیوروکریسی کو قریب سے دیکھنے کا تلخ اتفاق ہوا۔ ہم عملے کے ڈیوٹی روم میں بیٹھتے تھے اور افسر صاحب جب بھی کمرے میں داخل ہوتے ان کی فرمائش ہوتی کہ ہر بار پورا عملہ ان کےلیے کھڑا ہوجائے۔ اب وہ بسا اوقات 5، 5 منٹ کے وقفے سے بھی کمرے میں آتے تھے تو یوں لگتا جیسے ماتحت عملہ اٹھک بیٹھک کررہا ہو۔ میں نے جھنجھلا کر کھڑا ہونا چھوڑ دیا، تو انہوں نے مجھے ٹوکا کہ کیا تمہیں افسر کا احترام کرنا نہیں آتا۔ وہ انٹرن شپ میں نے دو تین ماہ میں ہی چھوڑ دی تو اسی محکمے کے جونیئر افسر نے تین ہزار روپے رشوت کے عوض میری حاضری لگانے اور گھر بیٹھے وظیفہ لینے کی پیش کش کی۔

یہ بیوروکریسی کا میرا پہلا تلخ تجربہ تھا جس کے بعد میں نے سلطان شاہی عرف نوکر شاہی کے متعدد ایسے اہلکار دیکھے جو خود کو فرعون اور حاکم وقت سمجھتے تھے، جبکہ سرکاری دفاتر میں رشوت خوری کا بازار لگا ہوا تھا۔ کراچی میں میرا ذاتی طور پر کسی بھی سرکاری دفتر کا تجربہ اچھا نہ رہا۔ جس جگہ بھی کسی کام سے جانا ہوا ہمیشہ تلخ یادیں ہی لے کر واپس آیا۔
آفس کولیگ سہیل صاحب نے بتایا کہ وہ کسی کام سے ڈپٹی کمشنر کے دفتر گئے تو انہوں نے دیکھا کہ ڈی سی نے فائل پر دستخط کرکے فائل ہاتھ میں دینے یا کم از کم میز پر رکھ کر آگے بڑھانے کے بجائے نیچے زمین پر پھینک دی اور ماتحت افسر نے نیچے سے وہ فائل اٹھائی۔

سرکاری افسران کی نخوت، تکبر، رشوت خوری، کرپشن، ہر شخص اس سے کسی نہ کسی طور واقف ہے۔ ہماری بیوروکریسی کی تربیت انگریز کے مرتب کردہ نظام کے تحت ہوتی ہے جس کے نتیجے میں وہ خود کو حاکم اور عوام کو اپنی محکوم رعایا سمجھتے ہیں۔ انگریز ہندوستان پر حکمران تھے اور غیر ملکی تھے۔ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستانی عوام کو طاقت کے ذریعے محکوم بناکر رکھنے کےلیے اپنے سرکاری ملازمین کی تربیت کا جو استحصالی نظام وضع کیا تھا وہی نظام پاکستان میں آج بھی رائج ہے۔ اسی لیے پہلے گورے انگریز مسلط تھے لیکن آج کالے انگریز ہم پر مسلط ہیں۔

میں نے اپنے محلے میں واٹر بورڈ کا ایک معمولی سرکاری اہلکار دیکھا جو کسی اور کی باری کا پانی روک دیتا اور وال بند کرکے دوسروں کو پانی دیتا تھا، لیکن اسے کسی کا ڈر خوف نہیں تھا۔

ایک واقف کار سرکاری سول انجینئر کو دیکھا جو شہر کے مہنگے ترین علاقے میں مقیم تھا اور اپنی پوری فیملی کے ساتھ کبھی امریکا، ملائیشیا گھومنے پھرنے جاتے، کبھی حج عمرہ پر سعودی عرب جاتے دیکھا تو میں سوچتا کیا اس کی تنخواہ اتنی ہوگی کہ اس میں یہ طرز زندگی اختیار کیا جاسکتا ہے؟

سرکاری دفاتر میں جائیں تو کوئی کام رشوت کے بغیر ہونا دنیا کا مشکل ترین کام ہوتا ہے۔ عوام کے ٹیکسز سے پلنے والے یہ سرکاری افسر اپنے دفاتر میں جاہ و جلال کے ساتھ براجمان ہوتے ہیں۔ عام آدمی کا ان سے ملاقات کرنا آسان نہیں ہوتا۔ ان کا دماغ زمین کے بجائے آسمان پر ہوتا ہے۔ ان کی نوکری ملک کی محفوظ ترین ملازمت ہوتی ہے۔ سرکاری ملازم کے احتساب کا نظام نہ ہونے اور برطرفی مشکل ترین ہونے کی وجہ سے ان کی ملازمت محفوظ ہوتی ہے۔ سرکاری بھرتیوں پر آنے والے کسی بھی احتساب سے محفوظ ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے یہ لوگ کام کریں یا نہ کریں انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں۔

سیاست دان جب اقتدار میں نہیں ہوتے تو پھر بھی ووٹ لینے کےلیے عوام میں جاتے ہیں اور جھک کر ملتے ہیں۔ لیکن سرکاری ملازم تو صرف اپنے باس کے آگے یا پھر جو اسے رشوت دے صرف اسی سے جھک کر ملتا ہے۔ ملک کے دو بڑے صوبوں پنجاب اور سندھ میں طویل عرصہ برسراقتدار رہنے والی دو سیاسی جماعتوں نے سیاسی بھرتیوں کے ذریعے بیوروکریسی کا بیڑاغرق کیا۔ ان کےلیے ایسی ہی نوکر شاہی مفید تھی جو کرپٹ ہو۔

آپ کرپشن کا اندازہ کیجئے کہ کراچی میں سابق ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) پارکس لیاقت قائم خانی کو جب کرپشن کیس میں پکڑا گیا تو اس کے عالیشان محل نما گھر سے کروڑوں کا خزانہ نکل آیا۔ 8 لگژری گاڑیاں، سونے کے کنگن، ہار، ہیرے جواہرات، جائیدادوں کی فائلیں، کیا کچھ نہیں نکلا اس کے گھر سے۔ یہی معاملہ پنجاب میں احد چیمہ کا دیکھا گیا۔

یقیناً جس طرح ساری انگلیاں برابر نہیں ہوتیں اس طرح سارے سرکاری ملازمین بھی ایک جیسے نہیں ہوتے۔ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہوتے ہیں لیکن مجموعی طور پر ملک کی نوکر شاہی کا یہی حال ہے کہ ملک کو بری طرح لوٹا ہے۔

گزشتہ دنوں جب فردوس عاشق اعوان نے رمضان بازار کا دورہ کیا تو ان سے ایک بوڑھی خاتون نے رمضان بازار سے متعلق شکایات کیں۔ فردوس عاشق نے اس معاملے پر اسسٹنٹ کمشنر سونیا صدف کی کھنچائی کردی اور بتایا کہ مبینہ طور پر سونیا صدف گرمی کی وجہ سے اپنی گاڑی کے ٹھنڈے ماحول سے نیچے اتر کر آنے کو تیار نہ تھیں۔

فردوس عاشق اعوان کا رویہ درست تھا یا غلط، اس بات سے قطع نظر آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ جب اسسٹنٹ کمشنر ایک طاقتور سیاسی رہنما کے سامنے منہ توڑ ردعمل کا مظاہرہ کرسکتا ہے، تو وہ ایک عام آدمی کا کیا حال کرتا ہوگا؟

وزیراعظم عمران خان ملک میں کرپشن کے خاتمے کا ویژن رکھتے ہیں۔ انہیں ملک میں اگر بہتری لانی ہے تو نہ صرف بیوروکریسی کے نظام کو ٹھیک کرنا بلکہ ان کا احتساب کرنے کےلیے سخت قانون نافذ کرنا ہوگا، جس میں کرپشن اور عوام سے ناروا سلوک کی صورت میں نوکریوں سے فوری برطرفیاں بھی ضروری ہیں۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *