”پکوڑے بناتے ہوئے 1 چمچ یہ ملا دیں تو پکوڑے بے حد خستہ اور لذیذ بنیں گے“

لفظ پکوڑا سنسکرت زبان کے لفظ پکواتا سے ماخوذ ہے،پکواکا معنی پکا ہوا اور واتا کا معنی سوجن ہے۔ اس کو کھانے کی ابتداء برصغیر پاک و ہند سے ہوئی ، عصر حاضر میں یہ بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور نیپال میں شوق سے کھائے جاتے ہیں۔ پکوڑوں کی کئی اقسام ہیں ، اس میں شامل کیے جانے والے بنیادی اجزاء میں پیاز، سبز مرچیں اور مصالحہ جات ہیں جن کو بیسن اور پانی کے پیسٹ میں ملایا جاتا ہے۔ بعد ازاں اسے گھی میں فرائی کرکے پکوڑے بنائے جاتے ہیں ۔ کہا جاتا ہے کہ پکوڑے کھانے کا کوئی موسم نہیں، اسے موڈ کے مطابق کھایا ہی جاتا ہے ، لیکن پکوڑے گرمیوں کی چھٹیوں، برسات کے موسم، رمضان کے مہینے اور شام کی چائے کے ہمراہ شوق سے کھائے جاتے ہیں ۔ پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے کئی علاقوں میں شادی بیاہ کی تقریبات میں پکوڑے کافی مقبول ہیں ۔ جنوبی ایشیاء کے کئی علاقوں میں یہ بچے کی پیدائش کی خوشی میں ہونے والی تقریب یاخوشی کے دوسرے موقعوں پر بنائے جانے والے پکوانوں کا حصہ ہوتے ہیں ۔ مختلف ممالک میں ان کو مختلف ناموں سے پکارا جاتا ہے۔ بھارت کے کئی علاقوں خاص طور پر صوبہ مہاراشٹر، آندھرا پردیش اور کرناٹک میں ان کو بھجی کہا جاتا ہے۔

یہاں بنائے جانے والے پکوڑوں میں سبزی کا استعمال لازمی کیا جاتا ہے۔ یہ برطانیہ اور جنوبی افریقہ میں بھی شوق سے کھائے جاتے ہیں۔جنوبی افریقہ کے کئی علاقوں میں انہیں دھلجیس کہا جاتا ہے۔ بنگلہ دیش میں یہ پکوڑا یا پکووڑا کہلاتے ہیں۔ چین اور نیپال میں انہیں پکوڈا ،جب کہ صومالیہ میں انہیں بیجیئے کہا جاتا ہے۔ پاکستان میں پکوڑے ہر دلعزیز ہیں۔ یہاںسبزیاں مکس کرکے پکوڑے فرائی کئے جاتے ہیں۔ پالک پکوڑے، آلو پکوڑے، پیاز پکوڑے اور پنیر پکوڑے عام اقسام ہیں۔ گرما گرم پکوڑے مختلف اقسام کی چٹنیوں اور کیچپ کے ہمراہ بہت پسند کئے جاتے ہیں جبکہ نان پکوڑا ایک لذیذ ڈش کے طور پر مقبول ہے۔ پاکستان میں یہ چھوٹی سی دکان سے لے کر اعلیٰ ریسٹورنٹس میں دستیاب ہیں بنگلہ دیش اور بھارت میں یہ شادی کی تقریبات میںبھی پسند کیے جاتے ہیں۔ برطانیہ میں پکوڑے فاسٹ فوڈ کے طور پر پسند کئے جاتے ہیں۔مختلف اقسام کے پکوڑوں کی تراکیب قارئین کی نذر ہیں۔چیز پکوڑےاجزاء:کوٹیج چیز۔ ایک کپ بیسن۔ ایک پیالی انڈہ ۔ایک عدد چکن کیوب۔

ایک عدد سرخ مرچ۔ چار عدد (باریک کٹی ہوئی )ہری مرچ۔ چھ عدد ہرا دھنیا ۔حسب ضرورت میٹھا سوڈا ۔ایک چٹکی دہی۔ ایک چائے کا چمچ سفید زیرہ۔ ایک چائے کا چمچ تیل ۔حسبِ ضرورت نمک۔ حسبِ ذائقہ ترکیب۔ایک پیالے میں بیسن، انڈہ ، دہی، میٹھا سوڈا، ہرا دھنیا، ہری مرچ، لال مرچ، سفید زیرہ، چکن کیوب اور نمک ڈال کر نیم گرم پانی کے ساتھ اچھی طرح ملائیں۔ اب اس میں کوٹیج چیز ملائیں۔پھر کڑاہی میں تیل گرم کرکے اس میں بنائے ہوئے آمیزے کے پکوڑے تل لیں۔جب وہ گولڈن براؤن ہو جائیں تو نکال کر ٹشو پیپر پر رکھ دیں، تاکہ چکنائی جذب ہو جائے۔آخر میں چیز کے گرم گرم پکوڑے املی کی چٹنی اور کیچپ کے ساتھ سرو کریں۔چاول کے پکوڑے اجزاء:بیسن۔تین چوتھائی کپ ادرک(باریک کٹی ہوئی)۔ ایک کھانے کا چمچ چاول (ابلے ہوئے )۔دو کپ چاٹ مصالحہ۔ ایک چائے کا چمچ ہری مرچ(باریک کٹی ہوئی)۔ایک کھانے کا چمچ نمک۔ حسب ذائقہ پیاز(باریک کٹی ہوئی)۔ دو عدد ہرا دھنیا(باریک چوپ کیا ہوا)۔ ایک کھانے کا چمچ تیل (تلنے کے لیے) ۔حسب ضرورت ترکیب:ایک پیالے میں بیسن ، ادرک، چاول ، چاٹ مصالحہ ،ہری مرچ، نمک ، پیاز اور ہرا دھنیا ڈال کر خوب اچھی طرح مکس کر لیں اور پانی ڈال کر گاڑھا پیسٹ بنا لیں۔کڑاہی میں تیل گرم کر یںاور آنچ درمیانی رکھیں۔جب تیل گرم ہو جائے تو مکسچر کو ڈال کر ڈیپ فرائی کر لیں۔ یہاں تک کہ رنگ سنہری ہو جائے۔مزیدار چاولوں کے پکوڑے تیار ہیں۔ سرونگ پلیٹ میں نکال لیں اورٹشو پیپر پر رکھ کر چٹنی کے ساتھ گرم گرم پیش کر یں۔اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

About soban

Check Also

سو سال تک کمزوری آپ کے قریب نہ آئے گی! اعصابی کمزوری کا بے حد مفید گھر یلو نسخہ

آپ کے ساتھ شئیر کرنے والے ہیں یہ اعصاب اور پٹھوں کو مضبوط بنانے میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *