”کیا بغل اور زیرِ ناف کے بال کسی اور سے صاف کر وا سکتے ہیں؟“

آج ایک سوال آیا سوال یہ ہے کہ کیا پرائیویٹ جگہ کے بال کسی اور سے صاف کروا سکتے ہیں چلتے ہیں اس سوال کے جواب کی جانب میرے بھائیو اور میری بہنو یہ ایک انتہائی اہم مسئلہ ہے کیونکہ آج کل جو پالرز کا رواج عام ہو چکا ہے اس میں یہ بھی پا یا جاتا ہے تو اس کو اس طرح سمجھ لیجئے کہ مثال کے طور پر آئرن استعمال کر سکتے ہیں ریزر کا استعمال ہو سکتا ہے کر یمز لگا سکتے ہیں پیسٹ لگا سکتے ہیں سٹرپ استعمال کر سکتے ہیں شریعت میں اس کی کوئی مما نیت نہیں ہے جو تکلیف برداشت کر سکتا ہے وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس میں یاد رکھیے کہ آدمی خود کر سکتا ہے آدمی کوئی اور نہیں کر سکتا اس کی وضاحت میں اس لیے کر رہی ہوں کہ بیوٹی پارلر کے ذریعے بہت سے مسائل پیدا ہو چکے ہیں تو یہ صرف آپ کو کر نا ہے کسی اور کو نہیں ہے ۔ اللہ پاک ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فر ما ئے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق عطا فر ما ئے آمین۔

زیر ناف اور زیر بغل بالوں کی صفائی ہرہفتہ مستحب ہے، اگر اس کا موقع نہ ہو تو پندرہ روز میں ایک مرتبہ صفائی کردے، آخری حد چالیس روز ہے، اس سے زیادہ تاخیر کرنا مکروہِ تحریمی ہے یہ تو صفائی کی مدت ہوئی، رہی صفائی کے مکانی حدود تو زیر بغل کی حد تو واضح ہے، زیر ناف بالوں کے مصداق وہ بال ہیں جو ناف کے نیچے دائیں بائیں ہوتے ہیں، اس طرح خصیتین اور ان کے نیچے جو بال ہوتے ہیں وہ بھی اس کے تحت داخل ہیں زیر بغل بالوں کو استرہ یا کریم وغیرہ سے صاف کرنا، اسی طرح اکھاڑنا دونوں جائز ہیں، البتہ اکھاڑنا بہتر ہے، اگر آدمی اسے برداشت کرسکے یا یہ اس کی عادت ہوگئی ہے مسئلہ معلوم ہونے کے بعد بھی آپ کرسکتے ہیں، ہاں اکھاڑنا افضل وبہتر ہے، اگر اسے برداشت کرسکیں؛ اس لیے کہ صاف کرنے اور اکھاڑنے کے درمیان جواز یا عدمِ جواز کا نہیں؛ بلکہ صرف اولی اور غیر اولیٰ کا فرق ہے۔

جن سے شرمگ اہ چھپانا ضروری ہے ان کے سامنے ش رمگاہ کھولنا جائز نہیں ہے، اور جمہور فقہائے کرام کے ہاں ایک عورت کی دوسری عورت کے سامنے ش رمگاہ کی تعیین ناف سے گھٹنے تک ہے۔لہذا علاج معالجہ یا کسی اور ضرورت کے پیش نظر اس قدر ش رمگاہ کھولنا جائز ہے، تاہم مخصوص اعضا کو کھولنے کے لئے حاجت وضرورت کا مزید اشد اور مؤکد ہونا ضروری امر ہے۔چنانچہ بغلوں کے بال زائل کروانے کیلئے لیزر استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ اس میں کسی قسم کا کوئی منفی پہلو نہ ہو۔جبکہ زیر ناف بال کسی خاتون ڈاکٹر کے ہاتھوں صرف سخت ضرورت کے پیش نظر ہی زائل کروائے جا سکتے ہیں، مثال کے طور پر بال اتنے گھنے ہوں کہ بال نوچنے اور مونڈنے سے کوئی فائدہ نہ ہو، اور ڈاکٹر کے بتلائے ہوئے طریقے کے مطابق آپ خود بھی لیزر کے ذریعے بال زائل کرنے کی صلاحیت نہ رکھتی ہوں۔

عز بن عبد السلام رحمہ للہ کہتے ہیں:”ش رمگاہ کو ڈھانپ کر رکھنا اعلی ترین عادت ہے، خواتین کو اس کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے، تاہم ضرورت اور حاجت کے وقت کھولنا جائز ہے، چنانچہ میاں بیوی ایک دوسرے کے اعضا دیکھ سکتے ہیں، اور اطبا علاج معالجہ کیلئے ش رمگاہ چیک کر سکتے ہیں، اسی طرح زخموں کی مرہم پٹی کیلئے بھی شرمگاہ دیکھی جا سکتی ہےمخصوص اعضا پر نظر ڈالنے کی شرائط ش رمگاہ کے بقیہ حصہ پر نظر ڈالنے سے زیادہ کڑی ہیں، اسی طرح خواتین کے جسم پر نظر ڈالنے کی شرائط مردوں کے جسم پر نظر ڈالنے سے زیادہ کڑی ہیں، کیونکہ خواتین کے جسم پر نظر پڑنے سے فتنے کا اندیشہ بہت زیادہ ہوتا ہے، نیز سرین پر نظر پڑنے کا حکم گھٹنوں اور رانوں پر نظر پڑنے کے حکم کی طرح نہیں ہے

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *