سانس کی تنگی

آج جو نسخہ آپ کو بتائیں گے یہ نسخہ سخت سے سخت جمی ہوئی بلغم کو اور پتلا کرکے باآسانی خار ج کردیتا ہے چھاتی میں یا پھیپھڑوں میں جس قد ر بلغم ہو اس کو خارج کرکے چھاتی اور پھیپھڑوں کو مکمل طور پر صاف کرتا ہے۔

بلغم کی زیادتی کے باعث ، جن لوگوں کو سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔ چھاتی میں بھاری پن اور جکڑن محسو س ہوتی ہے۔ گلے میں خراش ہوتی ہے۔ جلن دار اورخراش دار کھانسی اور نزلہ وزکام کی شکایت رہتی ہے ایسے لوگوں کے لیے یہ بہت ہی بہترین تحفہ ہے۔ اسی طرح کئی لوگ کے پھیپھڑوں میں بلغم پڑی پڑی متعفن ہوجاتی ہے اور ایسے لوگ جب واک کرتے ہیں۔

تو ان کے منہ سے اور ان کی سانسوں میں سے بدبوآتی ہے۔ اکثر کھانستے رہتے ہیں۔ بار بار کھانسنے پرکبھی کبھی زردرنگ کی بلغم تھوڑی سے بمشکل خارج ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کے مزاج گرمی زیادہ پائی جاتی ہے۔ چھوٹا پیشاب بھی پیلا اور کبھی کبھی جل کرآتاہے۔ ایسے لوگوں کےلیے یہ نسخہ بے حدمفید اور اثر دار ثابت ہوتاہے۔ اس نسخے کو تیار کرنے کےلیے آپ نے تین چیزیں لینی ہیں۔

سب سے پہلے ملٹھی لینی ہے۔ اور اسے اوپر سے ہلکا یا چاقو کی مدد سے کھرچ کرصاف کرلیں۔ دوسری چیز آپ نے بانسا کے پتے لینے ہے بانسا کا پودا ہندو پاکستان کے اکثر مقامات پر عام مل جاتا ہے اس کے ساتھ سفید رنگ کے انتہائی خوبصورت پھول لگتے ہیں یہ آپ کو کسی ہربل سے آسانی سے مل جائیں گے۔ ا س کے بعد تیسری چیز املتا س کی پھلی لینی ہے

یہ بھی عام پنسار سے آسانی سے مل جائے گی۔ اس کوتوڑ کر اس میں سے گودا نکال لیں۔ اب ان تینوں چیزوں یعنی ملٹھی ، بانسہ کےپتے اور املتا س کا گودا یہ تینوں پانچ پانچ مقدار میں لینے ہیں۔ اور ان کو ڈیڑھ کپ پانی میں شامل کرکے چولہے پر ہلکی آنچ پر رکھ دینا ہے جب پانی ایک کپ کےقریب رہ جائے تو چولہے سے اتار کر فلڑ کریں ۔

دن میں ایک سے دو مرتبہ اسے استعمال کریں۔ سخت اور جمی ہوئی بلغم کو پتلا کرکے خار ج کردےگا۔ زکام ، کھانسی ، سانس کی تنگی، گلے کی خراش ایسے تمام امراض میں نجات دلانے میں فوری اثر ثابت ہوگا۔ اس کے استعمال کے ساتھ ہی اگر آپ صبح سویرے گردوغبار سے پاک فضاءمیں جہاں سبز اور ہریالی زیادہ ہو ۔ ایسی جگہ پر واک کریں۔ اور لمبے لمبے سانس لیں۔ تو آپ کو بہت بہتر نتائج دیکھنے کو ملیں گے ۔

About soban

Check Also

کان کا درد دو منٹ میں ختم۔

کان میں درد کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، جیسے ٹونسلز، ناک کے اندرونی حصے میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *