”جب چہرے پر آنسو ہوں اور وہ بھی اپنوں نے دیئے ہوں“

نفرت اور نظر انداز کرنا وہ عمل ہیں جنہیں ایک لمحے میں محسوس کیا جاسکتا ہے جب کہ محبت اور وفاداری وہ عمل ہیں جن کو ثابت کرنے میں پوری زندگی بیت جاتی ہے۔انسان زندگی میں بہت کچھ سیکھتا ہے لیکن جب دوسروں سے پیار کرنا ، معاف کرنا اور دوسروں کی عزت کرنا نہیں سیکھ جاتا سمجھو کچھ نہیں سیکھتا۔گفتگو میں بے احتیاطی رشتوں کو کچل دیتی ہے ، آپ کے الفاظ آپ کا عکس ہوتے ہیں ، بعد میں وضاحتیں دینے سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوتا۔اپنے دشمن کو ہمیشہ معاف کر دو یہ اس کو سب سے زیادہ اذیت دے گی۔زندگی میں کچھ پل ایسے آتے ہیں جنہیں ہم چاہ کر بھی اپنی یاداشت سے نہیں مٹا سکتے مجھے اختلاف ہے ،ان لوگوں سے جو کہتے ہیں ، وقت ہر زخم کا مرہم ہے۔لوگوں کے بدلے ہوئے مزاج ہی تو ہمیں انسان بناتے ہیں ، ورنہ تو سمجھ ہی نہ پائیں کہ زندگی کتنی مشکل ہے۔

دنیا میں اکثر لوگوں کی وفا صرف وہیں تک ہوتی ہے جہاں تک ان کا مطلب ہوتا ہے۔زندگی کے سفر میں ان لوگوں پر توجہ نہ دیں جو آپ کے راستے میں کھڑے تھے ، بلکہ ان لوگوں کا سوچیں جو ہر مقام پر آپ کے ساتھ کھڑے تھے۔اے اللہ جو میرے مقدر میں نہیں لکھا اس کی کوشش اور تمنا میں مجھے مبتلا نہ کرنا اور جو میرے تقدیر میں لکھ دیا ہے اسے میرے لئے آسان کر دینا۔کبھی کبھی دل چاہتا ہے سب کہہ دوں سارا زہر اگل دوں مگر کچھ لحاظ رکھنے پڑتے ہیں اور یہ لحاظ مار دیتے ہیں۔حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ سے یہ روایت کیا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کر دیا، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، سو تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تمہیں ہدایت دوں گا، اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلاؤں، پس تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تمہیں کھلاؤں گا، اے میرے بندو! تم سب بے لباس ہو سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، لہٰذا تم مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا،

اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو بخشتا ہوں، تم مجھ سے بخشش طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا، اے میرے بندو! تم کسی نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور تم کسی نفع کے مالک نہیں کہ مجھے نفع پہنچا سکو، اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہیں کر سکتے اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول و آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت سے کوئی چیز کم نہیں کر سکتے۔ اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن کسی ایک جگہ کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کر دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس سے صرف اتنا کم ہو گا جس طرح سوئی کو سمندر میں ڈال کر (نکالنے سے) اس میں کمی ہوتی ہے، اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لئے جمع کر رہا ہوں، پھر میں تمہیں ان کی پوری پوری جزا دوں گا، پس جو شخص خیر کو پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جسے خیر کے سوا کوئی چیز (مثلاً آفت یا مصیبت) پہنچے وہ اپنے نفس کے سوا اور کسی کو ملامت نہ کرے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

About soban

Check Also

دانتوں میں خول اور کیڑا لگ جانے کا دیسی علاج

دانتوں میں خول اور کیڑا لگ جانے کا علاج کے لیے آپ کوآسان گھریلو نسخہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *