”سحری میں کون سی غذائیں کھانی چاہئیں“

ویسے بھی سحری کھانا سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور باعث برکت بھی مانی جاتی ہے جو صحت کو بھی فائدہ پہنچاتی ہے۔مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ سحری میں کیا کھانا چاہیے اور کیا نہیں کھانا چاہیے؟ویسے یہ ضرور جان لیں کہ سحری میں بہت زیادہ کھانے سے گریز کرنا چاہیے ورنہ معدے کے مختلف مسائل کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔سحری میں کیا کھانا چاہیے؟سحری کے وقت کاربوہائیڈریٹس سے بھرپور غذائیں جیسے روٹی اور آلو وغیرہ فائدہ مند ہوتی ہیں جو کہ ہضم ہونے میں زیادہ وقت لیتی ہیں جبکہ جسمانی توانائی کو دیر تک برقرار رکھتی ہیں۔فائبر سے بھرپور پھل اور اجناس جیسے کیلے، سیب اور جو وغیرہ بھی دیر تک پیٹ کو بھرے رکھتے ہیں جبکہ قبض سے بچانے میں بھی مدد دیتے ہیں، تاہم ان کی زیادہ مقدار کھانے سے گریز کرنا چاہیے، ورنہ پیاس زیادہ لگتی ہے۔پروٹین سے بھرپور غذا کو بھی سحری کا حصہ بنانا چاہیے جن میں انڈے، چکن، دہی اور دالیں وغیرہ قابل ذکر ہیں، پروٹینز روزے دار کو جسمانی طور پر متحرک رہنے کے ساتھ ساتھ جسمانی توانائی کو بھی برقرار رکھتے ہیں۔

زیادہ پانی والی غذائیں اور مشروبات وغیرہ بھی سحری کا حصہ بنائے جاسکتے ہیں، کھیرے، ٹماٹر اور پانی وغیرہ دن بھر میں جسمانی طور پر سست نہیں ہونے دیتے۔کیا نہیں کھانا چاہیےایسی غذاﺅں سے گریز کریں جو بہت زیادہ مرچوں یا مصالحے دار ہوں، ان کے استعمال سے سینے میں جلن یا معدے میں تیزابیت اور بدہضمی کا خطرہ بڑھتا ہے۔سحری میں زیادہ چائے پینے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ کیفین سے جسم میں پانی کی سطح کم ہونے سے پیاس بڑھتی ہے۔اسی طرح نمکین غذاﺅں سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ اس سے جسم میں پانی کی کمی کا امکان پیدا ہوتا ہے۔زیادہ میٹھی اشیاء کھانے سے بھی گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ بہت تیزی سے ہضم ہوتی ہیں جس سے کچھ گھنٹے بعد ہی بھوک لگنے لگتی ہے۔ رمضان کی روحانی نعمتیں بے شمار ہیں، لیکن یہ مقدس مہینہ روزے داروں کے لیے جسمانی فوائد بھی لے کر آتا ہے،

صحت مند غذائی انتخاب کے نتیجے میں انسان کا میٹابولزم بہتر ہوتا ہے اور جسمانی وزن میں کمی سمیت کولیسٹرول کی سطح میں کمی لائی جاسکتی ہے۔رمضان پکوڑوں، پراٹھوں اور افطار میں ہر چیز کھانے کا سیزن نہیں، درحقیقت روزے ہر چیز کو کھانے کا لائسنس نہیں۔روزہ رکھنا آسان نہیں ہوتا مگر درست انتخاب کچھ مشکلات میں کمی ضرور لاتا ہے، یعنی کھانے کا بہتر انتخاب سینے میں جلن، قبض وغیرہ سے بچاﺅ میں مددگار ثابت ہوتا ہےتو یہاں رمضان میں صحت مند غذائی انتخاب کے 5 سنہرے اصولوں کو بیان کیا جارہا ہے۔ہائیڈریشن یا جسم میں پانی کی سطح کو برقرار رکھنا روزے کا مشکل ترین حصہ ہے خاص طور پر موسم گرما میں، مگر سحری کے وقت خود کو پانی سے بھرلینا بھی کوئی اچھا خیال نہیں۔ اپنے معدے کو پانی کا مشکیزہ یا غبارہ بنالینے کے ایک سے دو نتائج نکلتے ہیں، ایک قے کے ذریعے باہر نکل آنا یا بار بار واش روم کے چکر۔زیادہ بہتر تو یہ ہے کہ رات بھر میں اپنے جسم میں پانی کی سطح کو بڑھائیں۔ یعنی افطار میں دو گلاس پانی کے ساتھ آغاز کریں اور سونے کے وقت تک ہر گھنٹے میں ایک گلاس پانی پیئیں۔ سونے کے وقت تک آپ کو چھ گلاس پانی پی لینے چاہئیں

جبکہ سحری کے وقت دو گلاس پی کر آپ دن بھر کے لیے 8 گلاس پانی اپنے جسم کا حصہ بنالیں گے، جو عام طور پر کافی ثابت ہوتے ہیں۔سورج کی روشنی میں زیادہ دیر تک گھومنے سے گریز کریں تاکہ پسینے کی شکل میں جسم میں نمی کی کمی نہ ہو، یاد رکھیں کہ چائے اور کافی جسم کو ڈی ہائیڈریشن کا شکار کرتے ہیں اور یہ آپ کے انتخاب نہیں ہونا چاہئیے۔ہم سب کو روزہ کھولنے کے بعد کچھ میٹھا کھانے کی خواہش ہوتی ہے مگر چینی کا زیادہ استعمال میٹابولزم کو نقصان پہنچاتا ہے، درحقیقت چینی کے نتیجے میں آپ کے جسم کو ایسی کیلوریز ملتی ہیں جس کے غذائی فوائد نہیں ہوتے۔چینی کو مکمل طور پر چھوڑ دینا تو یقیناً ممکن نہیں مگر اس کو محدود ضرور کردینا چاہیئے اور اس حوالے سے خاص طور پر کوک یا پیپسی کی بوتلوں سے دوری اختیار کریں اور مٹھائی یا چاکلیٹ کی بجائے پھلوں کا استعمال کریں۔اگر آپ روح افزاء کا استعمال کرتے ہیں تو بتدریج اس کی مقدار میں کمی لائیں، مٹھاس کے لیے اپنی فروٹ چاٹ میں انگوروں کا استعمال کریں اور چینی کے جار سے دور رہیں۔اگر آپ پراٹھوں اور پکوڑوں کو بہت زیادہ پسند کرتے ہیں تو انہیں ہفتے میں ایک دن کے لیے مخصوص کردیں اور روزانہ کھانے سے گریز کریں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *