اعتکاف کی فضیلت

اسلام خانقاہیت کا نام نہیں ہے ، نہ ہی دین کے لیے کہیں بھی دنیا ترک کردینے کا حکم ہے، لیکن سال میں ایک مرتبہ ساری دنیا سے منہ موڑ کراللہ سے دل لگالینے کا نام اعتکاف ہے، آج ملک بھر کے معتکفین اعتکاف کی نیت سے مساجد کا رخ کریں گے۔عشق و محبت میں بندے پرایک ایسا وقت بھی آتا ہے کہ وہ اپنا گھر بار چھوڑ کر چند پردوں کے پیچھے (اعتکاف) دنیا کی تمام چیزوں سے بے خبرہوکر اپنے محبوب کے ساتھ راز و نیاز میں مشغول ہوتا ہے۔ معتکف صرف اپنا گھر بار ہی نہیں بلکہ اپنے اعزاء و اقرباء، اہل و عیال، رشتہ دار اور تمام دوست واحباب سے رشتہ مختصر کردیتا ہے۔

اعتکاف کی تعریف اللہ تعالی کی رضا کے باعث کسی ایسی مسجد میں اعتکاف کی نیت سے ٹھہرنا جس میں باقاعدہ پانچ وقت کی باجماعت نماز اور خطبہ جمعہ سمیت نماز ادا کی جاتی ہوا۔ جس مسجد میں اعتکاف کیا جائے اس میں پانچ وقتی نماز باجماعت ہوتی ہو۔ اعتکاف کی نیت سے ٹھہرنا۔ حیض، نفاس اور جنابت سے پاک ہونا۔ (خواتین کے لیے) روزہ لازمی رکھنا۔ عاقل و بالغ ہونا، نابالغ مگر سمجھدار اور عورت کا اعتکاف درست ہے۔اعتکاف کی تین قسمیں ہیں۔یہ وہ اعتکاف ہے کہ جو عام طور پر رمضان کریم کے آخری عشرے میں ہوتا ہے۔

کیونکہ حضور ﷺ نے ہر رمضان کے آخری 10 روز اعتکاف کیا، آخری عشرے میں کیے جانے والے اعتکاف کو سنت مؤکدہ کہا جاتا ہے۔اگر پورے محلہ میں سے ایک یا چند نے بھی اعتکاف کر لیا تو سب کا ذمہ ساقط ہو جائے گا ورنہ سب پر اس کا وبال (گناہ) ہوگا۔ سنت اعتکاف کا اہم مقصد آخری عشرے کی طاق راتوں میں لیلۃ القدر کی تلاش کرنا سب سے اہم جز ہےیہ وہ اعتکاف ہے کہ جس کے لیے کوئی وقت اور اندازہ مقرر نہیں ہے بلکہ جتنا وقت بھی مسجد میں ٹہرے تو اعتکاف ہوگا اگر چہ تھوڑی دیر کے لیے ہی کیوں نہ ہو بلکہ افضل تو یہ ہے کہ آدمی مسجد میں داخل ہوتے ہی اعتکاف کی نیت کر لے تو نماز اور نفل وغیرہ کے ثواب کے ساتھ ساتھ اعتکاف کا ثواب پاتا رہے گاہ وہ اعتکاف ہوتا ہے جس میں بندے نے نذر مانی ہو کہ اگر میرا فلاں کام ہوگیا تو میں اتنے اتنے دن اعتکاف کروں گا۔

جتنے دن اعتکاف کی نذر مانی ہو اتنے دن کا اعتکاف کرے گا مگر ہاں اعتکاف کے ساتھ روزہ بھی ضرور رکھے گا کیونکہ روزہ صحت اعتکاف کی شرائط میں سے ہے۔مسنون اعتکاف کا وقت 20 رمضان المبارک کو غروب آفتاب سے قبل اعتکاف کی نیت سے شرعی مسجد میں بیٹھنے سے شروع ہوتا ہے اور شوال کا چاند نظر آنے تک رہتا ہے۔ 29 رمضان کو عید کا چاند نظر آئے یا 30 رمضان کو آفتاب غروب ہو جائے تو مسنون اعتکاف ختم ہو جاتا ہے پھر معتکف مسجد سے نکل سکتا ہےسب سے افضل وہ اعتکاف ہے جو مسجد حرام میں کیا جائے پھر مسجد نبویﷺ کا مقام ہے، پھر بیت المقدس کا اور اس کے بعد اس جامع مسجد کا درجہ ہے جس میں جمعہ کی جماعت کا انتظام ہو۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *