”سحری کھا کر فوری سونے والے یہ تحریر ضرور پڑھ لیں“

رمضان المبارک بہت تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے، جہاں کچھ لوگ اس ماہ سے بہت زیادہ فائدہ اٹھاتے ہیں، وہیں بہت سے افراد ایسے بھی ہیں جو غلط عادات کے باعث اپنی صحت مزید خراب کرلیتے ہیں۔رمضان میں کھانے پینے کی غلط عادات میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے، جس کا جلد پر منفی اثر نظر آنے لگتا ہے لیکن ابھی بھی دیر نہیں ہوئی، اس ایک ہفتے میں اپنی غلطیوں کا اندازہ ہوجائےتو انھیں دہرانے سے بچا جاسکتا ہے۔یہاں آپ کو چند ایسی وجوہات بتائی جارہی ہیں

جن سے آپ رمضان میں اپنی جلد کو شدید تقصان پہنچا رہے ہیں، اب ان کو پھر سے نہ دہرائیے گا۔ سحری نہ کرنا سحری کے وقت نیند سے اٹھنا کافی مشکل ہے، لیکن سب ہی جانتے ہیں کہ رمضان میں ہمارا فوڈ سائیکل کس طرح کام کرتا ہے، جب آپ سحری چھوڑتے ہیں تو 24 گھنٹوں میں ایک ہی مرتبہ صحیح انداز سے کھانا کھاتے ہیں اور یہ ٹھیک نہیں کیوں کہ جب آپ اپنے جسم کو کھانا نہیں دیں گے تو آپ کی جلد مرجھا جائے گی+

۔اس لیے سحری ضرور کریں۔ افطار میں کولڈ ڈرنکس پیناپورے دن کے روزے کے بعد افطار پہلا کھانا ہوتا ہے اور اس دوران کولڈ ڈرنکس پینے سے چہرے پر جھریاں پڑ سکتی ہیں، یہی وجہ ہے کہ افطار میں پانی یا لیمو پانی کا استعمال بہترین ہے۔ افطاری کے فوری بعد ورزش کرنااگر ورزش کرنا آپ کا پسندیدہ مشغلہ ہے تو یہ جان لیں کہ اسے افطار کے فوری بعد کرنا آپ کی صحت کے لیے بالکل ٹھیک نہیں، رمضان میں ہمارے جسم کا نظام تبدیل ہوجاتا ہے

اور افطار کے فوری بعد ورزش کرنے سے ہڈیوں میں تکلیف بھی ہوسکتی ہے۔بہتر ہے کہ ورزش سحری سے قبل کیا کریں۔ رمضان میں نمک کا زیادہ استعمال رمضان میں کھائے جانے والے پکوان میں نمک کا بہت زیادہ استعمال کیا جاتا ہے، پھر چاہے چھولے ہوں، یا نمکین لسی، لیکن اس سے جسم میں پانی کی کمی بھی ہوسکتی ہے اور پانی کی کمی کے باعث جلد خشک ہونے لگتی ہے۔اس کے لیے کیلوں کا زیادہ سے زیادہ استعمال کریں

تاکہ جسم میں سوڈیم سے زیادہ پوٹاشیئم بڑھے۔ افطاری اور سحری کے فوری بعد سوناصرف رمضان میں ہی نہیں بلکہ کسی بھی وقت کچھ کھانے کے فوری بعد سونا صحت کے لیے نقصان دہ ہے۔رمضان میں یہ عادت اس لیے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے کیوں کہ ہمارے جسم کو کھانا بہت دیر بعد ملتا ہے۔اس عادت سے وزن میں اضافہ اور دل کی بیماریوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔زیادہ سونا دل کی قساوت اور سنگدلی کا باعث بنتا ہے۔

ماہ رمضان کی سحری کے وقت خیال رکھنا چاہیے کہ زیادہ نہ کھایا جائے، یہ خوف نہیں ہونا چاہیے کہ تھوڑا کھانا کمزوری یا بیماری کا باعث بن جائے گا، یہ شیطان ہے جو انسان کو کم کھانے سے ڈراتا ہے۔ لہذا سحر کے وقت تھوڑا کھانا چاہیے اور سحری کے بعد نہیں سونا چاہیے۔ تھوڑا کھانا آدمی پر نیند کو غالب نہیں کرتا، لیکن زیادہ کھانے سے آدمی پر نیند مسلط ہونے لگتی ہے۔روزہ باعث بنتا ہے کہ دنیا سے انسان کی توجہ ہٹ جائے اور غیب سے متصل ہوجائے۔

وہم باعث بنتا ہے کہ انسان اس حقیقت سے محروم ہوجائے۔ وہم کیا ہے؟ وہم یعنی ایسا جھوٹ جو سچ دکھائی دیتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں عدم کو کوئی چیز سمجھتا ہے، جو ہے ہی نہیں اسے کوئی چیز سمجھ لیتا ہے۔روزہ رکھوانے سے مقصد یہ ہے کہ اس جھوٹ بنانے والے پہلو سے طاقت چھین لی جائے اور شیطان وہم کے ذریعے انسان کو گمراہ نہ کرسکے۔حضرت امام جعفر صادق (علیہ السلام) سے دریافت کیا گیا ، کون سی چیز ابلیس کو ہم سے دور کرتی ہے؟

آپؑ نے فرمایا: روزہ اس کے چہرے کو سیاہ کردیتا ہے۔ لہذا جب شیطان کا چہرہ سیاہ ہوگیا تو انسان پر اثرانداز نہیں ہوسکتا۔ روزہ کا نتیجہ یہ ہے کہ انسان وہم کو مار سکتا ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ اگر کھانا کم کھائے تو اس کو نقصان ہوگا، ایسا نہیں۔ جب آدمی آہستہ آہستہ شروع کرے تو ابتدا میں اسے اس بات پر یقین نہیں ہوگا، لیکن ماہ رمضان کے درمیان تک اس کے لئے ثابت ہوجائے گا کہ ایسا نہیں کہ بھرا ہوا پیٹ اس کی صحت اور طاقت کا باعث بنے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

About soban

Check Also

دانتوں میں خول اور کیڑا لگ جانے کا دیسی علاج

دانتوں میں خول اور کیڑا لگ جانے کا علاج کے لیے آپ کوآسان گھریلو نسخہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *