ساری زندگی کام آنے والی آسان ٹپس

ہر تکلیف انسان کو سبق سکھاتی ہے جو ساری زندگی یاد رہتا ہے۔ انسان تکالیف اُٹھاتا رہتا ہے، سبق سیکھتا جاتا ہے اور ہر تکلیف سے کچھ نہ کچھ حاصل کرتا جاتا ہے حتٰی کہ کچھ عرصے بعد اُنہی تکالیف کے باعث ایک باشعور و تجربہ کار انسان بن جاتا ہے، جبکہ خوشیاں کھوکھلی ہوتی ہیں۔ یہ انسان کو کچھ نہیں دیتیں بلکہ اگر انسان کا خود پر قابو نہ ہو، مناسب رہنمائی اُسے میسر نہ ہو تو خوشیاں انسان کو گمراہ بھی کرجاتی ہیں۔لہٰذا پھول کی نرم و نازک ناپائیدار پتیاں کس کام کی؟ اصل تو کانٹے ہیں جو انسان کو شعور کی دولت سے مالامال کر دیتے ہیں۔ پھر یہ سرمایہ عمر بھر کام آتا ہے بلکہ اگلی نسلوں کی تربیت کا سلیقہ بھی سکھاتا ہے۔تبھی تو کہتے ہیں کہ پھول کی پتیاں جلد سوکھ جاتی ہیں لیکن کانٹے سدا بہار ہوتے ہیں۔بے ضمیر انسان کی اصولوں سے آزاد زندگی نہایت سہل ہوتی ہے کیونکہ وہ پانی کی طرح ہر جگہ سے راستہ بنا کر نکل جاتا ہے لیکن اُس کا مقدّر ہمیشہ نشیب کی پستیاں ہوتی ہیں۔ رفعت چاہتے ہیں تو اپنی زندگی کو بہترین اصولوں کا پابند بنائیں۔جو چیز آج اچھائی سے روکتی ہے، وہ کل دُگنی طاقت سے روکے گی لہٰذا اِس مزاحمت کو آج ہی کچل دیں اور اچھائی کر گزریں کہ اچھائی کا ہر موقع غنیمت ہوتا ہے۔

بربادی ناکامی سے نہیں بلکہ ناکامیوں کے ساتھ سمجھوتہ کرنے سے ہوتی ہے لہٰذا انداز بدل بدل کر کوشش جاری رکھیں کیونکہ ضروری نہیں کہ مقدر کا دروازہ ہمیشہ پہلی دستک پر کھل جائے۔خود اعتمادی اور اکڑ میں محض اتنا سا فرق ہوتا ہے کہ خود اعتمادی انسان کو کھڑا کر دیتی ہے اور اکڑ انسان کو منہ کے بل گرا دیتی ہے۔ یہ فرق ہمیشہ ملحوظِ خاطر رکھیں۔چھوٹی سی نیکی بڑی نیکی کی توفیق دیتی ہے اور چھوٹا سا گناہ بڑے گناہ کا حوصلہ دیتا ہے لہٰذا اپنے چھوٹے چھوٹے کاموں کو کبھی غیر اہم نہ سمجھیں۔ چھوٹی چھوٹی نیکیاں کرنا شروع کریں، آپ جلد بڑی نیکیاں کرنے لگیں گے، چھوٹے چھوٹے گناہ چھوڑنا شروع کریں، آپ جلد بڑے گناہوں سے چھٹکارا پا لیں گے۔کوشش شرط ہے۔اندھیرے کا اپنا کوئی وجود نہیں ہوتا، یہ محض نور کے عدم وجود کا نام ہے۔ جہل بھی بذاتِ خود کچھ نہیں، یہ محض علم کے عدم وجود کا نام ہے۔ یاد رکھیں علم کی ایک ننّھی کرن جہل کی گہری ظلمتوں میں اُجالا کرسکتی ہے، لہٰذا اپنے حصّے کی شمع ضرور جلائیں۔لیکن پہلے اپنے اندر۔اگر آپ اپنی خامیوں کی قیمت چکانے کو تیار نہیں اور نہ ہی اُنہیں سدھارنے کے خواہاں ہیں تو ذہنی انتشار آپ کا مقدر ہے۔ یا تو تباہی سے سمجھوتہ کرلیجیے یا بہتری کے لیے بھرپور کوشش کیجیے۔ دونوں صورتوں میں آپ سکون پالیں گے۔

رستے کا انتخاب اپنا اپنا ہے۔خود کو بدلے بغیر حالات بدلنے کی خواہش رکھنا حماقت ہے۔ بُرے حالات یکدم بھی آجاتے ہیں لیکن اچّھے حالات کے لیے وقت لگتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محنت، صبر اور مستقل مزاجی سے عاری جلدباز انسان اچھے حالات دیکھنے سے پہلے مرجاتا ہے۔ آپ تو ابھی زندہ ہیں، خود کو بدل لیں اور حالات سے مراد صرف مالی حالات نہیں۔ہم خود کو بہت کچھ سمجھتے ہیں لیکن دوسرے ہمیں کیا سمجھتے ہیں؟ اکثر ہمیں پتا نہیں ہوتا۔ یہ گمراہ کن خود فریبی کئی تنازعات اور حماقتوں کا باعث بنتی ہے۔ دوسروں کی نظر میں اپنا مقام سامنے رکھ کر بات کریں، کم از کم آپ کی عزت بچی رہے گی۔بھاپ کو نکلنے کا راستہ نہ ملے تو ہلکی آنچ پر تھوڑا سا دودھ بھی اُبلتا ہوا کناروں سے باہر آگرتا ہے۔ دوسروں کو غبارِ دل نکالنے کا موقع دیں، معاملات کبھی قابو سے باہر نہیں ہوں گے۔ورنہ کسی کی ناراضگی آپ کے اچھے خاصے جلتے ہوئے چولہے پر آگرے گی جو آگ کو بجھا بھی سکتی ہے۔ لہٰذا اگر اپنی فرعونیت کچھ کم کرسکتے ہیں تو دوسروں کو غبارِ دل نکالنے کا موقع ضرور دیں، آپ کا چولہا سدا جلتا رہے گا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *