”مردانہ جسم کو تین چیزیں طاقت دیتی ہیں ۔۔۔۔“

جب صحیح حدیث مل جائے تو میرے اقوال کو بھول جاؤ۔میں نے سات سال کی عمر میں قرآن مجید حفظ کر لیا تھا۔میں نے جس سے بھی مناظرہ کیا اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا۔اندھا دھند اور بغیر سوچے سمجھے علم حاصل کرنے والے کی مثال رات میں لکڑیاں جمع کرنے والے کی سی ہے وہ گٹھا اُٹھا لیتا ہے ، ہوسکتا ہے اس میں سانپ اژدھا بھی ہو جو اسے ڈس لے۔زندگی میں تین مرتبہ مجھ پر فقروفاقہ کا دور آیا ، گھر کے زیورات بک گئے ، لیکن میں نے قرض لے کر کوئی چیز رہن نہیں رکھی۔صحیح طالبِ علم تومفلس ہی ہوتا ہے پوچھا گیا کہ اگر مناسب مالدار ہوتو؟فرمایا وہ بھی نہیں۔شرک کے علاوہ ہر گ ن ا ہ کی مغفرت کی امید ہے لیکن گمراہی کا معاملہ بہت سخت ہے۔لوگ فقہ میں اہل عراق کے محتاج ہیں ۔جس طرح نگاہ کی ایک حد ہے جس سے آگے وہ کام نہیں کرسکتی بالکل اسی طرح عقل کی بھی ایک حد ہوتی ہے جس سے آگے وہ بے کار ہے ۔انسانوں کو قابو میں رکھنا جانوروں کو قابو رکھنے سے کہیں زیادہ مشکل ہے۔ جو شخص تمہاری رائے کا خواہش مند نہ ہو اسے مشورہ مت دو ، نہ تمہاری تعریف ہو گی

اور نہ تمہاری نصیحت اسے فائدہ دے گی۔ایسے علاقہ میں نہیں رہنا چاہئے جہاں دینی مسئلہ بتانے والا عالم اور جسم کا علاج کرنے والا طبیب موجود نہ ہو۔تفریح میں باوقار رہنا بے وقوفی کی علامت ہے۔مرد کے جسم کو تین چیزیں طاقت دیتی ہیں ۔اول گوشت کھانا دوم خوشبو سونگھنا سوم غسل کرنا،اگر میں قوتِ حافظہ کی طرف توجہ کرتا جیسا کہ محدثین کرتے ہیں تو دنیا میں میرا کوئی مقابل نہ ہوتا۔قرآنِ پاک میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ بے شک انسان ناشکرا ہے۔یہ وہ درد ناک حقیقت ہے جس کا ذکر خود پرورِدگارِ عالم نے اپنے کلام میں کیا۔اللہ تعالیٰ نے ایسا کیوں فرمایا؟ اس لیے کہ وہ خالق ہے۔وہ انسان کی مٹی سے واقف ہے۔وہ جانتا ہے کہ انسان بہت جلد بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے شور مچانے اور آسمان کو سر پر اٹھانے لگتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں جگہ جگہ اور باربار ارشاد فرمایا ہے کہ اے انسان! تو ان نعمتوں پر غور کیوں نہیں کرتا جو تیرے مالک نے تجھے عطا کیں؟ہم دنیا میںپہلی سانس لیتے ہیں تو ہم پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی بارش برسنا شروع ہوجاتی ہے۔

ہمارے والدین اس وقت تک اپنی شفقت، عنایت اور اپنی مہربانی کا سایہ کیے رکھتے ہیںجب تک ہم کسی کام کے اہل نہیں ہوجاتے۔ماں کے پیٹ میں ایک ندی سے خوراک مل رہی ہوتی ہے اور دنیا میں آتے ہیں اللہ رب العزت اپنی رحمتوں کے دریائوں کی فراوانی کریتے ہیں۔کونسی نعمت نہیں ہے ہمارے پاس؟زندگی، شعور، انسانیت، معاشرت، تہذیب، صحت، تعلیم، والدین، گھر، روٹی، کپڑا، مکان غرض زندگی کی ہرنعمت سے ہمیں اللہ تعالیٰ نے نوازا ہے۔آسمانوں اورزمین کو ہمارے لیے اللہ تعالیٰ نے تسخیر کردیا ہے۔کائناتوں کا علم ہمارے سامنے یوں پھیلادیاگویاہم ہی اس ساری کائنات کے اکیلے وارث ہیں۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

About soban

Check Also

دانتوں میں خول اور کیڑا لگ جانے کا دیسی علاج

دانتوں میں خول اور کیڑا لگ جانے کا علاج کے لیے آپ کوآسان گھریلو نسخہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *