اگر آپ گڑ کھا کر پانی پیتے ہیں تو کیا ہو گا؟

آج کل جو بیماریاں ہیں یہ بنائی جا رہی ہیں کیونکہ آج کل جو ملنے والی چیزیں ہیں انہیں بنا یا غلط جا تا ہے اور جب آپ غلط چیزیں کھا ئیں گے تو پھر ہارٹ اٹیک شوگر با لوں کا جھڑنا یہ سب مسائل تو ہوں گے ہی تو اچھا کھانا شروع کر دو تو اس سے باڈی بھی صحت مند رہے گی اور آپ کا پیسہ جو بیماریوں پر خرچ ہو نا تھا وہ بچ جا ئے گا اس کے ساتھ ہی ساتھ چینی کھانے سے بہت سی بیماریاں ہو تی ہیں اس کا ایک متبادل ہے جو آپ کو آ سانی سے مارکیٹ میں مل جا تا ہے اور وہ متبادل ہے جا گر ی یعنی گڑیہ آپ کو آسانی سے مارکیٹ میں مل جا ئے گا اور گڑ پر اسے زمانے میں استعمال ہو تا تھا۔

اور اس وقت کسی کو کو ئی بیماری نہیں ہو تی تھی شوگر نہیں تھی لیکن جب سے لوگوں نے سفید چینی کھانا شروع کر دی ہے تو شو گر سب کے گھروں میں ہے حالانکہ صرف چینی سے ہی شوگر نہیں ہو تی لیکن کافی حد تک چینی شوگر کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے کیونکہ یہ ہماری باڈی میں کا فی زیادہ انرجی پیدا کر تی ہے اور جب اس انرجی کو ہم استعمال نہیں کر پا تے تو آہستہ آہستہ ہماری باڈی ہماری کڈنی سب کچھ کمزور ہو نے لگتا ہے ہماری پینکریاز پر اس کا کافی اثر پڑتا ہے اور آہستہ آہستہ انسولین کا پروڈکشن کم ہو جا تا ہے اور انسان شوگر کا شکار ہو جا تا ہے۔

آپ گھر میں سے چینی کو نکال دیجئے گڑ کا استعمال کر نا شروع کر دیجئے آپ کی زندگی بدل جا ئے گی گڑ آپ مارکیٹ میں آسانی سے ملے گا اسے لے آ ئیں جب بھی آُ کو چینی کا استعمال کر نا ہو تا ہے تو چینی مت کھا ئیں اگر آپ چائے نہیں چھوڑ پار ہے چائے پینی ہی ہے تو چائے میں گڑ ڈال کر لیجئے چاول میں چینی کی جگہ گڑ ڈالئے۔ صبح خالی پیٹ گڑ کا استعمال کیجئے۔ تھوڑا سا گڑ اور اوپر سے ایک گلاس گرم پا نی کا پئیں ایک گلاس گرم پانی کا پینا بہت ضروری ہے۔

کیونکہ گڑ آپ کے جسم میں ایسیڈٹی پیدا کر سکتا ہے تو اگر آپ گرم پانی کا ایک گلاس پئیں گے تو اس سے نہ ہی گڑ آپ کو ایسیڈٹی کر ے گا اور گڑ کے اندر کا آئرن آپ کی باڈی اچھے سے جذب بھی کر پا ئے گی۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ آ مین۔ گڑ کا موازنہ اگر چینی کے ساتھ کیا جائے تو ہمیں پتہ چلتا ہے کہ چینی انسانی صحت کے لیے کتنی نقصان دہ ہے جبکہ گڑ ہماری صحت پر بے شمار اچھے اثرات مرتب کرتا ہے۔

About soban

Check Also

کان کا درد دو منٹ میں ختم۔

کان میں درد کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، جیسے ٹونسلز، ناک کے اندرونی حصے میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *