اس سال فطرانہ کی مقدار کیا ہے ؟ فطرانہ کا حقدار کون؟ فطرانہ کب ادا کریں؟

ماہ رمضان المبارک کے اختتام اور ماہ شوال کے آغاز پر ایک اہم عمل صدقہ الفطرکا بھی ہے صدقہ الفطر کے بہت سارے فضائل ہیں ۔ صدقہ الفطر کی وجہ سے اور روزے کی کمی کوتاہی کا ازالہ ہوتاہے۔

جیسا کہ سجدہ سہو کی وجہ سے نماز کی کمی کوتاہی کا ازالہ ہوتا ہے کیونکہ رمضان کے مہینے میں بھی ہم سے بہت ساری کوتاہیاں ہوتی ہیں۔ تو اس لیے صدقہ الفطر ان کوتاہیوں کا ازالہ کردیتاہے۔ اسی طرح صدقہ الفطر کی ادائیگی سے روزے کی قبولیت کا امید بڑھ جاتی ہے ۔ تیسری بات یہ ہے کہ صدقہ الفطرمساکین اور حاجت مندوں کے ساتھ تعاون کرنے اور انہیں خوشیوں میں شریک کرنے کا اہم ذریعہ ہے۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں حضور اکرم ﷺ نے صدقہ الفطر کو مقرر فرمایا ہے

روزے داروں کو بے کار اور بے ہودہ باتوں سے پاکیزگی حاصل کرنے کے لیے اور مساکین کو کھلانے یعنی ان کے ساتھ تعاون کرنے کے لیے ۔ جس نے عید الفطر کی نماز سے پہلے ادا کردیا۔ تو یہ مقبول صدقہ الفطر ہے۔ اور جس نے عید الفطر کی نماز کے بعدادا کیا تو پھر یہ صدقوں میں سے ایک صدقہ ہے۔ یعنی نماز سے پہلے ادائیگی سنت ہے ۔ لہذا اس کو نما ز سےپہلے ادا کرناچاہیے۔ اس کی ادائیگی کا جو حکم ہے اس میں دو باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ ایک مسلمان ہو، کافر پر۔صدقہ فطر واجب نہیں ۔ آزاد ہو، غلام پر صدقہ فطر واجب نہیں۔

اپنے قرضے اور اصل ضروریات اور اہل و عیال کی ضروریات کے علاوہ نصاب کا مالک ہو لہذا اس شخص پر جو قرض اور حوائج اصلیہ سے زائد نصاب کا مالک نہ ہو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں ۔گویاصدقہ فطر ہر آزاد مسلمان پر واجب ہے جب کہ وہ یکم شوال (عید الفطر) کو نصاب کا مالک ہو خواہ اسی دن یعنی یکم شوال کو مالک ہوا ہو، اس پر سال گذرنا شرط نہیں۔صدقہ فطر کا نصاب کیا ہے؟صدقہ فطر کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی قیمت کا مال ہے

جو کہ انسان کی حاجات اصلیہ سے زائد ہو یہ مال خواہ سونا چاندی یا اس کے زیورات کی شکل میں ہو یا نقدی یا مال تجارت یا ضرورت سے زائد گھریلو سامان یا رہائشی مکان سے زائد کوئی مکان وغیرہ کی شکل میں ہو۔کس کی طرف سے دیا جائے؟درج ذیل افراد کی جانب سےصدقۂ فطر نکالنا ضروری ہے(۱)اپنی جانب سے۔ (۲) اپنے چھوٹے محتاج بچوں کی طرف سے۔(۳) ہاں اگر وہ مالدار ہوں تو صدقہ فطر انہی کے مال سے نکالا جائے،مسئلہ:شوہر پر ضروری نہیں ہے کہ وہ اپنی بیوی کی طرف سے صدقہ فطر نکالے۔

لیکن اگر بیوی پر احسان کرے تو جائز ہے، اسی طرح باپ پر اپنے بڑے باشعور بچوں کی جانب سے صدقہ فطر نکالنا واجب نہیں ، لیکن اگر وہ ان پر احسان کرے تو جائز ہے، ہاں اگر اولاد محتاج و مجنون ہوں تو ان کی طرف سے صدقہ فطر نکالنا واجب ہے۔ عید الفطر کے دن صبح صادق ہوتے ہی یہ صدقہ واجب ہو جاتا ہے۔ لہذا جو شخص صبح صادق ہونے سے پہلے ہی انتقال کر گیا اُس پر صدقہ فطر واجب نہیں ہےجو بچہ عید الفطر کے دن صبح صادق سے پہلے پیدا ہو اس کا صدقہ فطر بھی دینا ہوگا۔ صدقہ فطر نماز عید سے قبل ادا کر دینا چاہئے۔

اور بہتر ہے کہ عید سے اتنا پہلے ادا کردیں کہ غریب بھی عید کی خوشیوں میں شریک ہوسكیں اور اگر کوئی اپنی کوتاہی کی وجہ سے نماز عید تک بھی صدقة الفطر ادا نہیں کر سکا تو اس سے معاف نہ ہو گا بلکہ اس کے بعد بھی ادا کرنا ضروري ہے۔صدقہ فطر کس کو دیا جائے؟صدقہ فطر کے مستحق وہی لوگ ہیں جو زکوة کے مستحق ہیں۔ صدقہ فطر اپنے غریب رشتہ داروں کو دینے میں زیادہ فضیلت ہے۔ دینی مدارس کے طلباء و طالبات صدقہ فطر کا بہترین مصرف ہیں۔ ان کو صدقہ فطر دینے سے اشاعت دین میں مدد کا اجر بھی ملے گا۔

صدقہ فطر کی مقدار کیا ہے؟احادیث میں چار چیزوں کا ذکر ہے ہر شخص کو چاہئے کہ اپنی حیثیت کے مطابق اعلی سے اعلی چیز کو اختیار کرے۔کشمش یا منقی:کسی بھی قسم کا ایک صاع (ساڑھے تین کلو احتیاطا چار کلو) فی کس کھجور:کسی بھی قسم کی ایک صاع (ساڑھے تین کلو احتیاطا چار کلو) فی کس، مارکیٹ ویلیو معلوم کر لی جائےجو:ایک صاع کسی بھی قسم کے (ساڑھے تین کلو احتیاطا چار کلو) فی کس،مارکیٹ ویلیو معلوم کر لی جائے۔

گندم:کسی بھی قسم کی نصف صاع (پونے دو کلو احتیاطا دو کلو) فی کس، مارکیٹ ویلیو معلوم کر لی جائےہر شخص کو چاہئے کہ صدقہ فطر اپنی حیثیت کے مطابق دے۔ صرف گندم کو مخصوص کرلینے سے اگرچہ صدقہ فطر ادا ہوجاتا ہے لیکن بہتر یہ ہے کہ اگرا للہ تعالی نے وسعت دی ہے تو کشمش، کھجور یا جو کے مطابق صدقہ فطر ادا کرے۔

About soban

Check Also

سو سال تک کمزوری آپ کے قریب نہ آئے گی! اعصابی کمزوری کا بے حد مفید گھر یلو نسخہ

آپ کے ساتھ شئیر کرنے والے ہیں یہ اعصاب اور پٹھوں کو مضبوط بنانے میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *