ایسا روزہ اللہ قبول نہیں کرتا

امام علی ؑ منبر رسول پر اللہ کے بندوں کو درس سلام دے ہی رہے تھے اتنے میں آپ فرمانے لگے رمضان اللہ کی طرف سے انسانوں کےلیے رحمت ، برکت اور بغیر کسی رکاوٹ کے ہر دعا پوری ہونے کا اعلا ن ہے۔ لیکن افسوس ہے ان لوگوں پر جو روزے کے بعد بھی روزے میں نہیں ہوتے ۔ تو کسی نے پوچھا یا علی ! جو روزہ رکھنے بھی روزے میں نہیں ہوتے ۔

امام علی ؑ نے فرمایا: اے شخص! روزہ اپنے آپ کوبھوکا رکھنے کا نام نہیں بلکہ اپنے آپ کو متقی اور پرہیز گا راور گن اہوں سے دور کرنے کا نام ہے۔ یادرکھنا! جو انسان روزہ رکھنے کے بعد بھی گن اہ کرے گا۔ کھانے پینے سے دور رہے۔ لیکن آنکھوں سے ، زبان سے ، کانوں سے ، ہاتھوں سے گن اہ کرتا رہے تو ایسا انسان روزے کے بعد بھی روزے میں نہیں ہوتا۔ اور یوں نہ اسے کسی روزے کا ثواب ملتا ہے اورنہ رمضان کے مہینے میں فائدہ اٹھا پاتا ہے کیونکہ رمضان اللہ نے انسانوں کو اس لیے عطا کیا تاکہ انسان تیس دن اپنی فطر ت سے جنگ کرے۔ اللہ کےلیے اپنے بری عادتوں سے دور رہے ۔

تاکہ ان تیس دنوں کا اثر آنے والا پورا سال اس کی فطر ت پر حاوی ہوتا رہے ۔ اور وہ یوں اللہ کا نیک بندہ ہو کر اللہ کی رحمت تک پہنچارہے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جو شخص شب قدر میں عبادت کرے ایمان کے ساتھ اور ثواب کی نیت کرکے اس کے اگلے گن اہ بخش دےئے جائیں گے۔حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے انصار کی ایک عورت (ام سنان) سے فرمایا ۔ تو ہمارے ساتھ حج کیوں نہیں کرتی! وہ کہنے لگی میرے پاس پانی لادنے والا ایک اونٹ تھا اس پر فلانے کا باپ یعنی اس کا خاوند اور اس کا بیٹا سوار ہو کر کہیں چل دیا ہے۔

ایک ہی اونٹ چھوڑگیا ہے اس پر ہم پانی لادتے ہیں ۔ آپؐ نے فرمایا جب رمضان المبارک آئے تو عمرہ کرلے۔ رمضان میں عمرہ حج کرنے کے برابر ہے یا ایسا ہی کچھ فرمایا۔حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضر ت ﷺ نے فرمایا! جنت میں ایک دروازہ ہے جس کو ریان کہتے ہیں روز دار لوگ بہشت میں اس دروازے سے جائیں گے روزہ داروں کے سوا کوئی اس میں سے نہ جائے گا۔ پکارا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں ؟ وہ اُٹھ کھڑے ہوں گے اِن کے سوا اِس میں سے کوئی نہ جائے گا۔ جب وہ جاچکیں گے تو یہ دروازہ بند ہو جائے گا کوئی اس میں نہ جا سکے گا۔

حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے متواتر روزے رکھے ۔ لوگوں نے بھی متواتر روزے رکھے ۔ ان کو شاق گزرا ۔ آپؐ نے ان کو منع فرمایا ۔ انہوں نے کہا آپؐ تو متواتر روزے رکھتے ہیں۔ آپؐ نے فرمایا میں تمہاری طرح تھوڑی ہوں میں تو برابر کھلایا پلایا جاتا ہوں۔

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ (غزوہ فتح میں) مدینہ سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور عسفان تک روزہ رکھتے رہے۔ عسفان میں آپ ﷺ نے پانی منگوایا اور دونوں ہاتھ لمبے کرکے پانی کو اٹھایا تاکہ لوگ دیکھیں ، پھر افطار کیا ، یہاں تک کہ مکہ پہنچے یہ رمضان کا ذکر ہے۔ ابن عباس رضی اللہ کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ نے (سفر میں) روزہ بھی رکھا اور افطار بھی کیا۔ اب جس کا جی چاہے سفر میں روزہ رکھے جس کا جی چاہے نہ رکھے۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *