مرد کی محبت کا اعتبار کب کرنا چاہیے ؟ ایرانی کہاوت ہے کہ مرد کی محبت کا اعتبار اس وقت تک نہ کرناجب تک مرد خود۔۔؟؟

مت بنو کھلی کسی کے واسطے ،جہالت کادور ہے پڑھ کر پھاڑ دیئے جاؤ گے ۔ بہت بڑی غلط فہمی ہے کہ جہاں محبت ہو وہاں لڑائیاں ہوتی ہیں یہ دنیا کے بڑے جھوٹوں میں سے ایک جھوٹ ہے۔ آئے دن کی ناراضگی قطرہ قطرہ کرکے رشتوں کو چاٹ جاتی ہے ، لڑائی جھگڑا محبت کی دلیل قطعاً نہیں ہے۔ اور پھر لوگ ریت کی طرح پھسل جاتے ہیں جیسے وہ کبھی ہمارے تھے ہی نہیں۔ یہاں ہرکسی کودراڑوں میں سے جھانکنے کی عادت ہے اور اگر دروازہ کھول دیں تو کوئی پوچھنے بھی نہیں آئےگا۔

جب فیلنگز لوگوں سے چھپا کر رکھو تو وہ آپ کو سڑیل بلاتے ہیں۔ اور اگر آپ ان کے سامنے رونا دھونا شروع کردو تو وہ آپ کو ڈرامے باز بلائیں گے ۔ اپنے حسن کو اتنا اشتعال انگیز ، مت بناؤ کہ آپ کے حصے میں ناپ اک نگاہوں کے سوا کچھ نہ آئے۔ جب تک زر لٹاتے رہو گے زبردست رہے گی دنیا ! زرہ ہاتھ کھینچ کر دیکھوکتنی مطلب پرست ہے دنیا۔ لڑکی چاہے کتنی بھی خوبصورت ، پڑھی لکھی ، خود اعتماد یا ہنر مند کیوں نہ ہو۔ ا س کے نصیب کی وجہ سے بے قصور ہوتے ہوئے بھی اس کی ذات اور ماتھے پر لگا ایک دھبہ اس کے لڑکی یا عورت ہونے کا احساس کومٹا دیتا ہے۔

پھر وہ صرف اور صرف ٹھکرائی ہوئی، منگنی کے بعد رد کی ہوئی ، طلاق یافتہ یا بیوہ ہی کہلاتی ہے اور ان چاروں داغوں میں سے کوئی ایک داغ باقی سب کو بھی اپنے اندر سمولیتاہے۔ پھر وہ عورت یا لڑکی معاشرے کے اچھے لفظوں اور لہجوں کے لیے ناقابل برداشت بوجھ بن جاتی ہے جسے ہر کوئی اچھالتا پھرتا ہے۔ تہمت اور طعنے ہی تاحیات اس کا مقدر ٹھہرتے ہیں۔ بھلے وہ لڑکی اٹھارہ ، بیس یا پچیس سال کی ہی کیوں نہ ہو۔ وہ قسمت کے لگے کسی ایک داغ کی وجہ سے ہمیشہ بدنصیب ہی کہلاتی ہے۔

رازسکو ں کیا ہے ؟ لوگوں کے دکھ بانٹو۔ جو چہرہ بے دھنک دیکھو اسے رنگوں سے بھر ڈالو۔ ایک کہاوت ہے کہ جب بھی اوپر چڑھو تو راستہ میں جو بھی ملے ، اس کو سر جھکا کر سلام کر و کیونکہ اگر تمہارے پاؤں پھسل گئے تو تم انہیں لوگوں کے قدموں سے ہوتے ہوئے گذرو گے ۔ انسان کی زندگی میں بعض تعلق ایسے بھی ہوتے ہیں۔ جو نہ مل سکتے ہیں اور نہ ہی جدا ہوسکتے ہیں ۔ بالکل ایک درخت کی جڑ اور شاخ کی مانند، جوجتنے ملے ہوئے ہیں اتنے ہی جدا بھی ۔ جڑ مٹی میں پوشیدہ رہ کر سوکھی ہوئی شاخ پر ہریالی بکھیر دیتی ہے۔ مگر شاخ کی تا زگی اور اس پر کھلے ہوئے سبز پتے اس بات سے انجان ہی رہتے ہیں

کہ خاک میں دبی ہوئی جڑیں کیسے اپنی قوت شاخوں میں جذب کرتی جارہی ہیں۔ اور اسی قوت کے دم سے شاخوں کی زندگی کی شادابی خوشبو قائم ہے ۔ اصل میں جڑوں کا ہنر ہی یہی ہوتا ہے کہ وہ دکھائی نہیں دیتیں۔ لیکن مٹی تلے دبی ، اندھیرے میں رہ کر اپنا کام مسلسل کیے جاتی ہیں۔ ایرانی کہاوت ہے کہ اس وقت تک مرد کی محبت کا اعتبار نہ کرنا جب تک مرد خود محبت کا اظہار نہ کر دے ۔

About soban

Check Also

کان کا درد دو منٹ میں ختم۔

کان میں درد کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، جیسے ٹونسلز، ناک کے اندرونی حصے میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *