عمر کے ہر حصہ میں دماغ کو صحت مند کس طرح رکھا جائے

انسانی دماغ قدرت کا ایسا عجوبہ جو پندرہ واٹ جتنی توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ اس سے ایک ایل ای ڈی بلب جلایا جاسکتا ہے۔انسان کا دماغ بہت کچھ سیکھنے اور یاد رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس صلاحیت کا بھرپور استعمال کرنا ہر شخص کے لئے ممکن ہے۔دماغ کے ایک کھرب سے زائد خلئے ایک دوسرے سے جڑے ہوتے ہیں۔ ایک خلیہ تقریباًایک لاکھ دوسرے خلیوں سے جڑا ہوتا ہے۔ یہ خلیات اس چھوٹے سے عضو کو بہت سی معلومات کو ذخیرہ کرنے کے ساتھ نت نئی چیزیں سیکھنے اور یاد رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی اور فاسٹ فوڈ نے نے جہاں زندگی کو آسان کیا۔جسم کو آرام دیا ہے۔ وہیں دماغ کو مشکل میں بھی ڈال دیا ہے۔اپنے پرس میں یا اپنی پینٹ کی جیب میں مختلف سکے ڈال لیجئے۔ جب بھی وقت ملے انہیں دیکھے بغیر انگلیوں سے چھوکر پہچاننے کی کوشش کیجئے کہ یہ کون سا سکہ ہے۔

اسے آپ بچوں کے ساتھ ایک کھیل کی طرح بھی کھیل سکتے ہیں۔یہ کچھ بھی ہوسکتا ہے مثلاً کھانے پکانے کی کوئی نئی ترکیب پڑھ کر اسے سیکھنے کی کوشش کرنا یا کسی نئے لفظ کا مطلب سمجھنا یا اپنے دفتر جانے کیلئے نیا راستہ اختیار کرنا۔روٹین سے باہر نکل کر کچھ نیا کرنا ، دماغ میں ایک نیا جوش پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔دماغی کھیلوں کا مطلب یہ ہے آپ اپنے دماغ کو زیادہ چیلنج دے رہے ہیں۔ کراس ورڈز ، شطرنج یا دیگر معموں کو حل کرنے میں دماغ کو بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ محقیقن کی رائے میں کراس ورڈ کے ساتھ ریاضی کی مشقیں اور اسپیلنگ سکلز کی مشقیں دماغ کیلئے بہت فائدہ مند ہیں۔ دماغی گیمز مثلاًپزل وغیرہ کھیلیں کہ اس میں دماغ کو بہت زیادہ کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ ایک انتہائی دلچسپ اور بہت جلد مثبت نتائج دینے والی مشق ہے۔ ایک سے زائد زبانوں سے واقفیت بڑھاپے میں ایک صحت مند دماغ کا سبب بنتی ہے۔ مختلف زبانوں کا سیکھنا ان کو سمجھنا اور بولنا دماغ کے عضلات پر وہی اثرات مرتب کرتے ہیں

جو پزل اور بنیادی ریاضی کی مشقیں کرتی ہیں۔کتابوں سے لیکر تازہ ترین خبریں پڑھنے تک ہر قسم کا مطالعہ دماغ کو نئے الفاظ سیکھنے اور یاداشت بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ محققین یہ بھی کہتے ہیں کہ مختلف عنوانات کا مطالعہ کرتے رہنا دماغ تیز کرنے میں بہت مددگار ہے۔ اگر آپ کھیلوں کی خبروں کو پسند کرتے ہیں تو ساتھ ہی کوشش کیجیے کہ سیاست اور فیشن کو بھی پڑھا جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ کمزور یاداشت والے افراد کی بہت جلد امراضِ قلب فالج اور ہارٹ اٹیک کا سامنا ہوسکتا ہے۔ جو افراد دماغی طور پر تندرست اور فِٹہیں انہیں فالج، ہارٹ اٹیک یا امراضِ قلب کا کم سے کم خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ نیورولوجسٹ اور کارڈیالوجسٹ نے تین سال تک چار ہزار افراد پر ریسرچ کی اور نتائج سے آگاہ کیا کہ دل اور دماغ کا فنکشن آپس میں جڑا ہوا ہے۔ اس لئے اگر کسی شخص کا دماغ درست فنکشن نہیں کرتا تو وہ بہت جلد دل کے امراض میں بھی مبتلا ہو جاتا ہے۔محقیقن کہتے ہیں کہ دل کی صحت کے ساتھ دماغ کی صحت کے لئے بھی سماجی تعلقات کو بہتر بنانا ضروری ہے۔ اس کے کئی فائدے ہیں۔ ایک جانب معاشرتی زندگی فعال ہوتی ہے دوسری جانب تعلقات میں استحکام پیدا ہوتا ہے۔ سماجی تعلقات سے مراد حلقہ احباب یعنی دوست رشتے داروں سے ملنے میں دلچسپی پیدا کیجئے ۔ دن بھر میں کچھ وقت اپنے دوستوں سے کسی بھی موضوع پر بات کرنے کیلئے نکالیں۔

اپنے دوستوں اور رشتے داروں سے گھلنا ملنا دماغ کو چوکنا رکھنے میں مددگار ہے۔لوگوں سے ملنا، ان کی باتوں کو یاد رکھنا دماغ کے لئے ایک بہترین مشق ہے۔ الزائمر ڈیزیز سینٹر شکاگو میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق وہ افراد جو اپنازیادہ وقت سماجی تحریکا ت میں گزارتے ہیں، کسی کلب کے میمبر ہوتے ہیں، دوستوں رشتے داروں سے ملنا جلنا رکھتے ہیں،وہ لوگ اپنی عمر کے لوگوں کے مقابلے میں زیادہ چاک و چوبند اور چست رہتے ہیں۔موسیقی سننے یا موسیقی آلات جیسے پیانو یا گٹار بجانے سے دماغ کے خاص حصے متحرک ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ موسیقی سے توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت بہتر بنانے میں بھی مدد ملتی ہے۔ موسیقی سے دماغی افعال میں بہتری آتی ہے۔ دو سمتی ڈیمنیشیا جیسے دماغی مرض پر قابو پانے میں بھی مددگار ہے۔اپنے دل کی صحت کا خیال جسمانی ورزش کے ذریعے رکھیئے۔ کیونکہ جسمانی ورزشیں کولیسٹرول ، بلڈ پریشر اور شوگر کنٹرول میں رکھنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔یہ ورزشیں دماغ کیلئے بھی فائدہ مند ہیں۔ روزانہ 30 منٹ سے ایک گھنٹے تک ورزش جیسے یوگا، چہل قدمی، سائیکلنگ، تیراکی وغیرہ بہت آسان بھی ہیں اور تفریح سے بھرپور بھی۔ ان سے دماغ کو موسم سے مطابقت پیدا کرنے میں مدد بھی ملتی ہے۔اسمارٹ فون دماغ کو متاثر کرسکتا ہے یا نہیں۔ اس پر بہت تحقیق ہوتی رہی ہے۔ بعض ماہرین کے مطابق ٹیبلٹ اور فون سے خارج ہونے والی نیلی لائٹ نیند کے دورانیئے کو متاثر کرتی ہے۔ اس لیے ماہرین مشورہ دے رہے ہیں کہ سوتے وقت موبائل فون کو خود سے دور کردیں۔

دماغ ہمارے وزن کا 6 فیصد حصہ ہے مگر یہ جسم کی ۲۰ فیصد آکسجن، خون اور گلوکوز استعمال کرتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ صحت مند دماغ کے لئے لازمی ہے کہ معدہ کو صحتمند رکھا جا ئے۔ ناقص غذا کااستعمال اور غذا میں بے اعتدالی بھی دماغ کو کمزور کرنے کی وجہ بنتی ہیں۔ تحقیقات نے انکشاف کیا ہے کہ صحتمند دماغ کے لئے بھی اچھی غذااتنی ہی ضروری ہے جتنی پورے انسانی جسم کے لئے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ صحت مند دماغ انسانی معدہ سے جڑا ہوا ہے۔بادام و خشک میوہ جات: بادام اور دیگر خشک میوہ جات مثلاً اخروٹ، چلغوزے وغیرہ جسم کو اومیگا 3 اور دیگر وٹامن فراہم کرتے ہیں جس سے دماغ کو تقویت ملتی ہے۔پالک: سبزیوں میں پالک ایسی سبزی ہے جو کئی دماغی امراض میں بہت مفید پائی گئی ہے ، پالک کا استعمال ناصرف دماغ کو مضبوط کرتا ہے بلکہ انسانی جسم میں کینسر کے امکانات کو بھی کم کرتا ہے۔ٹماٹر: سائنسدانوں کا دعویٰ ہے کہ ٹماٹر کھانے سے انسان کا موڈ نا صرف بہتر ہوتا ہے بلکہ وہ مثبت سوچ کا حامل ہونے لگتا ہے۔ ٹماٹر میں موجود عنصر لائیکوپین، دماغ کو تقویت دیتا ہے۔سورج مکھی کے بیج: سورج مکھی اور کدو کے بیجوں میں پروٹین، وٹامن بی اور اومیگا موجود ہوتا ہے یہ دماغ کو مضبوط کرتا ہے۔اناج کا استعمال: گندم، جو، مکئی اور دیگر اناج میں اومیگا 3، وٹامن بی اور کاربوہائیڈریٹ پائے جاتے ہیں۔ ان سے خون کا نظام معتدل رہتا ہے اور خون میں لوتھڑے نہیں بنتے۔ اس سے فشار خون ٹھیک کام کرتا ہے اور دماغ کو طاقت ملتی ہے۔جس خوراک یا اجزاء کو محققین مضر صحت اجزاء قرار دیتے ہیں ان میں کیفین ، تمباکو نوشی اور الکحل سرِ فہرست ہیں۔ ان کا استعمال نہیں کرنا چاہیے۔اس کے علاوہ زیادہ نمک اور زیادہ شکر سے بھی اجتناب لازمی ہے۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *