دھرنا ختم ، لیکن تحریک پر سے کالعدم کیے جانے کی پابندی ہٹا لی گئی یا نہیں ؟ تازہ ترین خبر

قومی اسمبلی میں فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرنے کے معاملے پر منعقدہ اجلاس کے دوران تحریک انصاف کے رکن پارلیمنٹ امجد علی خان نے فرانسیسی میگزین کی جانب سے گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے خلاف قرار داد پیش کردی‘ جس میں کہاگیا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے پر

ایوان میں بحث کی جائے، تمام یورپی ممالک کو معاملے کی سنگینی سے آگاہ کیا جائے‘ مسئلے کو بین الاقوامی فورمز پر اٹھایا جائےجبکہ اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن)کے رہنماءشاہد خاقان عباسی نے کہاکہ معاملے پر پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے ‘ جے یوآئی کے مولانا اسعدمحمود نے متفقہ قرارداد لانے کامطالبہ کردیا جبکہ لیگی رہنماءاحسن اقبال کا کہنا تھاکہ کالعدم تحریک لبیک کے ساتھ کیاگیا معاہدہ ایوان

میں پیش کیاجائے ۔دوسری جانب وزیر مذہبی امور پیرنورالحق قادری کاکہنا ہے کہ یہ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ اپوزیشن ختم نبوت کے نعرے لگارہی ہے جبکہ وفاقی وزیراسدعمر نے کہاکہ ہم اپوزیشن کے متفقہ قراردادکے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں ‘ہمیں مل بیٹھ کر آگے بڑھنا چاہئے ۔ قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر اسد قیصر کی سربراہی میں ہوا۔ وزیر پارلیمانی امور علی محمد خان نے معاملے پر پارلیمنٹ کی کمیٹی بنانے کی تحریک بھی پیش کی۔ ایوان نے خصوصی کمیٹی بنانے کی تحریک منظور کرلی۔ علی محمد خان نے کہا کہ یہ قرارداد پرائیویٹ ممبر کی طرف سے آئی ہے اور حکومت اس پر کوئی دعویدار نہیں۔ اس پر اپوزیشن نے احتجاج کیا۔قومی اسمبلی میں تاجدار ختم نبوت زندہ باد کے نعرے لگنا شروع ہوگئے ۔اجلاس کے دوران قرار داد کا متن پڑھ کر سناتے ہوئے امجد علی خان نے کہا کہ فرانسیسی صدر نے آزادی اظہار رائے کا سہارا لے کر ایسے افراد کی حوصلہ افزائی کی جو انتہائی افسوسناک عمل ہے۔ ایوان مطالبہ کرتا ہے کہ فرانسیسی سفیر کو ملک سے نکالنے پر بحث کی جائے‘

اجلاس کے دوران مسلم لیگ (ن) کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ مجھے بڑا افسوس ہے کہ تحفظ ناموس رسالت کا معاملہ جس پر پورا پاکستان متفق ہے مگر آپ ایوان میں اسے متنازع بنارہے ہیں‘اگر حکومت نے قرار داد لانی تھی تو اپوزیشن سے بات کی جاتی ‘میری گزارش ہوگی کہ ایک گھنٹہ دیا جائے ہم اس کا مطالعہ کرکے اس میں جو اضافہ کرنا ہے وہ سب کے سامنے رکھیں گے۔ اسپیشل کمیٹی کی کوئی ضرورت نہیں، پورے ایوان کی کمیٹی ہونی چاہیے۔جمعیت علمائے

اسلام (ف) کے رہنما مولانا اسعد محمود نے کہا کہ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کرتے ہوئے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ حیران کن بات یہ ہے کہ وزیر اعظم کی تقریر میں حکومت کی پالیسی سامنے آنے کے بعد ٹی ایل پی سے مذاکرات کس نے کیے‘وہ کہتے ہیں کہ ہم نے تحریک لبیک کے ساتھ اس قرار داد کو طے کیا ہے، ختم نبوت، توہین رسالت کا مسئلہ ایک تحریک کا مسئلہ نہیں‘اس معاملے پر مکمل پارلیمانی کمیٹی بنائی جائے‘کمزور قرار داد پیش کی گئی۔اس معاملے پر متفقہ قراردادلائی جائے ‘ انہوں نے کہا کہ اسپیکر صاحب اگر آپ نے آج اس قرار داد پر اپوزیشن کو نظر انداز کیا تو میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں آپ کو اس پارلیمنٹ کو نہیں چلانے دوں گا۔ وفاقی وزیر برائے مذہبی امور نور الحق قادری نے کہا کہ حالات کی ستم ظریفی ہے کہ اپوزیشن ختم نبوت کے نعرے لگارہی ہے ‘مجوزہ قرار داد میں مثبت طریقہ کار اور لائحہ عمل اپنایا گیا‘عمران خان کا عشق رسول ۖ سے جو تعلق ہے وہ نہ کسی پیر کا ہے اور نہ کسی مولوی کا ہے۔انہوں نے اپوزیشن پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے آپ کے ختم نبوت کے جذبے کو دیکھا ہے،

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *