سحری میں دہی اور خشک روٹی کا استعمال دن بھر پیاس سے دور

سحری میں دہی اور خشک روٹی کا استعمال اور دن بھر پیاس سے دور ، روزے میں پیاس بچنے کے آسان نسخے جاننے کےلیے یہ لازمی پڑھ لیں۔ دنیا بھر کے مسلمان اس خاص مہینے کےلیے اہتمام کرتے ہیں۔ سحری اور افطاری کے لیے خصوصی تیاریاں کی جاتی ہیں۔ جبکہ گرم موسم کی وجہ سے پاکستان اور ایشیائ کےدیگر ممالک روزہ رکھنا صرف اللہ کی دی ہوئی ہمت کی وجہ سے ہوتا ہے۔

چالیس ڈگری سے اوپر کے درجہ حرارت میں دن بھر بھوک اور پیاس سے بچنے کا واحد حل یہی ہے کہ سحری ایسی غذائیں استعمال کی جائیں ۔ جو آپ کو دن بھر پیاس نہ لگنے دیں۔ یہاں ہم ذکر کریں گے ایسی ہی چند خوراکوں کا جو پیاس کے خلاف لڑنے میں آپ کی مدد گار ہوں گی۔ دہی :دہی کا استعمال دن بھر پیاس نہیں لگنے دیتا اس میں موجود پروٹین ، وٹامن بی ون اور زنگ دن بھر آپ کو توانائی پہنچاتےہیں۔ اور ڈی ہائیڈریش سے بچاتےہیں۔ خشک روٹی: سحری میں بجائے پراٹھے کے خشک روٹی کا استعمال کیاجائے تاکہ معدہ ہلکارہے اور میٹا بولزم نارمل رہے ۔

پراٹھا کھانے سے آپ دن بھر پیاس سے نڈھال رہیں گے۔ الائچی کا قہوہ : اگر آپ چائے کے شوقین ہیں اور دن بھر روزے کے باعث چائے استعمال نہیں کرسکیں گے ۔ توسحری میں چھوٹی سبز الائچی کا قہوہ ضرور پئیں یا کم ازکم چائے میں الائچی ضرور شامل کرلیں۔ میٹھے کا کم استعمال: چائے ، دہی اور دیگر اشیاء میں میٹھا یا تو استعمال نہ کریں یا اس کی مقدار بہت کم کردیں۔ زیادہ میٹھے کا استعمال آپ کو زیادہ پیاس لگنے کا سبب بنے گا۔ املی آلو بخارے کا شربت : خشک آلو بخارا اپنی ٹھنڈی تاثیر کے باعث بہت مشہور ہے

اور اگر اس کے ساتھ املی ملا کر اسے رات بھر بھگو کر رکھاجائے اور اسکے بعد سحری میں اس کو گرائنڈ کرنے کے بعدچھان کر اس کا جوس(نمک اور چینی حسب ذائقہ استعمال کرکے )پینے نہ صرف آپ کا معدہ بہت اچھا ہوگا بلکہ یہ گرمی مارنے کا باعث بھی بنے گا۔ رمضان المبارک میں سحری کے اوقات میں تلی ہوئی چیزیں اور آملیٹ ، پراٹھے استعمال کرنے سے گریز کریں۔ تاکہ صحت کےساتھ ساتھ آپ کی غذائیت بھی پوری ہوتی رہے ۔ اس کے ساتھ ہی کسی نہ کسی پھل کوضرورسحری میں کھائیں۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *