حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کب روزہ چھوڑ سکتی ہے؟

آج کا ہمارا موضوع ہے حاملہ اور دودھ پلانے والی عورت کو کب روزہ چھوڑ سکتی ہے ؟ حاملہ یا دودھ پلانے والی عورت کو جب اپنی
جان کا یا بچے کی جان کا خطرہ لاحق ہو جا ئے تو وہ روزہ نہ رکھے پھر بعد میں قضاء رکھ لے لیکن اگر اپنا شوہر مال دار ہے کہ کوئی دایہ رکھ کے دودھ پلوا سکتا ہے تو دودھ پلانے کی وجہ سے ماں کو روزہ چھوڑ دینا درست نہیں البتہ بچہ سوائے اپنی ماں کے کسی اور کا دودھ نہ پیتا ہو تو ایسے وقت میں ماں کو روزہ نہ رکھنا درست ہے اگر کو ئی مسافر سفر میں ہو تو اس کے لیے بھی جا ئز ہے کہ روزہ نہ رکھے پھر بعد میں اس کی قضا ء رکھ لے مسافر کو کوئی تکلیف نہ ہو جیسے ریل میں سوا ر ہے۔

اور یہ خیال ہے کہ شام تک گھر پہنچ جا ؤں گا یا اس کے پاس سب راحت و آرام کا سا مان موجود ہے تو ایسے سفر میں روزہ رکھ لینا بہتر ہے اور اگر روزہ نہ رکھے بلکہ بعد میں قضاء رکھ لے تب بھی کوئی گ ن ا ہ نہیں ہاں رمضان شریف کے روزے کی جو فضیلت ہے اس سے محروم رہے گا اور اگر راستے میں روزے کی وجہ سے پریشانی ہو تو ایسے وقت میں روزہ نہ رکھنا بہتر ہے اگر بیماری سے اچھا نہیں ہوا اس میں م ر گیا سفر میں ہی م ر گیا تو جتنے روزے بیماری یا سفر کی وجہ سے چھوٹے ہیں آخ رت میں اس کا سوال نہیں ہو گا۔

اور نہ ان کے لیے فدیہ کی وصیت لازم ہے کیونکہ اسے قضاء کرنے کی مہلت نہیں ملی اسی طرح راستے میں پندرہ دن رہنے کی نیت سے ٹھہر گیا تو روزہ چھوڑنا درست نہیں کیونکہ اب وہ مسافر نہیں رہا اگر پندرہ دن سے کم ٹھہرنے کی نیت ہو تو روزہ رکھنا درست ہے۔ اللہ پاک ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فر ما ئے۔ اور اس کے مطا بق زندگیاں گزارنے کی توفیق عطا فر ما ئے۔ عورت کواپنے آپ یا پھر بچے کونقصان نہ خدشہ ہو ، اوراسے روزہ رکھنے میں مشقت ہو توایسی عورت کے لیے روزہ چھوڑنا جائز ہے لیکن وہ بعد میں اس کی قضاء میں چھوڑے ہوئے روزے رکھے گی ۔

اس حالت میں اس کے لیے روزہ نہ رکھنا افضل اوربہتر ہے بلکہ اس کے حق میں روزہ رکھنا مکروہ ہے ، بلکہ بعض اہل علم نے تویہ کہا ہے کہ اگر اسے اپنے بچے کا خطرہ ہو تو اس پر روزہ ترک کرنا واجب اور روزہ رکھنا حرام ہے یسی حالت میں اس کے لیے روزہ رکھنا مکروہ ہے ۔۔۔ اورابن عقیل رحمہ اللہ تعالی نے ذکرکیا ہے کہ : اگر حاملہ اوردودھ پلانے والی کوحمل کا بچے کو نقصان ہونے کا خطرہ ہو تواس کے لیے روزہ رکھنا حلال نہیں ، اوراگر اسے خدشہ نہ ہو تو پھر روزہ رکھنا حلال ہے حاملہ اوردودھ پلانے والی عورت کے لیے بغیر کسی عذر کے روزہ ترک کرنا جائے نہيں ، اوراگر وہ کسی عذر کی بنا پر روزہ نہ رکھیں توان پر بعد میں ان روزوں کی قضاء کرنا واجب ہوگی

About soban

Check Also

کان کا درد دو منٹ میں ختم۔

کان میں درد کی متعدد وجوہات ہوسکتی ہیں، جیسے ٹونسلز، ناک کے اندرونی حصے میں …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *