رمضان میں کھانا پکاتے اور آٹا گوندتے وقت یہ دو کام ضرور کر لیں پھر رزق اور دولت کی نہریں بہتے خود دیکھیں گے

روزہ دار کے لئے دو خوشیاں ہیں ایک افطار کے وقت اور دوسری خوشی اپنے رب سے ملاقات کے وقت ایک خوشی ہر روزے دار کو اس وقت میسر ہوتی ہے جب وہ کڑے دن کی بھوک اور پیاس کے بعد لذتِ طعام سے آسودہ ہوتا ہے۔ دوسری خوشی حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارشاد کے مطابق اس وقت نصیب ہوگی جب عالمِ اخروی میں اسے دیدارِ الٰہی کی نعمت ِ عظمیٰ سے نوازا جائے گا۔ متعدد احادیث مبارکہ اس مضمون پر دلالت کرتی ہیں کہ شہد کی روح جب قفس عنصری سے پرواز کر رہی ہوتی ہے تو اس لمحہ اسے خدا کا دیدار نصیب ہوتاہے۔ روایات میں ہے کہ اہلِ جنت سے جب اللہ رب العزت پوچھیں گے کہ میری جنت میں کس چیز کی کمی ہے؟ تو وہ بے اختیار پکار اٹھیں گے کہ باری تعالیٰ تیری جنت میں ہر نعمت موجود ہے۔ ایک گوشے میں شہید سکوت برلب اس حال میں بیٹھے ہوں گے کہ ان کے چہروں سے قدرے اضطراب اور آشفتگی کے آثار مترشح ہوں گے۔

ان کی اداسی اور پژمردگی کا سبب پوچھا جائے گا تو وہ جواب دیں گے کہ اے باری تعالیٰ یوں تو تیری جنت میں کسی چیز کی کمی نہیں لیکن اس میں ایک چیز کی کمی ہے جو بہت شاق گزر رہی ہے یہ پوچھنے پر کہ وہ کیا ہے ان کا جواب ہوگا کہ مولا ہمیں تیری جنت میں وہ لذت و حلاوت میسر نہیں جو تیری راہ میں جان دیتے ہوئے نصیب ہوئی تھی۔ کاش ہمیں دنیا میں پھر واپس بھیج دیا جائے کہ بارِ دیگر تیری راہ میں جہاد کریں اور جان کا نذرانہ پیش کر کے وہ لذتِ دیدارِ خداوندی دوبارہ حاصل کرسکیں۔روزے دار کو آخرت میں اس نعمت ِ غیر مترقبہ سے نوازا جائے گا جس کے حصول کے لئے شہید بار بار اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کی آرزو کرے گا۔حضرت ابوہریرۃ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: آدم کے بیٹے کا نیک عمل کا اجر جتنا اللہ چاہے بڑھا دیا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ روزہ اس سے مستشنی ہے کیونکہ وہ میرے لئے ہے۔

اور میں بھی اس کی جزا دوں گا۔اس حدیث مبارکہ سے یہ چیز واضح ہوتی ہے کہ بعض اعمال کا ثواب صدق نیت اور اخلاص کی وجہ سے دس گنا سے بڑھ کر سات سو گنا تک بلکہ بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ ثواب ہوتا ہے لیکن روزہ کا ثواب بے حد اور بے اندازہ ہے۔ یہ کسی ناپ تول اور حساب کا محتاج نہیں ہے۔ اس کی مقدار اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ہے۔رمضان میں عورتوں کو چاہئے کہ کھانا پکاتے وقت پاکی کا ضرور خیال رکھیں اور اپنے بالوں کو کھانے میں یا آٹے میں گرنے سے بچائیں کیونکہ طہارت نصف ایمان ہے اور بال مکروہ ہیں اگر یہ کھانے میں یا آٹے میں شامل ہو جائے تو کھانے کو بھی مکروہ کر دیتے ہیں اور مکروہ کھانے سے افطار کرنا ادب کے خلاف ہے ۔اس لئے اگر طیب کھانے سے افطار کیا جائے گا تو رزق میں وسعت ہو گی اور دولت نہروں کی طرح بہتے ہوئے آئے گی۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔آمین

About soban

Check Also

دانتوں میں خول اور کیڑا لگ جانے کا دیسی علاج

دانتوں میں خول اور کیڑا لگ جانے کا علاج کے لیے آپ کوآسان گھریلو نسخہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *