ایک چیز اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ ؟

دل آزاری کا ایک لمحہ اتنا طاقتور ہو سکتا ہے کہ دلداری کی پوری زندگی کو نیست و نابود کرسکتا ہے۔انسان جس کو مشکل سمجھ رہا ہوتا ہے اللہ کی نگاہ میں وہ آسانی ہوتی ہے انسان جس کو سزا سمجھتا ہے در حقیقت وہ عطا ہوتی ہے بس وقت کو کچھ وقت دینا ہوتا ہے ۔ پھر پتہ چلتا ہے کوئی دیر ، دیر تھی ہی نہیں جو دیر تھی وہ تو سراسر خیر تھی۔لفظ آپ اور تم دونوں کا مطلب ایک ہی ہوتا ہے پر اس سے بولنے والے کی تربیت کا پتہ چلتا ہے۔اللہ پاک کا بنایا ہوا ہر شخص مکمل اور خوبصورت ہے بس خامی اور کمی تو ہمارے اخلاق اور برائیوں میں ہے۔اگر کسی بیٹی یا بہن کو تمہاری وجہ سے راستہ بدلنا پڑے تو گلی کے کتے اور تم میں کوئی فرق نہیں ۔کبھی کبھی ڈھیروں لفظ ہونے کے بعد بھی بولنے کو دل نہیں چاہتا نہ بتانے کے لئے نہ جتانے کے لئے نہ ہمدردی کے لئے۔کتنا خوبصورت احساس ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے دل کی بات کرتے ہیں اوروہ سب کچھ پہلے سے جانتا ہے لیکن پھر بھی ہمیں سننا چاہتا ہے ۔

اللہ جب بہترین سے نوازتا ہے تو پہلے بدترین سے گزارتا ہے۔کبھی بھی کسی کو نیچی نظر سے مت دیکھو کیونکہ تمہاری جو حیثیت ہے یہ تمہاری قابلیت نہیں بلکہ اللہ کا تم پہ کرم ہے۔قابل غور بات ہے کہ یہ کیسا دور ہے یہاں کوئی اپنے دکھ سے اتنا دکھی نہیں جتنا دوسروں کے سکھ سے دکھی ہے ۔حضرت ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ سے یہ روایت کیا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے میرے بندو! میں نے اپنے اوپر ظلم کو حرام کیا ہے اور میں نے تمہارے درمیان بھی ظلم کو حرام کر دیا، لہٰذا تم ایک دوسرے پر ظلم نہ کرو، اے میرے بندو! تم سب گمراہ ہو، سوائے اس کے جسے میں ہدایت دوں، سو تم مجھ سے ہدایت طلب کرو، میں تمہیں ہدایت دوں گا، اے میرے بندو! تم سب بھوکے ہو سوائے اس کے جسے میں کھانا کھلاؤں، پس تم مجھ سے کھانا طلب کرو، میں تمہیں کھلاؤں گا، اے میرے بندو! تم سب بے لباس ہو سوائے اس کے جسے میں لباس پہناؤں، لہٰذا تم مجھ سے لباس مانگو میں تمہیں لباس پہناؤں گا،

اے میرے بندو! تم سب دن رات گناہ کرتے ہو اور میں تمام گناہوں کو بخشتا ہوں، تم مجھ سے بخشش طلب کرو، میں تمہیں بخش دوں گا، اے میرے بندو! تم کسی نقصان کے مالک نہیں ہو کہ مجھے نقصان پہنچا سکو اور تم کسی نفع کے مالک نہیں کہ مجھے نفع پہنچا سکو، اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ متقی شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت میں کچھ اضافہ نہیں کر سکتے اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول و آخر اور تمہارے انسان اور جن تم میں سے سب سے زیادہ بدکار شخص کی طرح ہو جائیں تو میری بادشاہت سے کوئی چیز کم نہیں کر سکتے۔ اور اے میرے بندو! اگر تمہارے اول اور آخر اور تمہارے انسان اور جن کسی ایک جگہ کھڑے ہو کر مجھ سے سوال کریں اور میں ہر انسان کا سوال پورا کر دوں تو جو کچھ میرے پاس ہے اس سے صرف اتنا کم ہو گا جس طرح سوئی کو سمندر میں ڈال کر (نکالنے سے) اس میں کمی ہوتی ہے، اے میرے بندو! یہ تمہارے اعمال ہیں جنہیں میں تمہارے لئے جمع کر رہا ہوں، پھر میں تمہیں ان کی پوری پوری جزا دوں گا، پس جو شخص خیر کو پائے وہ اللہ کی حمد کرے اور جسے خیر کے سوا کوئی چیز (مثلاً آفت یا مصیبت) پہنچے وہ اپنے نفس کے سوا اور کسی کو ملامت نہ کرے۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *