رمضان میں وہ دس کام جن سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے

رمضان کا مہینہ آگیا ہے۔ کیا کریں گے ؟ روزہ رکھیں گے۔ کیا کروگے ؟ بھوکے رہیں گے۔ میری عادت ہے بیا ن کرتے ہوئے بار بار پانی پیتا ہوں ۔ لیکن میرا اللہ کہتا ہے کہ شام کو پینے دوں گا۔ ابھی چھوڑ دو۔ روزہ رکھیں ۔ بھو کے رہیں گے ۔ نماز پڑھیں گے۔ تراویح پڑھیں گے۔ غیبت نہیں کریں گے ۔ جھ وٹ نہیں بولیں گے۔ گالی نہیں دیں گے۔ غلط نہیں دیکھیں گے۔ ایک ہوتا ہے صوم ۔ ایک ہوتا ہے صیام ۔ قرآن نے دونوں لفظ بولے ہیں۔ “یا ” اور “و” سے تھوڑا سا فرق ہے۔ صوم کا معنی ہے کھاناپینا بند۔ صیام سر سے لے کر ہرکسی کا روزہ۔ دماغ غلط نہیں سوچ رہا۔ روزہ ہے۔

آنکھوں کا روزہ بے حیائی نہیں دیکھے گی۔ جس کی آنکھ بے حیا ہوجائے ۔ اس کا دل پتھر ہوجاتاہے۔ جس کی آنکھ حیا کے سلائی سرمہ آجائے ۔ساری دینا کے شی طان اسے گمراہ نہیں کرسکتے۔ جس کی آنکھ جھک گئی ساری دنیا کے شی طان سے اس سے گمراہ نہیں کرسکتے ۔ آنکھ کا روزہ ، کانوں کا روزہ گا نا نہیں سنیں گے۔ ح رام نہیں سنیں گے۔ غیبت نہیں سنیں گے۔ زبان کا رزوہ :کھانا نہیں ۔پینا نہیں ۔ غیبت نہیں ۔ گالی نہیں ۔ چغلی نہیں۔ شکایت نہیں۔ جھ وٹ نہیں ۔ بہتان نہیں ۔

لگائی بجھائی نہیں۔ صرف کھانے کا پینا کاروزہ نہیں ۔ زبان کا روزہ الگ۔ کھانے پینے کا روزہ الگ۔ سینے کا روزہ بغض نہیں ، دل کا روزہ نفاق نہیں ، پیٹ کا روزہ ح ر ام لقمہ نہ جائے۔ ہاتھوں کا روزہ غلط نہیں تولنا۔ ہاتھوں کا روزہ غلط فائل سائن نہیں کرنی۔ ہاتھوں کاروزہ رشوت نہیں لینی۔ ہاتھوں کاروزہ ملاوٹ نہیں کرنی۔ ہاتھوں کاروزہ ناپ تول میں کمی نہیں کرنی ہے۔ ہاتھوں کاروزہ سونے چاند ی میں ملاوٹ نہیں کرنی۔ ہاتھوں کا روزہ تھپڑ نہیں مارنا۔ پاؤں کا روزہ تکبر سے نہیں چلنا۔ پاؤں کاروزہ اکڑ کرنہیں چلنا۔ پورے وجود کا روزہ ۔ عورت کا روزہ جسم نظرنہ آئے۔ بدن میں چھپ جائے اور لباس چھپ جائے ۔

پورے وجود کا روزہ جس عورت اور مرد نے رکھا۔ مبارک اللہ مل گیا۔ اللہ ملا اس کی جنت ملی ۔ اللہ ملا اس کے خزانے ملے۔ اللہ ملا اس کی رضا ملی۔ اللہ ملا اس کی جنت ملی۔ اللہ کو پانے کا مہینہ آؤ روزہ رکھیں۔ پیا س سے نہ گھبراؤ۔ ۔ فرض سترفرضوں کے برابر ہوجائے گا۔ نفل فرضوں کے برابر ہوجائےگا۔تراویح کے ہرسجدے پر ڈیڑھ ہزار نیکی لکھی جائے گی۔ہر روز تراویح میں چالیس سجدے ۔ اور روزانہ چالیس سجدوں پر ساٹھ ہزار نیکیاں ملیں گی۔ اور ہر سجدے پر جنت میں ایک سرخی یاقوت کا محل اور ہر سجدے پر جنت میں ایک درخت جس کےنیچے سوسال گھوڑا دوڑ سکتا ہے۔روزہ خوبصورت بناؤ۔ ہر شے روزہ رکھے تو اللہ آپ کا ہوگیا۔ اور اللہ کے نبی کو ساتھ رکھو۔ اس دل کو دھو دو۔ اس دل کو صاف کرلو۔

آپ ﷺ نے اپنے بیٹے انس سے کہا میری عظیم الشان سنت صبح وشام اپنے دل کو صاف رکھا کر۔ کسی سے غیبت نہ رکھ۔ کسی سے گلا نہ رکھ۔ کسی بغض نہ رکھ۔ کسی کو نقصان پہنچانے کی نیت نہ کر۔اے میرے بیٹے انس اس دل کو تمام انسانوں کے بغض سے پاک کردے۔ہم کہتے ہیں کہ میں اس کو نہیں چھوڑنا۔ میں یہ کردوں گا۔ یہ سب شیطانی جملے ہیں۔ اللہ کے واسطے معاف کرو۔ میرے بیٹے انس جو میری اس سنت کی پیروی کرے گا ۔ وہ مجھ سے پیار کرے گا۔ اور جو مجھ سے پیار کرے گاوہ جنت میں میرے قریب ہوجائےگا۔ ایک حدیث سنا تا ہوں۔ آپؐ مسجد میں ہیں۔ اس دروازے سے جنتی آرہا ہے۔ ایک انصاری ادھیڑ عمر کالی سفید داڑھی۔ ہاتھ میں جوتا۔ وضو کا تازہ پانی داڑھی سے گر رہاتھا۔

اگلا دن وہی وقت اس دروازے جنتی آرہا ہے۔ تھوڑی دیر بعد وہی وقت ، وہی صحابی ، وہی وضو کا پانی داڑھی سے گررہا ہے۔ اگلے وہی وہی وقت اس دروازے جنتی آرہا ہے۔ وہی وقت ، وہی صحابی ، وہی حلیہ اور وضو کا پانی داڑھی سے گر رہا ہے۔ اس محفل میں ایک صحابی ہیں۔ ان کا نام عبداللہ بن عامر بن عاص رضی اللہ عنہ ہیں۔ یہ ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابیوں میں سے سب سے زیادہ عبادت والے صحابی ہیں۔ ساری رات نفل ۔ سارا سال روزہ ۔ اور دن رات میں ایک قرآن کا ختم ۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *