کسی کو آسانی سے مت مل جانا لوگ سستا سمجھ لیتے ہیں عزت کروانے والی قیمتی باتیں

کسی کو آسانی سے مت مل جانا لوگ سستا سمجھنے لگتا ہیں۔ انگلیاں ہمیشہ وہی اٹھاتے ہیں جن کی اوقات نہیں ہوتی نظر ملانے کی۔ آزمائے ہوئے کی دوبارہ آزمائش کرنا اور ہر شیریں زبان کو دوست سمجھ لینا خطرنا ک ہے۔ کسی کی حوصلہ شکنی مت کرو ہوسکتاہے وہ اپنی آخر ی امید لے کر چل رہا ہو۔ طلب مارڈالتی ہے اگر رب کے علاوہ کسی اور سے ہو۔ جس کو شکر گزاری کی نعمت عطاہوئی سے مزید نعمتیں حاصل ہونے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ مسکراہٹیں جھوٹی بھی ہوا کرتی ہیں جناب انسان کو دیکھنا سمجھنا سیکھو۔ صرف ایک بہانے کی تلاش میں ہوتا ہے نبھانے والا بھی، جانے والا بھی۔ زبردستی کی نزدیکیوں سے سکون کی دوریاں بہتر ہیں۔ الفاظ کو نکھارو آواز کونہیں کیونکہ پھول بارش میں کھلتے ہیں نہ کہ طوفانوں میں۔ عظیم لوگ وہ ہوتے ہیں جو درد کے صحراؤں میں بیٹھ کر دنیا کو گلستا ن کی خبر دیتے ہیں۔

دل ایک ایسا آئینہ ہے کہ اگر یہ ب دی سے پاک ہو تو اس میں سب کچھ نظر آسکتا ہے۔بدلہ لینے سے پہلے ضرور خیال کر لیا کرو کہ تم اپنے اللہ کے نزدیک کتنے قصو ر وار ہو۔ تمام انسانوں کو جو بھی بھلائی حاصل ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی عنایت ہوتی ہے اور جو بھی مصیبت آتی ہے وہ اپنے اعمال کا ہی نتیجہ ہے۔ برا وقت وہ شفاف آئینہ ہے جو بہت سےچہرے صاف کردیتاہے ۔

اور اچھا وقت ایسا باد ل ہے جو تیز دھوپ کو بھی روک لیتاہے۔ اچھے تعلقات اور بری عادت کی طاقت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب انہیں چھوڑنا پڑتا ہے۔ سب سے اچھی زندگی و ہ بسر کرتے ہیں جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے اللہ کے سوا کسی اور پر بھروسہ نہیں کر تے ۔ رشتوں کا نہ ہونا اتنا تکلیف دہ نہیں ہوتا ، جتنا رشتوں کے ہوتے ہوئے احساس کا مرجانا۔ ایک اعرابی کا قول ہے

کہ سب سے اچھے حالت وہ ہے جس میں تم سے نیچے والے تم پر رشک کریں اور تم سے اوپر والے تمہیں حقیر نہ جانیں۔ جس کے اخلاق برے ہوں اس سے جدائی ہی اچھی ہے اور جس کے اخلاق اچھے ہوں اس سے ملاقات اچھی ہے جب تقدیر غالب آتی ہے تو ہر تدبیر دھری رہ جاتی ہے۔ سب سے اچھی خصلت ادب جبکہ بدترین کلا م جھوٹ ہے ۔ عاقل شخص کا گمان جاہل کے یقین سے زیادہ صیحح ہوتا ہے۔ اچھی چیزوں میں خود کو مصروف نہیں کرو گے تو بری چیزوں میں خود ہی مصروف ہوجاؤ گے۔ انسان شیطان کو اپنا بدتر ین دن سمجھتا ہے۔ لیکن شیطان کی بات ایک بہترین دوست کی مانند مانتا ہے۔

سب سے اچھی زندگی وہ بسر کرتے ہیں ، جو اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے اللہ کے سوا کسی اور پر بھروسہ نہیں کرتے۔ علم ایک درخت ہے ۔ الفاظ اس کے پتے ہیں اور عمل اس کا پھل ہے۔ تعلق مختصر ہی سہی منافقت س پاک ہونا چاہیے۔ اپنی تنہائیوں کو پاک کرلو اللہ تعالیٰ تمہاری عزتوں کو بڑھا دے گا۔ راستہ کبھی بند نہیں ہوتا بس چھپا ہوا ہوتا ہے اس کو ڈھونڈنے کی کوشش راستہ ملنے تک جاری رکھنی چاہیے۔ کیونکہ جب سب راستے ختم ہو جائیں۔ وہیں سے راستے نکلتا ہے ، جب اندھیرا گہر ا ہوجائے تو وہاں سے روشنی پیدا ہوتی ہے۔

About soban

Check Also

”زندگی میں اگر خوشی چاہیے تو تین با تیں اپنے ساتھ باندھ لو او ر غم کو ہمیشہ کے لیے نکال دو۔“

اچھی کتابیں اور سچے لوگ ہر کسی کو سمجھ نہیں آتے! دنیا میں کوئی نہ …

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *